گلگت بلتستان اور را کی سازشیں
31 مئی 2018

بھارت کی شدت پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کو گلگت بلتستان میں چین کی دخل اندازی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا چاہئے۔ بھارتی حکومت کو گلگت بلتستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور چینی دراندازی کے مسائل پاکستان کے ساتھ اٹھانے چاہئے۔ 1994ء میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور اس ضمن میں ایک قرارداد بھی پاس کی تھی کہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہے لیکن مرکزی حکومت کی اس ضمن میں کمزور پالیسی ہندوستانی مفادات کے منافی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے میں تو ریاستی ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان اگر اپنے علاقے میں عوام کی بہتری کے لئے کوئی اقدام کر رہا ہے تو اس پر خواہ مخواہ جلا بھنا بیٹھا ہے اور احتجاج کر کے بے وقت کی راگنی چھیڑ دی ہے۔ جموں و کشمیر متنازعہ خطہ ہے اور عالمی ادارے سمیت دنیا اسے متنازعہ خطہ ہی تصور کرتی ہے، جہاں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا وسیع سلسلہ جاری ہے۔
حال ہی میں انکشاف ہواہے کہ بھارت اور افغانستان نے مل کر گلگت بلتستان میں نیا کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ بھارت گلگت بلستان کو اور افغانستان فاٹا کے کچھ علاقوں کو اپنا اٹوٹ انگ تصور کرتے ہیں۔ واشنگٹن میں بھارتی و افغان سفارتکار مل کر پاکستان کے خلاف مہم شروع کرنے والے ہیں کہ گلگت بلتستان اور فاٹا میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان طاقت کا استعمال کرکے متنازعہ علاقوں کو آئینی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارتی اور افغان سفارتکاروں کے موقف کو تقویت دینے کے لیے اندرون خانہ ایک پاکستانی گروپ بھی سرگرم ہے۔ ایک تحقیقاتی ادارے کے ماہرکا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے الیکشن2018 سبوتاژ کرنے کے لیے بھارت اور افغانستان کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ان دونوں ملکوں کو پاکستان کی کچھ سیاسی و مذہبی جماعتوں کی ہمداردیاں بھی حاصل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان جماعتوں نے فاٹا بل کی کھل کر مخالفت کی ۔
2019ء میں بھارت میں بھی لوک سبھا کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی افغانستان کی سر زمین استعمال کر کے پاکستانی الیکشن میں اپنی ہم نوا سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے خطرناک منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں ۔ لہٰذا پاکستانی فورسز کو چاہئیے کہ وہ سرحدی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ابھی سے شروع کر دیں۔یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس وقت بھارت اور افغانستان میں اسرائیلی کمانڈوز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو پاکستان کی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ سکتی ہے۔
بھارت طاقت کی خوش فہمی میں ایک طرف چین کو آنکھیں دکھانے کی سوچ رہا ہے تو دوسری طرف پاک چین اقتصادی راہدای کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ بھارت اقتصادی راہداری کے خلاف ہر محاز پر سازشوں میں مصروف ہے باالخصوص بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سازشوں کا جال بن رکھا ہے ان دونوں علاقوں میں سازشوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی کارروائیاں بھی کر رہا ہے ۔
دوسری طرف گلگت بلتستان میں عوام پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں اور یہاں اسے غدار نہیں مل رہے اس لئے بھارت نے گلگت بلتستان کے چند ننگ وطن جو دوسرے ملکوں میں بھارت سے حرام کا مال لے کر گلگت بلتستان میں بے چینی ،انارکی اور احساس محرومی پیدا کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں لوگ ان ننگ وطنوں سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں لیکن یہ ننگ وطن بھارت کو سہانے خواب دکھا کر اس کا مال حرام لوٹنے میں مصروف ہیں ۔ وہ زمانے گئے جب لوگوں میں شعور نہیں تھا اب بچہ بچہ سمجھتا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے ننگ وطنوں کے اپنے زاتی مفادات ہیں اور یہ ننگ وطن اپنے مفادات کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں اس لئے اللہ کے فضل سے گلگت بلتستان میں را کی سازشیں دم توڑ گئی ہیں۔
یہ بھارت کی بھول ہے گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ یہی وجہ ہے گلگت بلتستان کے لوگ وطن عزیز پاکستان کیلئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں ۔ بھارت کچھ بھی کرے اس کی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکتیں ہیں لیکن ہمیں اس حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
بھارت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان سمیت تمام جموں و کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ پاکستان اس علاقے میں جس پر اس نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کر کے انہیں ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 ء گلگت بلتستان کی حیثیت میں تبدیلی کی کوشش ہے جس پر بھارت کو اعتراض ہے کیونکہ گلگت بلتستان سمیت سارا کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ بھارت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں بنا سکتا کیونکہ یہ بھارت کا حصہ ہے۔ اس صورت حال پر ہمارے دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کی تمام ریاست متنازعہ خطہ ہے اس لیے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی دعویٰ قابل قبول نہیں۔ اقوام متحدہ نے جموں و کشمیر میں حق خودارایت کے لیے قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ بھارت من گھڑت احتجاج کے بجائے مقبوضہ وادی سے غیرقانونی تسلط ختم کرے اور وادی کے رہنے والوں کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دے۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے ذریعے گلگت بلتستان کونسل کے تمام اختیارات وزیر اعظم کو تفویض کر دیئے۔پیکج کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی کو زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اب گلگت بلتستان کا گورنر مقامی ہو گا جب کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز بھی گلگت بلتستان کے مقامی باشندے ہوں گے۔ پاکستان کی سول سروس میں گلگت بلتستان کو کوٹہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان کا اپنا سول سروس سینٹر بنا دیا گیا ہے۔آرڈرکے تحت گلگت بلتستان کے مکینوں کو پانچ سال کے لئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔بھارت نے گلگت بلتستان آرڈر 2018ء پر احتجاج کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو بالواسطہ طور پر بھارت کا حصہ قرار دیا تھا۔


ای پیپر