جمہوریت کی حفاظت کیونکر ہو گی؟
31 مئی 2018

آج ہمارے ہاں جمہوریت کا بہت شور ہے، اسمبلیوں کے ایوانوں سے لے کر ذرائع ابلاغ تک تمام سیاسی رہنما، دانشور اور مبصر ہمارے جمہوری نظام کی تعریف میں صبح شام رطب اللسان رہتے ہیں۔ اگر یہ تعریف و توصیف جمہوریت کی ہے جس کے ڈانڈے تاریخی طور پر یونان کی چھوٹی چھوٹی شہری جمہوریتوں سے ملتے ہیں اور جس کی ترقی یافتہ شکل آج یورپ اور امریکا میں دیکھنے کو ملتی ہے تو بلا شبہ یہ ہر نظامِ حکومت سے بہتر ہے مگر ہمارے خطے میں جو جمہوریت رائج ہے وہ صرف دعوے کی حد تک جمہوریت ہے جس میں جوڑ توڑ اور عددی سیاست سے اختیار تو حاصل کر لیا جاتا ہے مگر اس کے ثمرات عام آدمی کو کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ ہماری سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت کے احیاء کا خواب تو دیکھتی ہیں لیکن اس خواب میں رنگ بھرنے کے لئے نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں ہوتیں۔ نام نہاد جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتیں اپنی جماعتوں میں بھی جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتیں۔ کہتے ہیں سیاست عبادت ہے کیونکہ سیاست انسانی خدمت سے عبارت ہے، نظری طور پر یہ بات بالکل درست ہے لیکن عملی طور پر وطنِ عزیز سے ہمیں اس کا سراغ نہیں ملتا ۔
جنرل مشرف کے اقتدار کے آخری دنوں میں عدلیہ بحالی تحریک کے دوران آزاد عدلیہ اور جمہوریت یہ دو نعرے ہر زبان سے گونج رہے تھے۔ سیاستدانوں کی زبانوں اور میڈیا کی سکرینوں سے ایک ہی آواز بلند ہو رہی تھی کہ جب عدلیہ آزاد ہو جائے گی ملک سے آمریت کا خاتمہ ہو جائے گا، بے انصافی کی جگہ انصاف کا دور دورہ ہو گا، جمہوریت مضبوط ہو گی نیک، اچھے لوگ منتخب ہو کر آئیں گے اور ملک سے روایتی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔ یہ بالکل درست ہے آزاد عدلیہ کی موجودگی میں مارشل لاء کا امکان نہیں رہا، سیاستدان یہ تو چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت رہے مگر وہ احتساب کے عمل سے اپنے آپ کو مبرا گردانتے ہیں، ظاہر ہے عدلیہ آزاد ہو گی تو وہ ان کی چیرہ دستیوں کا بھی تو حساب مانگے گی مگر تب یہ کہتے ہیں کہ ہم سے کرپشن کے بارے میں پوچھنا جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے، جمہوریت کمزور ہوتی ہے، جب کہ کرپشن کا خاتمہ ہی تو جمہوریت کومضبوط کرتا ہے۔ سنجیدہ فکر کے پاکستانی جب اپنے ملک کی صورتحال دیکھتے ہیں تو دم گھٹنے لگتا ہے اور جب اپنے حکمرانوں اور ان کی سیاسی قیادت کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ آزاد عدلیہ اور جمہوریت کا درس دینے والے تو صرف اپنی کرسی کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی کرپشن اور بدعنوانیوں کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کے کردار کا تو یہ حال ہے کہ جان بچانے کے لئے معاہدے کر کے اپنے ساتھیوں اور عوام کو چھوڑ کر ملک بدر ہو جاتے ہیں۔ برِ صغیر کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک نئے باب کا اضافہ تھا جس معافی نامے کے مسودے پر پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نے دستخط کر کے رہائی حاصل کی تھی اس میں جو یقین دہانیاں کرائی گئیں تھیں وہ ناقابلِ یقین ہیں۔ ایسی ایسی پابندیاں قبول کی گئیں جن کا کوئی سیاسی کارکن تصور بھی نہیں کر سکتا، مثلاً یہ کہ سیاست میں حصہ نہیں لوں گا، میں کسی صحافی کو انٹر ویو نہیں دوں گا، میں اپنے میزبان ملک میں 10سال تک مقیم رہوں گا۔ غرض قید سے رہائی کی خاطرایسی ہر یقین دہانی کرائی گئی جسے سیاسی کارکن اپنے لئے باعثِ تذلیل سمجھا کرتے تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 7سال تک دلیرانہ چیلنج دئیے گئے کوئی معاہدہ ہے تو سامنے لایا جائے جب معاہدہ دکھایا گیا تو اسے ایک لمحے کا توقف کئے بغیر تسلیم کر لیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں معافی مانگ کر جیل سے نکلنے والے سیاسی کارکن کو کبھی عزت کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ آج پھر وہی صورت ہے مجھے کیوں نکالا کا جس انداز میں واویلہ کیا جا رہا ہے وہ ایک ایٹمی طاقت کے تین بار تک وزیرِ اعظم رہنے والے شخص کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں اور دنیا ہمیں مانتی ہے اور ہمیں ا س پر فخر ہے لیکن جس طرح کا تاثر ایک ایٹمی طاقت کے وزیرِ اعظم نے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد چھوڑا ہے اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ کچھ انا بھی ہوتی ہے یا تو منی ٹریل دے دیتے یا پھر بہادری کے ساتھ سزا کاٹنے کے لئے تیار ہو جاتے۔ انہیں عدالتوں میں اپنی صفائی پیش کرنا چاہئے، ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے ہاتھ صاف ہیں ان پر بد عنوانی کے الزامات بلا جواز ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں اور انہیں خوامخواہ عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ ہمارے حکومتی اراکین یہ بات برملا کہتے ہیں کہ ہر ادارے کو ، ہر حاکم کو اور ہر شہری کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے، مسلمہ اصولوں کو بھی پامال نہیں کرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک مسلمہ عالمی اصول ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اس اصول کے تحت کسی بھی شخص کو خواہ وہ آسمان پر کیوں نہ بیٹھا ہو قانون کا سامنا عام عوام کی طرح کرنا چاہئے، ورنہ معاشرہ ہمیشہ بے انصافی، دھاندلی اور جبر کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔ بے انصافی، دھاندلی اور جور و جبر کے زہریلے ناگ اقتدار اور دولت کی کمین گاہوں میں پرورش پاتے رہیں گے۔ کہتے ہیں جمہوریت کو خطرہ ہے تو پھر جمہوریت کی خاطر اپنے ذاتی مفادات قربان کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہئے۔ اگر من میں کھوٹ نہیں ہے تو جو نقدی پاس ہے وہ دامن جھاڑ کر دکھا دینی چاہئے۔ گانٹھ میں کچھ چھپا رکھا ہے تو اس کا اعتراف کر لینا چاہئے، جمہوریت کی خاطر سچ بولنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ جمہوریت سے محبت کا تقاضایہی ہے۔ تقاضا نبہا دیا تو جمہوریت کو کبھی کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن مسئلہ یہاں اور ہے کہ اس طبقے کو جواب دینے کی عادت نہیں ہے اس سے کوئی سوال کرتا ہے تو منہ سے جھاگ اڑنے لگتی ہے۔ جو حساب مانگے گا اسے ملیا میٹ کر دیا جائے گاحتیٰ کہ ملکی مفادات کو بھی نظر انداز کر دیا جائے گا، اپنے مفادات کی کھچڑی کو بچانے کے لئے سب کچھ آگ میں پھونک ڈالیں گے۔ آج پھر وہی چہرے نئے نئے بیانیے کے ساتھ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم آمریت کی بات تو کرتے ہیں لیکن کیا کبھی کسی جمہوری حکومت نے سیاسی و آئینی اداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ۔ قومی حمیت اور ملک کی عزت و ناموس سے کئے گئے کھلواڑ نے آج دنیا بھر میں ہمارے قومی تشخص کو اس قدر حقیر کر دیا کہ سب کچھ مشکوک ہو گیا ہے۔ ہم انسانی تاریخ کے سب سے بہترین نظام یعنی جمہوریت کے بارے میں بس اتنا ہی جانتے ہیں کہ اگر حکمران سول وردی میں ملبوس ہو تو جمہوریت اور فوجی وردی میں ہو تو آمریت ہے۔ آج کل جو بھی خطرہ یا مسئلہ حکمرانوں کو خوفزدہ کرے تو جمہوریت کا رونا روتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں نے کیا کبھی حقیقی کلاسیکل جمہوریت کو پنپنے دیا، کبھی سنجیدگی سے اس کی آزادی کے لئے کام کیا؟ بد عنوانی وہی، بد نظمی وہی، مسائل وہی۔ جمہوریت بچانی ہے تو اس کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے ورنہ ایک طوفان اٹھے گا اور ہر چیز بہا لے جائے گا۔ غلط بیانی ہمیشہ ذلیل و خوار کرتی ہے اس لئے یہ راستہ ترک کر دینا چاہئے۔


ای پیپر