مظہر کلیم....تیرے زمانے کبھی نہ آئیں گے!
31 مئی 2018 2018-05-31

اللہ بخشے ابا جی مرحوم نے زندگی میں شاید پہلی اور آخری بار مجھے تھپڑ اُس کی وجہ سے مارا تھا، ماں جی اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، نے تو مجھے اس کی وجہ سے اتنی بار مارا تھا کہ شاید شمارممکن نہیں۔ میٹرک کے امتحانات ہو رہے تھے اور ملتان بورڈ کے پرچے اور ممتحن تو ہمارے نزدیک ہند، سندھ میں سخت مشہور تھے البتہ اپنے سینئرز کو ہمیشہ شکوہ کناں ہی دیکھا تھا کہ فلاں بورڈ بہت اچھا ہے پیپر آسان ہوتے ہیں فلاں صوبے میں نمبر آسانی سے مل جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن کبھی کسی نے ملتان تعلیمی بورڈ کے حق میں کلمہ خیر نہیں کہا تھا، ایسے خوفناک اور ڈراﺅنے بورڈ کے اگر امتحانات ہو رہے تھے تو مجھے اس کے لیے تیاری کرنی چاہیے تھی لیکن ہوا یہ کہ ابا جی نے مجھے کتابوں کے بجائے اُس کے ساتھ وقت گزارتے پکڑ لیا اور کسَ کر ایک طمانچہ میرے منہ پر رسید کر دیا، تھپڑ کی تکلیف سے زیادہ رونا، پہلی بار ابا کے ہاتھ اٹھانے کی وجہ سے آ رہا تھا کہ ساری زندگی میں کبھی نہیں مارا اور اب جب کہ میں بڑا ہو گیا ہوں اور اماں نے بھی اب تقریباً مارنا چھوڑ دیا ہے، انہیں کیا سوجھی؟ اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ پاکپتن جیسے لوئر مڈل کلاس قصبے میں ایک عام سی فیملی کے سربراہ کو جب پتہ چلے کہ اس کا اکلوتا بیٹا میٹرک کے امتحانات کے دوران نصابی کتب پڑھنے کی بجائے ”عمران سیریز“ پڑھ رہا ہے تو اس کے علاوہ شاید اس کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا۔ صبح فزکس کا پیپر تھا اور میں نے کتاب کے اندر مظہر کلیم ایم اے کی لکھی ہوئی ”فیس آف ڈیتھ“ چھپا رکھی تھی۔
دو دن پہلے مظہر کلیم ایم اے کی وفات کی خبر نظروں سے گزری تو وہ زمانے یاد آ گئے جو اب کبھی نہیں آئیں گے ۔ عمرو عیار کی زنبیل اور ٹارزن کی کہانیاں تیسری جماعت میں ہتھے چڑ ھ گئیں پھر شاید پانچویں میں جاسوسی یا سسپنس ڈائجسٹ مل گیا جس کے بعد چل سو چل۔
اشتیاق احمد، صفدر شاہین کی کہانیوں سے گزر کر مظہر کلیم کی عمران سیزیز تک پہنچے تو آنکھیں کھل گئیں۔ یہ وہ دور تھا جب آنہ لائبریریاں ختم ہو چکی تھیں اور پرانی کتاب یا رسالہ ایک روپیہ روز جبکہ نئی دو روپے روز میں ملا کرتیں۔ پاکپتن میں میونسپل لائبریری کے علاوہ صرف دو لوگ کرائے پر کتابیں مہیا کرتے جن میں سے جمیل بٹ کا نام ابھی حافظے میں موجود ہے۔ پھر کسی نے کہا کہ یہ مظہر کلیم کیا عمران سیزیز لکھتا ہو گا عمران سیریز تو ابن صفی لکھا کرتا تھا پھر کیا تھا ،ابن صفی ، این صفی،نجمہ صفی، ایم اے راحت، صفدر شاہین اور جس جس نے بھی عمران سیزیز لکھی سب کو پڑھ ڈالا۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ عمران کے کردار کو تخلیق ابن صفی نے کیا اور چونکہ اردو فکشن میں یہ ایک نئی بات تھی لہٰذا بہت پذیرائی ملی لیکن حق یہ ہے کہ عمران سیریز کو جو عروج مظہر کلیم کے قلم نے عطا کیا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آ سکا۔ ابن صفی اور مظہر کلیم کا موازنہ مقصود نہیں کیونکہ ایک تو ڈائجسٹ میں لکھنے والوں کو پہلے ہی ادیب شمار کرنے کی بحث کبھی ختم نہیں ہوتی پھر اگر کراچی کے ابن صفی کا ملتان کے مظہر کلیم سے تقابل کیا جائے تو نئے پرانے مردے اکھاڑنے پڑیں گے یہاں تو حفیظ جالندھری کو اپنی زبان سے کہنا پڑا تھا کہ
اہل زباں کب مانتے تھے حفیظ
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
