منصفانہ انتخابات کے لئے شفاف ماحول موجود ہے؟
31 مئی 2018 2018-05-31

پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل اور استحکام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات پر ہی منحصر ہے۔ آئندہ انتخابات اس لئے بھی فیصلہ کن ہوں گے کہ بعض بنیادی باتیں طے کرلیں گے۔ ایک طرف نواز شریف کا بیانیہ ہے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ ۔ اس بیانیے میں سویلین اختیارات ، پارلیمنٹ کی بالادستی ، پڑوسیوں سے دوستی وغیرہ کے نکات پنہاں ہیں۔دوسری طرف کرپشن کے الزامات اور یہ کہ ہر حال میں نواز لیگ اقتدار سے باہر رہے۔ لہٰذا یہ انتخابات ملک کے تمام ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے لئے بھی امتحان ہیں۔ صرف وہی حکومت ملک کو درپیش سنگین مسائل کا حل تلاش کر تی ہے جس کو عوام کا واضح مینڈیٹ حاصل ہوگا۔ اگر یہ انتخابات کسی وجہ سے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ نہیں ہوتے، تو ملک کا سیاسی نظام اور جمہوری عمل ہی نہیں بلکہ مخصوص جغرایائی محل وقوع اور خطے کے حالات کی وجہ سے ملک کو دیگر متعددخطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں پہلے کے مقابلے میں منصفانہ انتخابات کے لئے قوانین کا فریم ورک پہلے سے کہیں بہتر ہے۔الیکشن کمیشن کو آئینی اور قانونی مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن عملاً یہ انتخابات اس صورت میں منصفانہ ہو سکتے ہیں جب اس میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں اور امیدوار وں کو یہ اندازہ ہو کہ غیر منصفانہ انتخابات کی صورت میں کتنی بربادی ہو سکتی ہے۔ اس بات کا اطلاق ملک کے اہم اداروں پر بھی ہوتا ہے۔
انتخابات سے پہلے جو ماحول جڑتا ہے وہی طے کرتا ہے کہ انتخابات کس طرح کے ہونگے؟ سینیٹ کے انتخابات کی طرح عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بھی شکوک پیدا ہوگئے۔ ویسے اس طرح کے شکوک بھی انتخابات کی منصفانہ ہونے کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔ گزشتہ دو سال میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جس کے بعد یہ سوال ذہنوں میں اٹھ رہا ہے کہ کیا نئے انتخابات واقعی منصفانہ ہوں گے؟ یہ پختہ تأثر اس وجہ سے بھی بنا کر نواز شریف کے خلاف چلنے والے مقدمات اور حکومت کی کارکردگی کے بارے میں عدلیہ کے ایک حصے سے ناقدانہ اور سخت ریمارکس آتے رہے ہیں ۔ اور ان ریمارکس کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بڑے پیمانے پر کوریج ہی نہیں بلکہ پذیرائی دی گئی۔ یہ صورت حال سندھ حکومت کے بارے میں بھی رہی لیکن زیادہ تر رخ وفاقی یا نواز لیگ کی حکومت رہی۔
دھاندلی کیا ہے؟ وہ تمام سرگرمیاں جو انتخابات منعقد کرانے کے حوالے سے پاکستان کے تمام قوانین اور آئینی شقوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں نتیجتاًعوام اپنی پسند کے نمائندے منتخب کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں دھاندلی تین قسم کی ہوتی ہے۔ انتخابات سے قبل، پولنگ کے روز اور پولنگ کے بعد۔ ووٹوں میں ہیرا پھیری یا دھاندلی انتخابی عمل میں غیر قانونی مداخلت جس سے کسی امیدوار یا پارٹی کے ووٹ بڑھ جائیں یا کسی کے کم ہو جائیں دھاندلی کہلاتے ہیں۔ انتخابات میں جب ووٹوں کا فرق کم ہو، معمولی ہیراپھیری نتائج بدل دیتی ہے۔ کبھی پورے نظام میں ایک دھاندلی ہوتی ہے، جس کا بظاہر الیکشن سے تعلق ہوتا ہے۔ کسی ایک امیدوار کو اس پورے نظام میں فائدہ یا نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن یہ قدم یا واقعہ الیکشن کے نتاتئج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طرح کے واقعات مختلف ممالک بشمول امریکہ میں بھی ہوتے رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ تینوں طرح کی دھاندلی ہوتی رہی ہے۔ ماضی میں الیکشن سے قبل والی دھاندلی نے انتخابات کو غیر جانبدار اور منصفانہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
