نگران وزیر اعظم کی زیر نگرانی انتخابات
31 مئی 2018 2018-05-31

31 مئی کی رات 12 بجے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے حکومت کے خاتمے کا دیرینہ خواب پورا ہوگیا لیکن جمعہ کے دن ’’ن لیگ‘‘ کے لیے سورج طلوع ہو گا یا غروب یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ بہر حال حکومت کا آئینی مدت پوری کرنا خوش آئند عمل ہے۔ جمہوری تسلسل فروغ پانا چاہیے۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہی۔ وطن عزیز تمام تر افواہوں اور خدشات کے باوجود انتخابات کی جانب سفر طے کر رہا ہے۔ صدر پاکستان نے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 25 جولائی کی تاریخ دے دی ہے۔ متفقہ نامزد نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک یکم جون سے ذمہ داریاں سنبھاچکے ہیں۔ گو کہ یہ فیصلہ آخری لمحوں میں کیا گیا وگرنہ 2015ء کے انتخابات کے طرح پارلیمنٹ کی بجائے الیکشن کمیشن تو ہی نگران وزیراعظم کا انتخاب کرنا پڑتا۔

جسٹس (ر) ناصر الملک اصول پسند اور غیر متنازع شخصیت ہیں جن کے نام پر تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں۔ جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان کے ساتویں نگران وزیر اعظم کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سابق چیف جسٹس آف پاکستان رہ چکے ہیں۔ آپ نے پاکستان کے 22 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے 6 جولائی 2014ء تا 10 اگست 2015ء تک فرائض منصبی بخوبی انجام دیے۔ نگران وزیراعظم 12 اگست 1950ء میں سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئے۔ ایبٹ آباد پبلک سکول سے میٹرک اور ایڈورڈ کالج پشاور سے گریجویشن

کیا۔ 1977ء میں لندن سے بار ایٹ لاء کرنے کے بعد پشاور سے وکالت شروع کی ، 1981ء میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991ء اور 1993ء میں صدر منتخب ہوئے۔ ناصر الملک 4 جون 1994ء کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31 مئی 2004ء کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ نگران وزیراعظم کو 5 اپریل 2005ء کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ جسٹس (ر) ناصر الملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007ء کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کو ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بنچ میں بھی شامل تھے۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا کر ان کو معزولی دیکھنی پڑی۔ ستمبر 2008ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں جب ججز کو بحال کیا گیا تو دوبارہ حلف اٹھا کر جج کا منصب سنبھال لیا۔ جسٹس (ر) ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارہویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بنچوں کا بھی حصہ رہے۔ سابق وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو 26 اپریل 2012ء میں توہین عدالت کے جرم میں سزا دینے والے بنچ کی سربراہی بھی کی ۔

2014ء میں جسٹس ناصر الملک نے اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالا جب ملک دھرنوں کی سیاست سے دو چار تھا۔ تحریک انصاف سے باغی رہنما جاوید ہاشمی نے اس وقت ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ عمران خان نے ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ ابھی تصدق جیلانی چیف جسٹس ہیں جیسے ہی ناصر الملک آئیں گے تو اسمبلیاں ختم کر دی جائیں گی۔ 90روز کے بعد انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف اکثریت حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوا، جس سے یہ افواء دم توڑ گئی۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) ناصر الملک نے جب چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر کے مستعفی ہونے پر قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ اس لیے ان کے پاس دونوں عہدوں کا تجربہ بھی ہے۔ نگران وزیراعظم پاکستان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے دوران اپنے گھر میں نظر بندی کا وقت بھی گزارا ہے۔ آپ نے 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کیس میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، البتہ بے قاعدگیوں کے واقعات ہوئے ہیں جنہیں انتظامی امور بہتر بناتے ہوئے دور کیا جا سکتا

ہے۔ جسٹس (ر) ناصر الملک نے عام انتخابات کے لیے ٹھوس، سنجیدہ اور قابل عمل سفارشات اور تجاویز بھی پیش کی تھیں۔

نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک با اصول اور غیر متنازع شخصیت ہیں۔ لہٰذا یہ بات پورے وثوق سے کہی جا رہی ہے کہ جسٹس (ر) ناصر الملک کی نگران وزارت عظمیٰ کے دور میں 2018ء کے انتخابات شفاف اور غیر جانبدار ہوں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ روایت چل نکلی ہے کہ جو جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر پائے وہ پورے انتخابی عمل کو دھاندلی زدہ قرار دینے میں ذرا برابر بھی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور نگران سیٹ اَپ کی تمام تر کوششوں کو منوں مٹی تلے دبا دیتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت اور اپوزیشن متفقہ نگران وزیراعظم لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جسٹس ناصر الملک کے لیے عام انتخابات 2018ء کا منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ نگران حکومت 60 روز کے اندر عام انتخابات کروا کر انتقال اقتدار تک اپنے فرائض منصبی انجام دے گی۔ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے جسٹس (ر) ناصر الملک کا نام سامنے آنے اور ان کا عہدہ سنبھالتے ہی افواہوں اور قیاس آرائیوں کے سیاہ بادل چھٹ گئے ہیں۔ فری اینڈ فیئر انتخابات کسی بھی معاشرے میں حقیقی نمائندگان اور عوامی آواز ایوان اقتدار تک پہنچانے میں پہلی سیڑھی ثابت ہوتے ہیں۔ عوام انتخابات 2018ء میں اپنے حق رائے دہی کا پوری دیانت اور ایمانداری سے استعمال کریں کہ یہ موقع پانچ سال بعد ملتاہے ۔ بار بار کہاں آنا۔۔۔


ای پیپر