ابن صفی اپنے وقت کے حساب اور پاکستان میں جاسوسی فکشن کے بانی ہونے کے اعتبار سے بہت اچھے تھے لیکن ہمارے وقت میں جتنے بھی کہانیاں لکھنے والے تھے ان میں مظہر کلیم سب سے آگے تھے ہمارے قصبے کے سینما میں کبھی جیمز بانڈ کی فلم نہیں لگی تھی لیکن یقین مانئے مظہر کلیم نے اس کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دی۔ ہم شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے کتابیں نہیں پڑھتے تو شاید انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ان کے پاس اس سے بہتر اور طاقتور میڈیم ٹی وی انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز کی شکل میں موجود ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ لکھا ہوا لفظ دماغ کے جس حصے میں اپنا پیغام چھوڑتا ہے کیا یہ ذرائع ابلاغ وہاں تک رسائی رکھتے ہیں؟
مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ مظہر کلیم نے میرے تخیل کو وسعت اور بلند پرواز عطا کی، بڑے کینوس سے روشناس کرایا۔ آئی ایس آئی کا نام نہیں سنا تھا اور نہ فوج کو گالی دینے کا فیشن تھا۔ پاکیشیا سیکرٹ سروس ہمارے لیے پاکستان کی سیکرٹ سروس ہوا کرتی تھی اور عمران کا ہر مشن ہماری رگوں میں خون کی گردش تیز کر دیا کرتا تھا اسی لیے شاید میٹرک کے بعد فوج میں بھرتی ہونے کے لیے گھر سے بھاگ کر اپنی اماں کی خالہ خورشید کے گھر حویلی لکھا چلا گیا تھا، جہاں سے مجھے بہلا پھسلا کر واپس لایا گیا اور کالج میں داخل کرایا گیا۔
حب الوطنی، بین الاقوامی سازشوں سے واقفیت اور زیادہ دیر تک پڑھنے کی عادت ڈائجسٹ اور عمران سیریز کے بغیر شاید ممکن نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جوش ملیح آبادی کی ”یادوں کی بارات“ کو ایک نشست میں ختم کرنے کو زیادہ بڑا کام نہیں سمجھتا لیکن ممتاز مفتی کی ”علی پور کا ایلی“ ایک ہی نشست میں ختم کرنے پر اپنے آپ کو شاباش ضرور دیتا ہوں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مظہر کلیم ایک عام قلم مزدور تھا اور کوئی خاص فلسفہ اور پیغام اس سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسا کہنے والے اپنے ذاتی، علاقائی اور لسانی تعصب سے آگے نہ پڑھ پاتے ہیں اور نہ سوچ سکتے ہیں لیکن مظہر کلیم نے مجھ سمیت میرے ہم عمر اور ہم عصر لوگوں کی زندگیوں میں نئے رنگ متعارف کرائے تھے، دوپہر کے کھانے کے بعد جب قیلولے کے لیے لیٹ جاتے تو سب کے ساتھ سونے کی ایکٹنگ کرنے اور پھر ان کے سو جانے کے بعد دبے پاﺅں دوسرے کمرے میں جا کر عمران سیریز پڑھنے کا مزہ ،لیا جا سکتا ہے بتایا نہیں جا سکتا۔
ہائے ظالم تو نے پی ہی نہیں!
یہ کالم حالات حاضرہ کی وجہ سے دو دن تاخیر سے لکھ رہا ہوں جس کا افسوس ہے مگر برادرم عامر خاکوانی، طارق چوہدری کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر شاہد صدیقی بھی مظہر کلیم کے کشتگان میں ہوں گے سوچا نہ تھا، عامر خاکوانی اور طارق چوہدری تو سمجھ میں آتے ہیں مگر صدیقی صاحب آپ بھی؟
ہم تو ملاقات میں عمر کی رعایت سے آج تک آپ کو اضافی احترام بھی دیتے آئے ہیں ازراہ کرم پہلی فرصت میں اپنی اصل عمر سے آگاہ فرمائیں، رہا مظہر کلیم کا معاملہ تو یہ کالم مظہر کلیم کا ادھار چکانے کی صرف ایک کوشش ہے جو وہ ہم پر چھوڑ گئے ہیں اب علی عمران، انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامران جیسے دیگر کرداروں کی کہانیاں کون کہے گا اور کون سنے گا؟
یہاں تو ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ کونسے نامزد نگران کے لاکھوں ڈالرز کے اثاثے ورجینیا میں ہیں اور کس کے بھائی نے پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سفارش کے لیے امریکا سے آنے والے بھائی پر بیڈ روم کے دروازے بند کر دیئے تھے، ویسے کیا خیال ہے مظہر کلیم یہ کہانی کیسے لکھتے؟


ای پیپر