’’سچا اور کھرا لیڈر‘‘ کے درخشاں پہلو
31 مئی 2018 2018-05-31

حب الوطنی کی سطح مرتفع پر مقیم ضیا شاہد کی حقیقت شناس طبیعت علم و ادب کے وہ تمام پھول مہکانے کی متلاشی رہتی ہے جن سے اسلام، پاکستان اور دو قومی نظریے کی خوشبوئیں مشام جاں کو معطر کر ڈالتی ہیں۔ ضیا شاہد کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بے انت وفاؤں کا تسلسل اور بے کراں عقیدتوں کا یہ سفر وطن کی محبت پر مبنی تمام تر جذبات میں ایک مسکان اور احساسات کی مانگ میں کہکشاں سی بھر دیتا ہے ، انتساب پاکستانی قوم کے نام ہے جس میں واضح صراحت رقم کی گئی ہے کہ یہ کتاب نہیں ہے پیغام ہے پاکستانی قوم کے نام جو اپنے راستے سے ہٹ چکی ہے اور دوبارہ راہِ راست پر آنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، جی ہاں ! قائد کی سیاسی ، ذاتی اور عوامی زندگی سے متصل حقائق آفریں واقعات پر مشتمل یہ کتاب ایک ایسا پیغام ہی تو ہے جو راہِ راست کے متلاشی جذبوں کو اجال دیتی ہے ، ایک سچے اور کھرے لیڈر کی زندگی کے مستند واقعات ایک سے سچے ، کھرے اور مستند صحافی کے قلم سے منصہ شہودپریوں آئے ہیں کہ قاری خود کو قائد اعظم ؒ کی حیات کا ایک کردار محسوس کرنے لگتا ہے۔

بابائے قوم محمد علی جناح ؒ کے کشمیر کے سات دوروں کا احوال اور قائد اعظم ؒ بطور وکیل ، بحیثیت خاوند، اقلیتوں کے ساتھ ان کا برتاؤ، خواتین کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور طلبہ کے ساتھ رغبت اور محبت پر مشتمل واقعات آج کے سیاست دانوں کوجھنجوڑنے اور انہیں اعلیٰ قیادت کے عناصر ترکیبی سمجھانے کے لئے انتہائی ناگزیر ہیں، قائد اعظم کے مکتوبات اس کتاب کا حسن ہیں، ایک خط کی دل کشی ملاحظہ کیجیے کہ محمد علی جناحؒ اپنے گھریلو ملازم کو " ڈیئر سر"کہ کر مخاطب کرتے ہیں، وہ کشادہ ظرف محمد علی جناح ؒ جن کا دل اسلام کی محبت سے عبارت تھا انہوں نے کراچی بار ایسوی ایشن کے سپاس نامے کے جواب میں اس کی وضاحت کی کہ میں نے قانون کی تعلیم کے لیے کسی دوسرے ادارے کی بجائے لندن کی درس گاہ "لنکنزان" کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ اس کے دروازے پر دنیا کے عظیم قانون دانوں کی فہرست میں نبی مکرمؐ کا نام بھی شامل تھا۔ قائد اعظم ایک محنتی شخص تھے وہ خود دار وکیل کے ساتھ ایک مثالی خاوند بھی تھے، رتی جناح بیمار ہوئیں تو ان کی محبت میں نہ صرف ایک ماہ تک پیرس مین قیام کیا بلکہ ان کی دیکھ بھال اور خدمت بھی کی، یہ سارے واقعات باالتفصیل اور با حوالہ کتاب میں موجود ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا عزم و ہمم اور مستقل مزاجی دیکھیے کہ وائسرائے ہندلارڈ لنلتھکو نے قائد اعظم ؒ کو کہا کہ اگر وہ پاکستان بنانے کی ضد چھوڑدیں توبہت ساری سیاسی مراعات مسلمانوں کو مل سکتی ہیں، کچھ روز بعد محمد علی جناح ؒ نے روحیل کھنڈ کی گیارہ سالہ لڑکی کا بنایا ہوا پاکستان کا وہ نقشہ وائسرائے کو دکھایا جو ریشمی رومال پر سوزن کاری سے کاڑھا گیا تھا، لارڈ لنلتھکونے کہا کہ پاکستان کا تخیل پردہ کرنے والی عورتوں اور چھوٹی چھوٹی لڑکیوں تک پہنچ چکا ہے، یہ خیال بدلانہیں جا سکتا۔