الیکشن کے روز کی دھاندلی کے بارے میں شورو غل زیادہ ہوتا رہا ہے لیکن دراصل یہ دھاندلی بہت ہی ہلکی اور کم ہوتی رہی ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اور دیگر ٹیکنالوجی کی وجہ سے دھاندلی کے امکانات خاصے کم ہو گئے ہیں۔
انتخابات کے بعد والی دھاندلی بڑی شکل میں 1970ء کے انتخابات کے بعد سامنے آئی جب اکثریت سے جیتنے والی پارٹی کو حکومت بنانے سے روکا گیا۔ ماضی میں اقلیتی نشستوں پر بھی دھاندلی کے واقعات ہوئے۔ اسی طرح کی دھاندلی کی ایک او رمثال 1988ء کے انتخابات میں بھی نظرآئی۔2002ء کے انتخابات کے بعد بھی اسی طرح سے ہوا۔ اور پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر جیت کر آنے والوں کو
نیب کے ذریعے ڈرا دھمکا کر حکومت کا حامی بنا دیا گیا۔ ووٹ خریدنا بھی دھاندلی کے دائرے میں آتا ہے۔ سنیٹ کے حالیہ انتخابات کے بارے میں بھی مضبوط رائے ہے کہ اس میں دھاندلی کی گئی۔ حقیقی اور بامعنی انتخابات وہ ہوتے ہیں جس میں لوگ یہ سمجھیں کہ ہم نے جن کووٹ دیا تھا، وہی امیدواران کامیاب ہوئے ہیں۔ انتخابات کا عمل فنی یا تکنیکی لحاظ پرچاہے کتنا ہی شفاف ہو، لیکن عوام اگر سمجھتے ہیں کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے، ایسے انتخابات نمائندہ اور عوام کی رائے اور امنگوں کی عکاسی نہیں کریں گے۔ جیسے انصاف کے لئے کہا جاتا ہے کہ ’’ نہ صرف یہ کہ انصاف ہو ، بلکہ لوگوں کو نظر آئے کہ انصاف ہوا۔ یہ اصول انتخابات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ لیجسلیٹو ڈولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرینسی (پلڈاٹ )نے 2018ء کے انتخابات سے قبل کی صورت حال پر سروے کے بعد ایک جامع رپورٹ مرتب کی ہے۔
پلڈاٹ نے پاکستان میں انتخابات کے منصفانہ انعقاد کے لئے گیارہ عوامل کو بنیادی اور فیصلہ کن قرار دیا ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے بارے میں عسکری اداروں کی غیر جانبداری، الیکشن کمیشن کا غیر جانبدار اورموثر ہونا، میڈیا کی ریاستی اداروں اور مستقل مفاداتی گروہوں سے آزادی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں نیب کے ذریعے جاری احتساب کے عمل کو غیر جانبدار رکھنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ان اداروں کے رویوں کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے ؟ یہی رائے انتخابات کے منصفانہ ہونے کو طے کرتی ہے۔ ان چار نکات کی بنیاد پر معاشرے میں ایک مضبوط رائے بن گئی ہے۔ جو انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونگے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ اور اس کے معزز جج صاحبان عام شہری کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے پر سوالات ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں بعض فیصلوں اور ججز کے ریمارکس کا حوالہ دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عدلیہ کی غیر جانبداری کے بارے میں عام تأثر یا رائے کو ٹھیس پہنچی ہے۔ پاناما کیس کا فیصلہ ’’ گاڈ فادر‘‘ ناول کے اس مقولے سے شروع ہوتا ہے کہ مافیا ڈان ۔۔ ’’ ہر بڑے اثاثے کے پیچھے جرم ہوتا ہے ۔‘‘
پانامہ کیس روز اول سے مقبولیت حاصل کرنے کے بجائے متنازع ہو گیا۔ سکیورٹی کمیشن اور سٹیٹ بینک کے بعض مخصوص افسران کی نامزدگی اور خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی وٹس ایپ کال کا معاملہ سامنے آیا۔ بعض سیاستدانوں نے یہ بیانات بھی دیئے کہ وہ عدالت کے ساتھ ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ عدلیہ کے حق میں سڑکوں پر بھی آسکتے ہیں۔
