جلتا ہے ذہن کشفِ حقائق سے رات دن

31 مئی 2018

ڈاکٹر ابراہیم مغل

پاک فوج کی سرزمین پاکستان کی اور اس کے عوام کے لیے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ آپریشن رد الفساد کے زیر عنوان جو وطن عزیز میں دہشت گردی کا خاتمہ قریباً قریباً ہوچکا ہے ، اس میں قابل فخر کامیابی ہماری فوج کی جانی قربانی کے نتیجہ ہی میں ممکن ہو سکی ہے ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ، ابھی چند روز پہلے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن میں دو خود کش بمباروں سمیت تین انتہائی خطرناک دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ مگر یہ کامیابی فوج نے ٹھنڈی گاڑیوں اور آرام دہ دفاتر میں بیٹھ کر حاصل نہیں کی۔ بلکہ اس میں ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل سہیل عابد نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے جوان شدید زخمی بھی ہوئے۔ مگر قارئین کیا آپ جانتے ہیں کہ ان قربانیوں کے جواب میں پاکستان کے شرپسند عناصر کی جانب سے فوج کو کیا صلہ پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ؟ میں بتاتا ہوں۔ بڑے بڑے بقراط ٹی وی پر بیٹھ کر خود کو دنیا کے سب سے بڑے ماہر معاشیات ظاہر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پاکستان کے 5900 ارب بجٹ میں سے گیارہ سو ارب فوج لے لیتی ہے ۔ اگر ان کی گیارہ سو ارب والی بات کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو سنتے جائیں کہ اسی بجٹ میں سے پاکستان کی سات لاکھ فوج کو تنخواہ دی جارہی ہے ۔ اسی بجٹ میں سے دنیا کی نمبر ایک ایجنسی چلائی جارہی ہے ۔ اسی بجٹ میں سے دشمن کی تین خطرناک جنگی ڈاکٹرائن کا مقابلہ کیا جارہا ہے ۔ اسی بجٹ میں سے دنیا کا پانچواں بڑا نیوکلیئر پروگرام چلایا جارہا ہے ۔ اس نیوکلیئر پروگرام میں جو پیش رفت ہورہی ہے وہ اس حقیقت کی غماز ہے کہ وہ دن دور نہیں جب یہ دنیا کا تیسرا بڑا خطرناک ایٹمی پروگرام بن جائے گا۔ بار بار یاد دلانا پڑتا ہے کہ یہی دنیا کی وہ فوج ہے جس نے اپنے عوام اور اپنے وطن کی حفاظت کی خاطر کم و بیش پندرہ ہزار جانوں کی قربانی دی ہے ۔ یہ پندرہ ہزار فوجی بھائیوں کے لہو کی بدولت ہی ممکن ہوتا ہے جو یہاں کے عوام رات کو اپنے گھروں میں اپنے خاندان کے ہمراہ پرسکون نیند سوتے ہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ فوج ہی سیلاب، طوفان اور زلزلوں کی جانب سے لائی گئی تباہیوں کے جواب میں عوام کے سروں پر ہاتھ رکھ کر انہیں اپنے اکیلے نہ ہونے کا احساس دلاتی ہے ۔ اور اگر یہاں پولیو کی مہم کامیابی سے چلنا شروع ہوئی تو یہ بھی صرف فوج کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے ۔
اب ذرا رکیے فوج کو گیارہ سو ارب کا طعنہ تو انہوں نے دے دیا مگر اب وہ یہ بھی تو بتائیں کہ باقی کے 4800 ارب جو جمہوریت کے نام پر لے لیے جاتیں ہیں ان کا حساب کیا ہے ؟ وہ کہاں جاتے ہیں؟ اگر وہ کہیں کہ پی آئی اے پر لگائے جارہے ہیں تو پی آئی اے کی حالت زار کا تو اب کوئی دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اگر سٹیل مل پر لگانے کی بات کریں تو وہ جس قسم کے نقصان میں جاری ہے اس سے نکلنے کا کوئی بھی طریقہ سجھائی نہیں دیتا۔ پولیس کے محکمے کو چلانے کے لیے بھی اسی بجٹ میں سے خرچہ کرنا پڑتا ہے ۔ مگر پولیس کا حال احوال بھی آپ کے سامنے ہے ۔ اگر صحت پر لگانے کی بات کی جائے تو سرکاری ہسپتالوں کی حالت تو یہ ہے کہ ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے ہوئے ہیں۔ زچہ خواتین ہسپتال کے صحن، برآمدے یا کاریڈور میں بچے جننے پر مجبور ہیں۔ صحت کے علاوہ ایک محکمہ تعلیم کا بھی ہے ۔ مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز کے ڈیڑھ کروڑ بچے سکولوں سے باہر رُل رہے ہیں۔ تو پھر اس مقام پہ فوج کو طعنے دینے والوں کو جو ا باً سمجھ جا نا ہیے کہ کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے ۔ اور پھر فوج دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینے اور سرحدوں کی حفاظت کی خاطر قربانیاں دینے کے علاوہ جمہوری اور انتظامی اداروں کی بھی مدد کرتی ہے ۔ اگر آج پاکستان میں بجلی چوری کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی تو یہ فوج کی مددسے ہی ممکن ہوسکا ہے ۔ بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں کا دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ ہوجانا روز کا معمول بن چکا تھا۔ اس کی روک تھام صرف فو ج کی مدد کی بناء پر ہی ممکن ہوسکی ہے ۔ وطن عزیز کا آگے کی جانب بڑھنے میں اہم ترین سنگ میل کو عبور کرنا کراچی میں امن کی واپسی کی صورت میں ممکن ہوا ہے ۔ کراچی میں امن کو بحال کرنے کے سلسلے میں پاک فوج کی قابل فخر کامیابی مبارک باد کی مستحق ہے ۔ آج کا کراچی امن کی طرف واپس آچکا ہے ۔ وہاں راتوں کی زندگی بحال ہوچکی ہے ۔ پھر اگر وطن عزیز میں مردم شماری کے کامیابی سے ہمکنار ہونے کی بات کی جائے تو وہ بھی فوج کی مدد سے ہی ممکن ہوسکاہے۔ را، موساد اور سی آئی اے دنیا کی جانی پہچانی خطرناک ایجنسیاں ہیں، ان کا مقابلہ آئی ایس آئی ہی تو کرتی ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی پراجیکٹس کو ہمیشہ دہشت گردی سے خطرہ رہتا ہے ۔ ایٹمی پراجیکٹس کی حفاظت بھی تو فوج ہی نے اٹھائی ہوئی ہے ۔ ریلوے پٹریوں کی حفاظت کرنا اور جیسا کہ اوپر تحریر کرچکا ہوں کہ پولیو کے قطروں کے پلانے کی مدد سے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی حفاظت کرنا بھی فوج کی مدد سے ممکن ہوا ہے ۔ ان حالات میں کیا یہ ضروری نہیں ہوچکا کہ پولیس اور انتظامیہ جو سالانہ 600 ارب روپیہ کھاجاتی ہیں اور اگر ان کا کام بھی اگر فوج ہی نے کرنا ہے تو پولیس اور بابوؤں کی امداد آدھی کردی جائے۔ یوں اس سے جو 300 ارب روپے کی بچت ہو وہ فوج کو دے دیئے جائیں۔
فوج کو بجٹ میں سے 1100 ارب روپے دیئے جانے کا طعنہ دینے والوں کو کیا معلوم نہیں کہ اسٹاک ہالم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق 2017ء عالمی دفاعی اخراجات 17 کھرب 30 ارب ڈالر رہے۔ رپورٹ کے مطابق ان اخراجات میں امریکہ 6 کھرب ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ چین دوسرے نمبر پر رہا اور اس نے دو کھرب 28 ارب ڈالر خرچ کیے۔ سعودی عرب نے دفاعی اخراجات پر 69 ارب 40 کرڑ ڈالر خرچ کیے۔ مزید ممالک کی تفاصیل میں جائے بغیر یہاں یہ ذکر کرنا ضروری بنتا ہے ہے کہ ان میں سے کسی ملک کو دفاعی چیلنجز کا سامنا نہیں۔ اس پہ ہمارے نام نہاد تجزیہ کار بجٹ کے 1100 ارب روپے فوج کے لے لینے کا رونا روئیں تو پھر ان کی عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔ اب اس قسم کے بیانات کو عام سا اخباری بیان کہہ کر نظر انداز کرنا نہیں بنتا۔ غور کیا جائے تو یہ پاک فوج کے صبر کا امتحان لینے والی بات ہے ۔ یہ سلسلہ اب ہر صورت میں بند ہوجانا چاہیے۔ فوج پہ اس قسم کی تنقید جمہوریت کی نشو نما کے حصے میں نہیں بلکہ ملک سے غداری کے زمرے میں آتی ہے ۔

مزیدخبریں