آج جمعہ ہے۔۔۔
31 مئی 2018 2018-05-31

دوستو، آج پھر جمعہ ہے ، الحمدللہ۔۔ماہ صیام کا یہ تیسرا جمعہ ہے ۔۔ مساجد میں بھرپور رونقیں ہیں۔۔نمازیوں سے کھچاکھچ بھری ہوتی ہیں۔۔اب تو افطار کے بعد بازار کی رونقیں بھی بحال ہونے لگی ہیں یہ سلسلہ چاندرات تک جاری رہے گا۔۔ جس کے بعد پھر وہی پرانی روٹین۔۔ یعنی صرف جمعہ کے جمعہ کی نمازی مساجد میں نظر آئیں گے۔۔ آج چونکہ رمضان المبارک کا تیسرا جمعہ المبارک ہے ، اسی لئے آج کچھ جمعہ کے حوالے سے تحریر کرنے کا موڈ ہے ۔۔ تو چلیں پھر اپنی روایتی باتوں کی جانب چلتے ہیں۔۔

جمعہ کا دن تھا۔ سوڈان کی معروف جامع مسجد امِ درمان کے خطیب کی سحر بیانی اپنی جوبن پر تھی۔ موضوع جنت اور حورِ عین تھا۔ لوگ پورے انہماک اور توجہ سے خطبہ سن رہے تھے۔ خطیب صاحب حورِ عین کا وہ نقشہ کھینچ رہے تھے کہ اک عجب سماں بندھ چکا تھا۔ لوگ دل ہی دل میں اعمالِ صالح کا تہیہ کر رہے تھے۔خطیب نے خطیبانہ ردھم توڑتے ہوئے ایک ذرا سانس لیا۔ اس کی آنکھوں میں چمک عود کر آئی۔ کہنے لگا، اللہ اللہ کیا منظر ہوگا ،جب فرشتے بندہ مومن کو یاقوت و مرجان اطلس و کمخواب سے آراستہ و پیراستہ محل میں لے کر داخل ہوں گے۔ پھر اچانک اس کی نظر حورِ عین پہ پڑے گی جو تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوگی۔بندہ مومن اس کی طرف آگے بڑھے گا لیکن فرشتے روک لیں گے۔ اسے محل کے ایک اور حصے میں لے کر جائیں گے، جہاں اس سے بھی خوبصورت حوریں اس کے استقبال کو تیار بیٹھی ہوں گی۔ یہاں بھی اسے فرشتے روک لیں گے اور کہیں گے ،تیری ’’حور خاص ‘‘بالا خانے میں تیری منتظر ہے ۔۔ وہ ہزار شوق سے بالا خانے میں داخل ہوگا۔ کیا دیکھتا ہے سامنے اس کی دنیاوی بیوی کھڑی ہوگی۔ ۔یہ سننے کی دیر تھی کہ سامعین میں سے ایک آدمی اٹھا اور خطیب کے منہ پرچیخنے کے انداز میں بولا۔۔ اچھے بھلے خطبے کا ستیاناس کر دیا۔ خدا کا خوف کر۔ دو ڈھائی گھنٹے بیٹھے کتنے شوق سے تجھے سن رہے تھے۔ کچھ تو ہمارا خیال کرتا۔ ہم لوگ بیگم سے بھاگ کر مسجد آتے ہیں اور تو نے جنت میں بھی اسے ہمارے گلے ڈال دیا۔ اگلے جمعہ اچھی طرح مطالعہ کرکے آئیو۔ شاید یہ روایت ضعیف ہو۔

نمازجمعہ میں چونکہ جگہ جگہ خطیب حضرات وعظ فرمارہے ہوتے ہیں،لاہور ہی کی ایک اور مسجد میں مولوی صاحب تقریرکررہے تھے اور سامعین کو بتارہے تھے کہ ۔۔میری زندگی کے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے ،وہ عورت میری بیوی نہیں تھی۔ حاضرین کو سانپ سونگھ گیا کہ مولوی کہہ کیا رہا ہے ؟۔۔تھوڑے توقف کے بعد، مولوی صاحب نے کہا۔۔ جی، وہ عورت کوئی اور نہیں میری ماں تھی۔ایک صاحب کو یہ بات بہت اچھی لگی، اس نے سوچا ،کیوں ناں ،گھر جا کر اس کا تجربہ کر لے۔ سیدھا کچن میں گیا جہاں اس کی بیوی انڈے فرائی کر رہی تھی، اسے کہا کہ میری زندگی کے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ عورت کم از کم تم نہیں تھی۔چار دن کے بعد جب ان صاحب کے منہ سے پٹیاں اتاری گئیں اور تیل کی جلن کچھ کم ہوئی تو بولے، کاپی پیسٹ ہمیشہ سود مند نہیں ہوا کرتا۔ویسے یہ عورت بھی کیا عجیب مخلوق ہوتی ہے ۔ خواہش کرے گی کہ اس کی بیٹی کو کم از کم اپنے باپ سے تو اچھا خاوند ملے۔ اور اپنے بیٹے کو کہے گی کہ میرے جیسی تجھے اگر کوئی مل گئی تو پھر کہنا۔۔سیانے کہتے ہیں کہ۔۔اپنی بیوی کا موازنہ کسی دوسری عورت سے ہرگز نہ کریں۔ ہو سکتا ہے ،وہ دوسری عورت ایک خوبصورت پھول ہو، ایسا پھول جسے ہر کوئی جا کر سونگھ سکے۔اپنی والی پر راضی رہیں بھلے وہ پیاز کی مانند ہی کیوں نہ ہو۔

