الیکشن سے خوف زدہ سیاست دان
31 مئی 2018

میاں نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کے وزیر اعظم بنے، اب وہ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلا اعلان یہ کیا تھا کہ وہ نواز شریف کی پالیسیوں اور پروگرام کو جاری رکھیں گے۔ عباسی نے 31 مئی کی رات بارہ بجکر ایک منٹ تک اپنا وعدہ پورا کیا انہوں نے نہ صرف نواز شریف کے جاری ترقیاتی منصوبوں کو تاخیر سے بچایا بلکہ ان کو آگے یا جو کام ابھی مکمل ہوئے بھی نہیں ہیں ان پر بھی افتتاح کی تختیاں لگا دیں۔ مسلم لیگ ن اور شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بننے سے روکنے اور مسلم لیگ (ن) کو تقسیم کرنے کا جو منصوبہ بنا تھا وہ بھی ناکام بنایا ۔ کپتان اور شیخ رشید اور چھوٹے موٹے اپوزیشن لیڈر کو مسلم لیگ (ن) کے باغی ارکان کی تعداد 60 بتاتے تھے۔ عباسی نے اس منصوبے کو بھی ناکام بنایا ۔ شیخ رشید جو کہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی ایسا انتظام کر ے گی کہ سب کچھ تہہ و بالا ہو جائے گا ۔ مگر دوسری جانب حکمت عملی ایسی تھی کہ وزیر اعظم کے امید وار شیخ رشید کو انتخاب میں پھڑ پھڑانے کا موقع بھی نہیں ملا۔ شاہد خاقان عباسی ایسے پر آشوب سیاسی حالات میں وزیر اعظم بنے ایک طرف اسٹیبلشمنٹ تھی دوسری جانب عدلیہ کے حکم ناموں سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت شکنجے میں آ رہی تھی۔ مشکل وقت نیب کا ادارہ بھی متحرک ہوا۔ مرکز اور پنجاب کے افسروں کو احتساب کے نام پر رگڑا لگانے کا منصوبہ کارگر ثابت ہوا جب بڑی تعداد میں موسم گرما کی چھٹیاں منانے کے لیے رخصت لے لی۔’’ پناما‘‘ کے نام پر جو تماشا ہوا اس میں بھی کافی سنجیدہ سوالات تھے۔ مذہبی تنظیموں کو حکومت کے خلاف اُبھارا گیا۔ فیض آباد کا دھرناتھا اس کے پیچھے کون تھا اس کا جواب تاریخ وقت آنے پر دے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ خاقان عباسی نے نواز شریف کی جانشینی کا درست حق ادا کیا وہ دباؤ اور زبردست دباؤ کے باوجود نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے رہے۔ان کے قدم اقتدار کی لالچ میں کسی لمحے نہیں لڑکھڑائے وہ اس وقت بھی نواز شریف۔۔ہائی جیکر کے ساتھی بنے۔ ان کا سب سے اہم کارنامہ اپوزیشن لیڈر سے مل کر نگران وزیراعظم کا انتخاب ہے بڑی دانش اور حکمت سے ایسے شخص کو وزیر اعظم جب منوا لیا جس نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلہ دیا۔ ناصر الملک تو عباسی کی حکمت عملی سے نگران وزیر اعظم بن چکے وہ عبوری قوتوں کی امید بنیں گے ایک شفاف انتخابات کا راستہ ہموار کریں گے۔ عباسی کے رخصت ہوتے ہی وہ نظام ملک اسی طرح چلے گا۔ سی پیک کے منصوبے اسی طرح جاری رہیں گے اور وہ ایک مضبوط معیشت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ مگر جاتے جاتے انہوں نے پری پول رگنگ کا سوال بھی اٹھایا اگر خاقان عباسی کے دس ماہ دور حکومت اور مسلم لیگ سے ان کی وفاداری کو پرکھا جائے تو آنے والے انتخابات میں وہ سابق خادم اعلیٰ شہباز شریف کے بعد مسلم لیگ کے مضبوط وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے ان کی مسلم لیگ (ن) سے طویل وفاداری ہے وہ نواز شریف کے طیارہ سازش کے مقدمہ وار تھے۔ چھ مرتبہ ممبر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں ۔ آنے والے انتخاب میں بھی وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ پورے پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کو مضبوط طر بنانے میں اپنا حصہ ڈالا خاص طور پر بڑی تعداد میں وفاداریاں بدلنے والوں سے مسلم لیگ کو نقصان نہیں پہنچنے دیا۔ کیونکہ راولپنڈی سے ساہیوال تک خاص طور پر ’’جی ٹی روڈ ‘‘ کے امیدواروں کو پارٹی کے ساتھ رکھا۔ تقریباً سو لوٹوں کے ساتھ ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت کافی
پریشان ہے۔ خاص طور پر اندرونی گروہ بندی اتنی شدید ہے کہ کپتان کے پاس پارٹی میں اختلاف ختم کرانے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ خاص طور پر 18 ویں ترمیم کے بعد نگران حکومتوں کا طریقہ طے ہوا تھا۔ لوگ اور خاص طور پر سیاست کے لیے اچھی خبر تھی۔ بات یہ نہیں بلکہ سیاست دان ایک دوسرے کے کپڑے دھونے کے باوجود اچھے کام بھی کر سکتے ہیں ایسا انہوں نے کر کے دکھایا بھی اور سب سے مشکل کام تو پنجاب میں ہوا جب ناصر کھوسہ کا نام نگران وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے آیا مسلم لیگ ن نے بھی اس کا خیر مقدم کیا کہ وہ انتخاب کو شفاف بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اب تحریک انصاف نے یہ نام واپس لے لیا ۔ وجہ یہ بتائی ان کے نام پر شدید تحفظات ہیں۔ نام واپس کیا لیا کپتان اور اس کی جماعت شدید دباؤ میں آ گئی۔ ناصر کھوسہ ایک قابل افسر ہیں ۔ نواز شریف سب سے آگے نکل گئے۔ یہ تعریف تو عمران خان کو کسی طور پر گوارا نہیں تھی پھر اصل سوال تو تحریک انصاف کی اندرونی لڑائی سے جڑا ہوا ہے۔ جب ناصر کھوسہ کو (ن) لیگ کا امیدوار قرار دیا ۔ غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے جماعت سو روز کا طوفانی پروگرام چند یوم پہلے دے کر ہوائی قلعہ تعمیر کر چکی تھی اسے اب یہ اعتراض ہے کہ کھوسہ کے آنے سے یہی لگے گا کہ شہباز شریف کی حکومت ابھی تک قائم و دائم ہے۔ پھر اچانک نام واپس کے کر تحریک انصاف نے اپنے لیے یہ سوال پیدا کر لیا ہے کہ لوٹوں کی مدد سے اقتدار میں آنے کے باوجود یہ جماعت نیا پاکستان ایسا ہی بنائے گی جس میں نہ قوت فیصلہ ہو گی نہ دانش اور حکمت عملی پیپلز پارٹی نے بھی کپتان کے فیصلے بلکہ یوٹرن پر سوال اٹھایا ہے بلکہ پوچھا بھی ہے کیا غیر سنجیدہ فیصلوں سے ملک چلتے ہیں ؟ یقیناًیہ اہم سوال ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں نئی قائم ہونے والی جماعت کی حالت کافی پتلی ہے کہ جو ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ نگران وزیر اعلیٰ کون ہو گا ۔ وہاں تو مارا ماری ہو رہی تھی۔ فیصلہ کیا ہوتا بلوچستان اسمبلی میں دنگا فساد کا یہ عالم تھا کہ اراکین اسمبلی ایک دوسرے کو مارنے کے لیے بھاگ اور دوڑ رہے تھے۔ پختونخواہ میپ اور حکومتی ارکان کے درمیان خوب ہنگامہ آرائی ہوئی مگر جاتے جاتے بلوچستان اسمبلی نے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ الیکشن کو ملتوی کر دیا جائے ایسی حکومت جو بلوچستان میں ایک سازش کے ذریعے قائم ہوئی اس سے اچھائی کی توقع بے معی ہے۔ جواز یہ بنایا گیا ہے شدید گرمی ہے۔ لوڈ شیڈنگ ہے کچھ لوگوں نے حج کا فریضہ ادا کرنا ہے۔ پاکستان بھی تو شلہ حبس اور لو کے موسم میں بنا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ جو لوٹا ازم کے فلسفے کے تحت وزیر اسمبلی بنے اس نے 11 مئی 2013ء کے انتخاب میں حصہ لیا۔ نارمل موسم کے باوجود وہ صرف 5 سو ووٹوں سے ہی رکن اعلیٰ بنے تھے۔ حقیقت یہ ہے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے انتخاب پر پاکستان میں عالمی دہشت گردی کا جو سوال اٹھایااس پس منظر میں بلوچستان اسمبلی کے انتخاب ملتوی کرنے پہ قرار داد ایک سازش سمجھی جائے گی۔ 1970 ء سے لے کر 2018 ء تک بلوچستان کے 65 فی صد لوگ تو ووٹ ہی نہیں ڈالتے رہے۔ اس رویے سے نہ تو گرمی کا تعلق ہے اور نہ لوڈ شیڈنگ کا اس متنازعہ قرار داد کو اپوزیشن نے بھی انتخاب ملتوی کرانے اور جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ اس قرار داد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے۔ ایک طرف یہ معاملہ ہے، دوسری جانب ایم کیو ایم بھی انتخاب ملتوی کرانے کی سازش کا حصہ بن کر میدان میں آ گئی ہے۔ متحدہ نے الیکشن کمیشن میں یہ درخواست ڈال دی ہے کہ کراچی میں شفاف مردم شماری کی بنیاد پر الیکشن کرائے جائیں۔ پرویز خٹک بھی یہ بولی بول رہے ہیں۔ اہم معاملہ تو حلقہ بندیوں کا تھا ۔ متحدہ سمجھتی ہے کہ کراچی میں مصطفی کمال اور پیپلزپارٹی کو راستہ دیا جا رہا ہے ۔ بڑی سیاسی جماعتیں پر عزم ہیں کہ انتخاب وقت پر ہوں۔ 25 جولائی کو توموسم اچھا ہوتا ہے۔ اچھے موسم کچھ لوگوں کو سوٹ نہیں کرتے جن کی جتنی مدد کوئی کر سکتا تھا ہو چکی اب سیاست دانوں کی قسمت کا فیصلہ پولنگ اسٹیشن پر ہو گا۔ مگر تحریک انصاف کو وقت درکار ہے کہ پارٹی کی اندرونی لڑائیوں کو سنبھالا جائے ایک گروپ جہانگیر ترین کے کردار کو پسند نہیں کرتا۔ دوسرا گروپ چودھری سرور کو پنجاب اسمبلی سے باہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ موجودہ منظرنامے میں بین الاقوامی جریدے اکانومسٹ نے اپنی انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کے آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) جیت جائے گی لیکن پاکستان میں سیاسی استحکام کو لاحق خطرات بدستور قائم رہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی وجہ یہ بتائی ہے کہ پنجاب میں زبردست حمایت کی بنیاد پر نواز لیگ الیکشن جیت جائے گی۔ اہم سوال اٹھایا ہے جو پنجاب سے جیتے وہ پاکستان کا حکمران ہوتا ہے۔ بھٹو کو بھی 1977 ء میں قومی اسمبلی کی 115 نشستیں صرف پنجاب سے ملی تھیں۔ پیپلزپارٹی کو 1977ء کے بعد سے پنجاب میں حکومت بنانے کا موقع نہیں ملا۔ پنجاب ہی نہیں مسلم لیگ (ن) کے پی کے سے بھی اچھی کارکردگی دکھائے گی۔ مسلم لیگ اگر کامیاب ہو گی تو اس کے سامنے نیب کے ادارے کو بدلنا ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ کی حدود طے ہوں گی۔ عدالت عظمیٰ کی سول امور میں مداخلو بھی روکنا پڑے گی مگر ایسے وقت پر جو لوگ انتخاب ملتوی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ شکست سے خوفزدہ ہیں۔ یہ رویہ جمہوریت کا دشمن ہے۔


ای پیپر