نواز شریف کی اس بنیاد پر نااہلی کہ اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینا اور اس کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنا بنایا گیا۔ جبکہ اس کی کرپشن کا مقدمہ سپریم کورٹ کے ججز کی نگرانی میں ابھی زیر سماعت ہے۔ اس سروے کے مطابق لوگوں کی اکثریت اس رائے سے متفق نہیں کہ ایک منتخب وزیراعظم کو صرف اس بنیاد پر نااہل قرار دے کر انتخابی عمل سے تاحیات باہر کردیا جائے۔ قانونی ماہرین عدلیہ کے دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں کیونکہ فریق کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہی نہیں۔ رپورٹ میں سینیٹر نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ ’’ سیلین مافیا ‘‘کی وکالت کر رہے ہیں۔
یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ عدالت نے جہانگیر ترین کو تو نااہل قرار دیا لیکن عمران خان کو نہیں۔ حالانکہ عمران خان کے خلاف اسی طرح کے الزامات تھے جو نواز شریف کے خلاف تھے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو نواز شریف جیسی ہی سزا ملنی چاہئے تھی۔ عدالت نے نواز شریف کو بطور صدر مسلم لیگ (ن) کے عہدے سے ہٹانے کے لئے الیکشن کمیشن کو کہا۔یہ بھی فیصلہ دیا گیا کہ نواز لیگ کے امیدوار صرف آزاد امیدوار کے طور پر سینیٹ کا انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ عسکری ادارے باضابطہ طور پر یہ کہتے رہے اور اس کا اعادہ بھی کر رہے ہیں وہ سیاست میں مداخلت نہیں کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جس چھ رکنی جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا۔ آرمی کے دو افسران بھی اس کے ممبر تھے۔ آرمی افسران کا تفتیش میں حصہ لینا مقبول رائے نہیں۔ کیونکہ عسکری اداروں کو غیر جانبدار رپنا چاہئے تھا۔ معاشرے میںیہ خیال مضبوطی سے موجود ہے کہ عسکری حلقوں میں منتخب حکومت کو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ عالمی میڈیا نے یہ تک کہا کہ جمہوریت کے پر کاٹنے کے لئے عدالتیں آرمی کا آلہ کار رہی ہیں۔ آرمی چیف نے ملکی معیشت کی صورت حال پر تنقید کی۔ ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ کرنے کی حمایت کی گئی اور کہا کہ ہر پاکستانی کو حق حاصل ہے کہ انتخابی عمل میں حصہ لے۔ پاکستان الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کردی تھی کہ یہ پارٹی جماعت الدعوۃ کا سیاسی محاذ ہے۔ پاک سرزمین کے مصطفی کمال نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر وہ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے ملے تھے۔ فیض آباد دھرنا ایک عسکری ادارہ کی ہی سہولت کاری سے ختم ہوا۔ اس سے پہلے آرمی چیف نے فیض آبا د دھرنا ختم کرانے کے لئے فوج بھیجنے سے معذرت کرلی تھی۔ بعد میں مولانا خادم حسین رضوی نے ایک پریس کانفرنس میں آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنا ایک نمائندہ بھیجا اور ہم نے ان سے معاہدہ کیا۔
بلوچستان میں ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور بعد میں عبدالقدوس بزنجو کا بطور وزیراعلیٰ انتخاب بھی اسٹیبلشمنٹ کی جوڑ توڑ سمجھا جارہا ہے۔ یہ واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ احتساب کے عمل کو غیر جانبدار نہیں سمجھا جارہا ہے۔ میڈیاکے بارے میں بھی یہ تاثر موجود ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے کنٹرول میں ہے یا پھر مستقل مفاد رکھنے والے گروہ حاوی ہیں جس کی وجہ سےّ زادی کے ساتھ اپنا کردار ادا نہیں کر رہا ہے۔ خیال ہے کہ یہ صورتحال انتخابی مہم کے دوران بھی جاری رہے گی۔ ہم ایک محدود جمہوریت میں رہتے ہیں، بعض اداروں کے رول کی وجہ سے طے شدہ نتائج حاصل کرنے کی تاریخ بھی رکھتے ہیں، اس وجہ سے شکوک اور شبہات بھی بہت ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر اس طرح کے اقدامات سے پیدا ہونے والے تاثر کو ختم کرنے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے یا یہ سلسلہ جاری رہا تو انتخابات منصفانہ ، آزادانہ اور غیر جاندارانہ ہونا مشکوک ہو جائے گا ۔ اب جب انتخابی عمل باقاعدہ شروع ہو چکا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاثر کو ختم کرنے کے ٹھوس اور موثڑ اقدامات کئے جائیں۔


ای پیپر