جدید ترکی کے نئے عثمانی؟
31 مئی 2018

"وہ ہمارے بارے کہتے ہیں کہ ہم نئے عثمانی ہیں۔ہاں ہم نئے عثمانی ہیں"
(احمد داؤد اوغلو۔2009)
مجرموں کے سردار چنگیز خان نے جب ایشیا کے مرکز کی طرف رخ کیا تو ان وحشیوں سے بچنے کے لیے ترک قبیلے نے وسطی ایشیائی ملک ترکستان کے مغرب سے چھوٹے ایشیا کی طرف رخ کیا۔جسے آج ترکی کہا جاتاہے۔یہیں پر سلجوق بادشاہوں کے دفاع میں اپنی طاقت اورشان وشوکت دکھانے والے ترک قبیلے کا قائد ارطغرل نمودار ہوا۔ سلجوق سلطنت کے دفاع کے بدلے بیزنطینی سلطنت کے قریب ترک بہادر ارطغرل کوسلجوق بادشاہ نے زمین کا ایک حصہ دیدیا۔جسے بیزنطینی حکومت سے جنگوں کے بعد ترک قبیلے نے اس قدر وسیع کرلیا کہ وہ باقاعدہ ایک ملک بن گیاجہاں ارطغرل کے بیٹے عثمان ارطغرل نے "سلطنت عثمانیہ"کی بنیاد رکھی۔سلطنت عثمانیہ کو ترکوں کے اسی سردار کی نسبت سے عثمانی سلطنت کہا جاتاہے۔عثمان ارطغرل کے بعد مضبوط عثمانی بادشاہوں نے سلطنت عثمانیہ کی حدود بلقان تک وسیع کردیں۔محمد الفاتح نے بیزنطینی سلطنت کے پایہ تخت قسطنطنیہ کو فتح کرکے سلطنت عثمانیہ کی شان وشوکت مزید بڑھائی۔ان کے بعد سلیم ثانی نے پہلی مرتبہ اس سلطنت کو خلافت عثمانیہ کانام دیا۔جس کے بعد یہ عظیم خلافت کمال اتاترک کے دور تک زندہ رہی۔کمال اتاترک نے3مارچ1924ء کو خلافت عثمانیہ کوباقاعدہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔تاریخ میں یہ وہ سیاہ ترین دن تھا جس میں حضرت محمدؐ کے بعد ان کے خلفاء کو ختم کردیا گیا۔
1939ء میں ترکی کو اسلام مخالف سیکولر ملک بنانے کے بعد سرکش اتاترک ہلاک ہوگیا۔اپنے نام کے پہلے حصے مصطفی کو حذف کروادیا۔زندگی میں وصیت کی کہ اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے اور نہ اسلامی طریقے کے مطابق دفن کیا جائے۔یہودیوں کے حسب ونسب کے بارے معلومات فراہم کرنے والے انسائیکلوپیڈیا (EncyelopaediaJudaica) کے مطابق اتاترک سلانیک شہر کے یہودیوں میں سے تھا۔
1950ء میں عدنان مندریس نامی شخص ترک سیاست میں ابھرا جس نے ترک عوام کو دینی حقوق دینے کا وعدہ کیا۔چنانچہ یہی وہ پہلا وزیراعظم تھا جس نے ترکی میں عربی زبان میں اذان بحال کی اور ترکی میں قرآن کریم کے مدرسے کھولنے کی اجازت دی،مگر کمال اتاترک کی سیکولر فوج نے بغاوت کرکے ان کی منتخب حکومت کو ختم کردیا۔جس کے بعد من گھڑت الزام لگا کرآپ کو پھانسی دیدی گی۔پھانسی دینے کے بعد ترک فوج کے باغی جرنیلوں نے قومی امن وسلامتی کے نام سے ایک کمیٹی بنائی گئی جس کا کام ملک کے سیکولرنظام کی حفاظت کرنا اور کسی بھی قسم کی اسلامی کوشش کو کچلنا تھا۔اس کمیٹی کو ترک دستور میں ایسے اختیار سونپے گئے کہ جب کبھی کوئی حکومت سیکولر ترکی کے لیے خطرہ بنے تو اسے برطرف کردیں۔
لیکن قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ ترکی میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور جدید عثمانیوں کی قیادت کے لیے نیا سربراہ بھیج دیا۔جن کا نام نجم الدین اربکان تھا۔آپ 1926ء کوبحراسود کے کنارے واقع سینوب شہر میں پیدا ہوئے۔ حسب ونسب کے لحاظ سے آپ قدیم ترک قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ بچپن سے ذہین اور چالاک تھے۔ 1948ء میں استنبول سے آپ نے انجینئرنگ کی ڈگری لی۔آپ کی ذہانت کی وجہ سے آپ کو جرمنی کی قدیم یونیورسٹی( RWTHآخن) سے پی ایچ ڈی کرنے کی آفر ہوئی
