سید خورشیداحمد گیلانی (مرحوم)۔۔۔وہ نجم بصیرت تھا ، خورشید نوا تھا
31 مئی 2018 2018-05-31

صاحب طرز ادیب، دانش ور اور شعلہ نوا مقرر سید خورشید احمدگیلانی ؒ کو جنت مکانی ہوئے سترہ برس بیت گئے۔اس طالب علم کوجن چند لوگوں کے رشحات قلم نے متاثر کیا ان میں ایک نام گیلانی صاحب مرحوم کا ہے ۔آپ اقلیم صحافت و خطابت کے بے تاج بادشاہ، بے مثال ادیب اورعصری و دینی علوم سے مالا مال تھے۔ علمی اور فکری حلقوں میں ہمیشہ سروقد نظرآتے۔ ان کی گرانقدر تصانیف آج بھی ان کے علمی قد کاٹھ کا پتہ دیتی ہیں۔ گیلانی مرحوم کا قلم بولتا تھا ، تحریر میں پختگی ایسی کہ بڑے بڑے علمی حلقوں نے ان کے فن کو بے حد سراہا ۔افسوس کہ ایسے لوگ اب کمیاب ہو گئے اور مزید افسوس اس پر کہ کسی بھی قومی ادارے یا قومی اخباراور چینل پر ایسی شخصیات کے ایا م وفات کے موقع پر نسل نو کو کچھ بھی نہیں بتایا جاتا ۔ ان کے مشن اور فکر کو زندہ رکھنا تو ہمارا کام تھا کیونکہ ایسے لوگ ہماراقومی ورثہ اور علمی اثاثہ ہیں۔
اپنے دور کے نامور مشاہیر نے گیلانی صاحب کے علم و فن کا اعتراف واضح الفاظ میں کیا او ر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر انور سدید نے کہاتھا:’’ خورشید گیلانی لکھتاہے تو صریر خامہ نوائے سروش بن جاتاہے۔ بولتاہے تو خیالات کے خزینے کی تقسیم کبیر شروع ہو جاتی۔ فکر و نظر کی ترجمانی دینی پس منظر میں کرتاہے تو پوری محفل پر اپنی بامعنی باتوں کی دھاک بٹھا دیتاہے‘‘۔ارشاد احمد حقانی نے کہا:’’ گیلانی کی سلیس اور خوبصورت نثر ، تواز ن فکر ، قلم میں بلا کی روانی اور تحریر پر ان کا عبوربہت خوب ہے ‘‘۔عباس اطہر نے کہا :’’صاحبزادہ صاحب کی علمی رفتار ہی شاید ان کے اختتام کا باعث تھی۔اللہ نے انہیں تفہیم کی جو برق صفت صلاحیت عطا کی تھی وہ ان کو نگاہوں اور دماغوں کا مرکز بنا دیتی تھی‘‘۔فاروق احمد لغاری اور مولانا زاہد الراشدی نے لکھا:’’ خورشید گیلانی کو دیکھا ، سنا اور پڑھا ۔ان کی معاملہ فہمی ، دانش و تدبر نے بہت متاثر کیا’’۔مولانا مجاہد الحسینی نے یوں خراج عقیدت پیش کیا:’’ ان کی تحریریں پڑھ کر ان کی عبقریت کے نقوش دل و دماغ پر مرتسم ہو گئے‘‘۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے کہا:’’ گیلانی صاحب کی وفات ہماری علمی و صحافتی دنیا کا ایک المناک سانحہ تھا ‘‘۔جاوید چودھری نے لکھا: ’’ان کی تحریروں کوکبھی زوال نہیں آئے گا‘‘۔مجیب الرحمن شامی نے کہا:’’ وہ اپنی پروقار شخصیت اور شگفتہ انداز بیان و تحریر کی بدولت بہت جلد نمایاں ہوئے اور دیکھتے ہی ماحول پر چھا گئے۔ وہ بیک وقت مشرقی و جدید علوم سے بہرہ ور تھے‘‘۔عبد القادر حسن نے کہا :’’ خورشید گیلانی ایک پسماندہ دیہات سے شہر آیا تھا اور ایک نئی دنیا اپنے ساتھ لایا۔ اللہ نے اسے بہت زیادہ عطا کیاتھا‘‘۔ حافظ شفیق الرحمن نے لکھا :’’زبان و بیان پر قدرتِ کاملہ اور مہارت تامہ کے حوالے سے میں سید خورشید گیلانی کی خوشہ چینی پر نازاں ہوں ، میں انہیں اس فن میں اوتار سمجھتا ہوں‘‘۔امیر نواز نیازی نے کہا:’’ گیلانی کا ایک ایک فقرہ پڑھنے کو دل کرتاہے ، بلاشبہ وہ اپنے وقت کے بہت بڑے ادیب تھے‘‘۔
ان نام ور دانش وروں نے گیلانی صاحب کو محض رسمی طور پر نہیں بلکہ ان کی علمی خدمات سے متاثر ہو کر انہیں سلام پیش کیا تھا ۔ خورشید احمدگیلانیؒ نے 1956ء