ایک خان صاحب کہہ رہے تھے، یار میری جمعہ کی نماز نکل گئی۔۔ دوسرے نے پوچھا ، وہ کیسے؟۔۔ خان صاحب کہنے لگے، جب جماعت کھڑی ہوئی تو امام صاحب نے کہا،اپنے اپنے موبائل فون بند کردیں، میرا موبائل فون گھر پر تھا، جب آف کرکے آیا تو جماعت نکل چکی تھی۔۔۔اسی طرح جب ایک اور مسجد میں جمعہ کی جماعت کھڑی ہونے لگی تو امام صاحب نے فرمایا، اپنے اپنے پیرصفوں کی لکیر پر رکھیں، پیچھے سے ایک نمازی نے جگت لگائی، کیوں پیر آگے نکل گیا تو کیا ’’نوبال‘‘ ہوجائے گی۔۔؟؟۔۔۔ایک شادی شدہ نے کہا ، عورت تو پاؤں کی جوتی ہوا کرتی ہے ، مرد کو جب بھی اپنے لئے کوئی مناسب سائز کی نظر آئے، بدل لیا کرے۔ سننے والوں نے محفل میں بیٹھے ہوئے ایک دانا کی طرف دیکھا اور پوچھا، اس شخص کی کہی ہوئی اس بات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس نے جواب دیا۔۔ جو کچھ اس شخص نے کہا ہے ،بالکل صحیح کہا ہے ۔۔ عورت جوتی کی مانند ہے ، ہر اس شخص کے لئے جو اپنے آپ کو پاؤں کی مانند سمجھتا ہے ۔ جبکہ عورت ایک تاج کی مانند بھی ہو سکتی ہے مگر اس شخص کے لئے، جو اپنے آپ کو بادشاہ کی مانند سمجھتا ہو۔کسی آدمی کو اس کی کہی ہوئی بات کی وجہ سے کوئی الزام نہ دو، بس اتنا دیکھ لو کہ، وہ اپنے آپ کو اپنی نظروں میں کیسا دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔

مزیدار کھانا کھانے کے بعد اس نے بل منگوایا، پیسے نکالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا، بٹوا نہ پا کر ،نادیدہ خوف سے اس کی حالت ہی خراب ہو گئی۔ ہیسٹرائی انداز میں اوپر نیچے جیبوں کو ٹٹولا، مگر بٹوہ کہاں سے ملتا، وہ تو دفتر سے نکلتے ہوئے میز پر ہی رہ گیا تھا۔ سر جھکائے ،آنے والی ممکنہ پریشانیوں اور انکے حل پر غور کرتا رہا۔ کوئی راہ نہ پا کر کاؤنٹر کی طرف چل دیا، تاکہ اپنی گھڑی ضمانت کے طور رکھوا کر جائے اور پیسے لے کر آئے۔ بل میز پر رکھتے ہوئے کیشیئر کو ابھی کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ وہ خود ہی بول پڑا۔۔ جائیں جی ،آپ کا بل ادا ہو چکا، حیرت کے مارے اس نے سوال کیا۔۔ مگر کس نے ادا کیا ؟ کیشیئر نے کہا، ابھی آپ سے پہلے اس باہر جانے والے آدمی نے دیا ہے ۔ اس نے کہا۔۔ تو میں اسے کیسے واپس لوٹاؤں گا یہ پیسے، میں تو اسے جانتا ہی نہیں؟ کیشیئر نے کہا، کسی کو ایسی صورتحال میں پھنسا مجبور دیکھنا تو ادا کردینا، نیکی اسی طرح تو آگے چلا کرتی ہے ۔

کسی نے ہم سے پوچھا کہ۔۔مسجد کے اندر مانگنے والے مسجد کے باہر مانگنے والوں کو اتنی حقارت سے کیوں دیکھتے ہیں ؟۔۔ہم نے اسے سمجھایا۔۔کیونکہ اندر والے اپنی محنت کے بدل میں اللہ سے مانگتے ہیں اور باہر والے بنا محنت کے اللہ کے بندوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔۔ نہ محنت پہ یقین نہ اللہ پہ۔۔کسی دانا نے کیا خوب کہا تھا۔۔ٹوٹ کر گر جانے والے پھولوں میں دوبارہ زندگی تو نہیں ڈالی جا سکتی ،مگر اْن کی جگہ پر نئے خوبصورت پھول تو اْگائے جا سکتے ہیں۔ بس کچھ اسی طرح ہی تو ہماری زندگی کی مثال ہے ، جس کا سفر چند ایک بْرے حادثات کی وجہ سے رْکنے نہ پائے۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔گرم کھانا بھی توکچھ دیر کیلئے چھوڑ دیتے ہو کہ ذرا ٹھنڈا ہو جائے تو کھانے میں آسانی رہے گی۔ بس اسی طرح تو اختلافی ماحول ہوتا ہے ۔ کچھ دیر کیلئے کنارہ کر جائیں، جذبات ٹھنڈے ہو جائیں تو آ کر ٹھنڈ ے ٹھنڈے بیٹھ کر حل کیلئے بات کریں۔


ای پیپر