سچا اور کھرا لیڈر میں قائد اعظم کے پرائیوٹ سیکرٹری " کے ایچ خورشید" کی کتاب" کشمیر، قائد اعظم اور " کے ایچ خورشید" ، کے اقتباسات کے لیے ایک خصوصی گوشہ مختص کیا گیا ہے، قائداعظم کی ذاتی باتوں پر مشتمل واقعات کے لیے بھی ایک حصہ مخصوص ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد علی جناح وقت کے پابند تھے، وہ بناوٹ کو ناپسند کرتے تھے وہ رشوت اور کام چوروں سے بھی نفرت کرتے تھے۔

بے اثر ہوگئے سب حرف ونوا تیرے بعد

کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

تُو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے

ایسی بدلی تیرے کوچے کی فضا تیرے بعد

ہمارے وہ سیاست دان جو اس ملک کے ساتھ جذبات کی سرد مہری بلکہ بے مہری اور بے وفائی کی لت میں مبتلا ہیں انہیں یہ کتاب ضرور پڑھنے کے لیے دی جائے تاکہ انہیں پتا چلے کہ قائد اور لیڈر ہوتا کیا ہے؟ انہیں اس بات کا احساس ہو کہ اپنے وطن کے ساتھ محبت اور نظریاتی ساکھ کی حفاظت کیلئے قول و عمل کا کوہ گراں بننا ہی کسی عظیم لیڈر کے شایان شان ہوتا ہے، ان حالات میں اس کتاب کی سب سے زیادہ ضرورت نواز شریف کو ہے انہیں یہ کتاب صرف ہدیہ نہ کی جائے بلکہ پڑھنے کے لیے قائل کیا جائے ، یقیناً راکھ میں دبی چنگاری ضرور بھڑک اٹھے کی اور شاید شعلہ جوالہ ہی بن جائے۔

اس ملک کے ساتھ عقید توں کا جو شبنمی احساس ضیا شاہد کی طرف سے آرہا ہے یہ نوجوانوں کے اندر احساس زیاں پیدا کرنے میں ضرور کامیاب ٹھہرے گا (ان شا ء اللہ )ہمارے وہ اِکل کُھرے سیاست دان جو ہمہ وقت اس ملک پر دانتا کلکل ڈالے رکھتے ہیں انہیں یہ کتاب بطور خاص پڑھنی چاہیے ۔ برادرم عبدالستار عاصم سے گزارش ہے کہ اس کتاب کو عام کتاب کے طور پر نہ لیا جائے، یقیناً یہ کتاب کا وی آئی پی ایڈیشن ہے مگر اس کتاب کو سادہ اور عام کاغذ پر کم سے کم قیمت میں شائع کر کے عام لوگوں کو بھی ضیا شاہد کے اس پنگھٹ سے اپنی پیاس بجھانے کا موقع فراہم کیا جائے، کتاب کو اساتذہ اور طلبہ تک پہنچانے کیے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں، تمام سیکرٹریز ایجوکیشن سے اجازت لے کر کتاب کو ملک بھر کے تمام سکولوں کی لائبریریوں میں پہنچانے کا انتظام بھی ضروری ہے تاکہ تعلیم اور تعلم سے وابستہ تمام لوگوں کو حیات قائد کے درخشاں پہلوؤں کا ادراک ہو، یقیناً اس کتاب کو احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے ضیاء شاہد ایک دشت جنوں سے گزر آئے ہوں گے اور ایک طویل صحرا نوردی کے بعد یہ ایک شاہ کار کتاب تخلیق کی ہوگی سو جناب ضیا شاہد کے لیے یہ شعر بطور خاص

جن کا نعم البدل نہیں ہوتا

تم انھی میں شمار ہوتے ہو

سچا اور کھرا لیدر کتاب منگوانے کے لیے جناب عبدالستار عاصم کے فون نمبر0300-0515101 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے اور براہ راست قلم فاؤنڈیشن یثرب کالونی بنک سٹاپ والٹن روڈ لاہور کینٹ سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔


ای پیپر