میں راجن پور کے مذہبی و علمی خانوادے میں آنکھ کھولی ، آپ کے والدِگرامی مولانا سید احمد شاہ گیلانی ؒ ممتاز عالم دین تھے ، ان کا شمار عربی و فارسی کے مایہ نازعلماء میں ہوتا ۔ اس علمی ماحول کا اثرتھا کہ خورشید گیلانی ہوش سنبھالتے ہی علم و فکر کی جانب مائل ہو گئے ۔ شکار پور کے مقامی ا سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ،بہاولپور یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات اور دینی تعلیم کی تکمیل جامعہ نظامیہ لاہور سے کی۔ اسی دوران میںآپ کے علمی کام کا ڈنکا چہار سو بجنے لگا ۔ روزنامہ نوائے وقت میں مستقل کالم ’’قلم برداشتہ‘‘کے عنوان سے لکھنا شروع کیا جسے ملک بھر میں بے حد پذیرائی ملی ۔ ان کی اصل فکر اور موضوع اتحادِ امت تھا ۔ حافظ آباد میں قیام کے دوران ’’ایوانِ اتحاد‘‘کے نام سے تنظیم قائم کی ۔آپ کو محسوس ہوا کہ ایسا علمی کام لاہور میں زیادہ موثر قرار پا سکتاہے ،چنانچہ ان کی فکری بے چینی 1990ء میں انہیں لاہور لے آئی ۔
لاہور میں آپ کی قائم کردہ تحریک احیائے امت نے نہایت فعال کردار ادا کیا اور اتحادِ امت کا درد رکھنے والے اہل دانش اس سے جڑتے گئے ۔ اس فورم کے ذریعے لاتعداد سیمینارز اور نشستیں منعقد ہوئیں ،ان نشستوں میں ہرمکتب فکر کی علمی شخصیات شریک ہوتیں اور اتحادِ امت کے عنوان سے پر مغز گفتگواورمذاکرے ہواکرتے ۔ آپ ایک شعلہ نوا مقرر بھی تھے ۔بلال مسجد گارڈن ٹاؤن اور مسجد اللہ والی کریم بلاک لاہور میں آپ کے یادگار خطبات کی گونج آج بھی ماند نہیں پڑی۔ جوہر خطابت کایہ عالم تھا کہ ہر مکتب فکر کے لوگ سننے کے لئے کھنچے چلے آتے ۔ گفتگو ایسی جو سامعین کے دلوں میں اترتی محسوس ہوتی ۔انہوں نے اپنے دل افروز اسلوب میں علم و حکمت کی خوب آبیار ی کی اور اپنی فکر کو بڑی تیزی سے صاحبان علم وفن تک پہنچایا ۔آپ کے فن خطابت سے متاثر ہو کر ممتاز نعت گو شاعر حفیظ تائبؔ ؔ مرحوم نے کہا تھا ؂
وہ نجم بصیرت تھا ، وہ خورشید نوا تھا
یا باغ رسالت کی دلآویز ہوا تھا
تقریر کے انداز میں تھی طرفہ لطافت
اک سو ز و گداز اس کے تخاطب میں گھلا تھا
سید خورشید گیلانی اپنی مختصر سی زیست میں بہت زیادہ کام کرگئے اور گراں بہا تصانیف کی صورت انمٹ علمی ، ادبی اور فکری نقوش چھوڑگئے۔ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ان کے منفر د اسلوب کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:’’نعت سے دماغ روشنی ، قلم پاکیزگی، افکار تازگی، خیالات توانائی ، الفاظ رنگینی اور لہجے رعنائی پاتے ہیں۔ نعت مضمون کو عزت، عنوان کو شہرت ، اسلوب کو
ندرت ،بیان کو وسعت اور کلام کو قوت عطا کرتی ہے۔‘‘ گیلانی صاحب کی ایک درجن سے زائدکتابیں برادرم احسان احمد گیلانی نے حال ہی میں شائع کروائی ہیں جو مارکیٹ میں موجود ہیں ، ان کا مطالعہ ہر صاحب فکر کے لیے ضروری ہے۔ گیلانی صاحب کی یہ یادگار تحریریں دماغ کے در وا کرتی اور فکر کو جلا بخشتی ہیں۔ان میں قلم برداشتہ ، خونِ جگر ہونے تک ، رشکِ زمانہ لوگ، فکر اسلامی، فکر امروز ، روح تصوف ، روح انقلاب ، عصریات، تاریخ کی مراد ،وحدتِ ملی ، الہدیٰ ،اسلوبِ سیاست ، جہانِ خورشید ،خطباتِ خورشید وغیرہ اہم تصانیف ہیں ۔ خورشیداحمد گیلانی بہت مختصر وقت کے لیے دنیا میں تشریف لائے اور صرف 45سال کی عمر میں ڈھیر سارا دینی ، علمی اور ادبی کام کرکے مورخہ5جون 2001ء (بمطابق 12ربیع الاول) کو دار فنا سے دار بقا کو چل دیئے۔ الہم اغفرلہ


ای پیپر