جہاں سے آپ نے 1953ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔پی ایچ ڈی کے بعد آپ جرمنی کے شہر کالونیا میں واقع گاڑیوں کی کمپنی میں ریسرچر انجینئرز کے ہیڈ مقررہوئے 30سال کی عمر میں آپ واپس ترکی آگئے،جہاں آپ نیاپنے 300دوستوں کے ساتھ مل کر"سلور موٹرز" کے نام سے ایک فیکٹری لگائی۔1960ء میں اس فیکٹری میں آپ نے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کو بنانا شروع کیا۔اس فیکٹری سے آج بھی سالانہ 30ہزار کے قریب ڈیزل پر چلنے والی گاڑیاں تیاری ہورہی ہیں۔فیکٹری کے ساتھ آپ استنبول یونیورسٹی میں لیکچر بھی دینے لگے۔آپ کی قابلیت کے چرچے ترکی میں زبان زد عام ہوگئے۔
علمی اور تعلیمی خدمات کے ساتھ آپ نے ترکی کی سیاست میں بھی قدم رکھنا شروع کردیا۔چنانچہ 1969ء کے انتخابات میں باقاعدہ آپ ترک پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ 1970ء میں"نیشنل آڈر پارٹی"کی بنیاد رکھی۔ 1924ء میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد اسلامی شناخت رکھنے والی یہ پہلی سیاسی پارٹی تھی۔اس جماعت کیقیام کے 16ماہ بعد ترک فوج نیالزام لگا کر اس پارٹی پر پابندی لگادی۔
لیکن اربکان نے ہمت نہیں ہاری ،اپنے چنددوستوں کے ساتھ مل کر "قومی سلامتی" کے نام سے 1972ء میں نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھ دی۔ پارٹی کے قیام کے ایک سال بعد ترکی میں انتخابات ہوئے جس میں اربکان کی پارٹی نے 48سیٹیں جیتیں۔اربکان کی جماعت نے "عوامی پارٹی" کے ساتھ سیاسی اتحاد کرکیاربکان کے لیے نائب وزیراعظم اور دیگر سات اہم وزراتیں حاصل کرلیں۔لیکن یہ حکومت صرف ساڑھے نو مہینے بعد گرادی گئی۔بعدازاں اربکان کی قومی سلامتی جماعت نے1977ء میں نیشنل موومنٹ اور جسٹس پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد کرکے ترک پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرے دوبارہ حکومت بنائی۔حکومتی مناصب کے حصول کے بعد اربکان نیسیکولرازم کے پرچار کے بعض خطرناک مراکز کے خلاف پارلیمنٹ سے ایک قرارداد منظور کروائی جس میں ترکی سے ماسونیت کو حرام اور اس کی محفلوں پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔
1980ء میں اربکان کی جماعت نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی جس میں ترک حکومت سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قطعی طورپر منقطع کرنے کا کہاگیا۔بیت المقدس کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اسرائیلی اعلان کے بعد نجم الدین اربکان نے قدس کی نصرت اور حمایت کے لیے خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد جدید ترک تاریخ کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ نکالا جس میں ترکی کے چپے چپے سے عوام شریک ہوئے۔اربکان کی قیادت میں یہی وہ عوامی اسلامی سیاسی ریفرنڈم تھا جس نے اربکان کو ترکی کی سیاست میں مشکل ترین پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔
چنانچہ ایک مرتبہ پھر سیکولرز فاشسٹ متحرک ہوئے۔جنرل کنعان ایفرین نے مارشل لاء کے ذریعے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرکے نجم الدین اربکان اور ان کی جماعت کے دیگر 33قائدین کو گرفتارکرکیان پرفوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔
1985ء میں اربکان کو جیل سے رہا کرکینظربندکردیا گیا۔لیکن اربکان نظربندی کی مدت ختم ہونے کے بعد عمرے پر چلے گئے۔واپسی پر نئے عزم وہمت کے ساتھ نئی سیاسی جماعت"رفاہ" کی بنیاد رکھی۔اس رفاہ پارٹی نے1995ء کے ترک عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائی جس میں اربکان پہلی بار ترکی کے وزیر اعظم بنے۔ لیکن قومی امن وسلامتی کمیٹی میں شامل جرنیلوں نے اربکان کی اس حکومت کو بھی ختم کردیا۔
اربکان نے ہارنہیں مانی ،فضیلت پارٹی کے نام سے چوتھی مرتبہ سیاسی جماعت بنالی۔جس نے1999ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔مگر اس جماعت پر بھی پابندی لگادی گئی۔لیکن ترکی میں سیکولرازم سے اسلامی تحریک کی کشمکش کے ان مشکل ترین اوقات میں نجم الدین اربکان کے تین شاگرد جمع ہوئے۔ان تینوں نے فوج اور سیکولرز کے ساتھ نئے اسلوب اور طریقوں کے ذریعے اس طرح ڈیل کرنے پر اتفاق کیا کہ دستور میں حاصل فوجی اختیارات کو رفتہ رفتہ صبر وتحمل کے ساتھ کم کیا جائے گا۔اربکان کی درسگاہ سے فیض حاصل کرنے والے ان تینوں جوانوں نے2001ء میں "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" پارٹی کی بنیاد رکھی۔جس کے ذریعے تدریجا ترکی کی سیکولرسیاست کو ختم کرکے ترکی کے قبلے کو مغرب سے پھیر کر اسلام کی طرف کرنا شروع کیا۔سیاسی مبصرین نے ان تینوں نوجوانوں کو جدید عثمانیوں کے لقب سے نواز۔یہ تین لوگ استنبول کے مئیررجب طیب اردگان،بحر اسود کے قریب سکاریا یونیورسٹی میں اکنامکس کے استادڈاکٹر عبداللہ گل اور مرمرہ یونیورسٹی میں علوم سیاسیات کے استاد پرفیسر احمد داؤد اوغلو تھے۔جنہوں نے2002ء، 2007ء، 2011ء اور2015ء کے مسلسل4 عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائی۔ جدید ترکی کے نئے عثمانیوں کے گزشتہ16سال سفر میں دستور میں دیے گئے سیکولرفوجی اختیارات کو بہت زیادہ کم کردیاگیا۔اس کے ساتھ ترکی میں سیاسی اور اقتصادی انقلاب برپاکرکے ترکی کو دنیا کے اہم سیاسی اور اقتصادی ملکوں میں شامل کردیاگیا۔ اگر چہ ترکی میں اب بھی بہت سی چیزوں میں تبدیلی ہونا باقی ہے،جیسے ترک رسم الخط کو دوبارہ عربی رسم الخط میں ڈھالنا،مگر بہرحال مختصر عرصے میں یہ بہت بڑی کامیابی ہیجو تاحال اردگان کی قیادت میں جاری ہے۔
2003ء میں نجم الدین اربکان پر لگائی گئی پابندی کی مدت ختم ہوئی تو اس عظیم بہادرنے پانچویں بار"سعادت پارٹی" کے نام سے نئی جماعت کی بنیاد رکھی۔لیکن ان کے سیکولرز دشمنوں نے دوبارہ ان کا پیچھا کیا اور من گھڑت الزامات لگاکرعدالت سے ان کو77سال کی عمر میں قید کی سزا دلوائی۔جسے بعدازاں ان کے شاگرد( جو ترکی کے صدر بن چکے تھے)عبداللہ گل نے آپ کی صحت کی مسلسل خرابی کے باعث صدارتی معافی دے کر جیل سے رہائی دلوائی۔80سال کی عمر میں ایک مرتبہ پھر آپ نے سعادت پارٹی کی قیادت دوبارہ سنبھال لی۔یہاں تک کہ 27فروری2011ء کو انقرہ کے ایک ہسپتال میں 84سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہونیکے باعث اس دنیا فانی سے اللہ رب العزت کی طرف کوچکرگئے۔آپ کے جنازے میں ترک حکومت کے اعلی عہدیداروں سمیت دیگر اسلامی دنیا کا لیڈر اور علماء بھی شریک ہوئے۔
جس وقت آپ کا انتقال ہوا آپ"سعادت پارٹی" کے سربراہ تھے۔گویا اس عظیم بہادر شخص نے مرتے وقت ان سرکشوں کو پیغام دیا جنہوں نے ان کی موجودہ اور سابقہ جماعتوں پر پابندی لگائی کہ:اے سیکولر سرکشو!دیکھو میں مرچکاہوں،مگر میرا سرفخر سے بلند ہے،کیوں کہ میں اپنی جماعت کا تمہارینہ چاہتے ہوئے بھی قائد اور لیڈر ہوں۔اللہ کی کروڑوں رحمتیں آپ پر نازل ہوں سیدی نجم الدین اربکان۔آپ کی زندگی بھی عظیم اور آپ کی موت بھی عظیم۔


ای پیپر