پانی کو عزت دو !
31 مئی 2018 2018-05-31

(گزشتہ سے پیوستہ) ” پانی کو عزت دو “ کے عنوان سے لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا اس موضوع پر ایک فکر انگیز تحریر مجھے میرے محترم بھائی سہیل بٹ نے بھجوائی ہے۔ اگلے روز یہی تحریر بلوچستان میں تعینات ایک دوست پولیس افسر ڈاکٹر سلمان سلطان رانا نے بھی اپنی فیس بک وال پر پوسٹ کی۔ انکشاف ہوا یہ تحریر ہمارے محترم قلم کار بھائی جناب آصف محمود نے چند روز پہلے ایک کالم کی صورت میں لکھی تھی، وہ ایک انتہائی محب وطن اور غیرجانبدار قلم کار ہیں ، مختلف موضوعات پر ان کی تحریریں خواہ وہ اُن کے کالموں کی صورت میں ہوں یا اُن کی فیس بک کی کسی پوسٹ کی صورت میں ہوں جو انتہائی توجہ اور سنجیدگی سے پڑھی جاتی ہیں اور پسند بھی کی جاتی ہیں،” پانی کو عزت دو “ کے عنوان سے فکرانگیز کالم اُنہوں نے لکھا وہ حقیقی معنوں میں پاکستان اور اِس کے کروڑوں بے بس، مظلوم اور آنے والے خطرناک حالات سے مکمل طورپر بے خبر عوام کے ساتھ محبت کا حق ادا کردیا ہے، جو بنیاد اُنہوں نے رکھی ہے اُسے باقاعدہ ایک تحریک کی صورت میں پھیل جانا چاہیے، ہمارے تمام قلم کاروں کو اس پر لکھنا چاہیے ، ہمارے اینکرز کو اِس پر پروگرامز کرنے چاہئیں، پانی کے مسائل سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنے کی فوری تحریک شروع نہ کی گئی بہت جلد پانی کی ایک ایک بوند کو ہم ترسیں گے، جناب آصف محمود نے الارم بجادیا ہے۔ میں نے بھی اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کی ہے۔ میں اپنے تمام محترم قلم کار بھائیوں سے التجا کرتا ہوں وہ اس موضوع پر لکھیں اور ہر فورم پر اس کی آواز اُٹھائیں، جو کردار عوام کا بنتا ہے، بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا اس مسئلے پر اصل کردار تو عوام کا بنتا ہے۔ جو مکمل طورپر خاموش ہیں۔ اُنہیں ہوش شاید اُس وقت آئے گی جب پانی سر سے گزر چکا ہوگا ۔ جب وہ ایسی دلدل میں دھنس چکے ہوں گے جہاں سے باہر نکلنا ناممکن ہوگا!
جناب آصف محمود کی اس فکر انگیز تحریر کے مطابق بارہ سو ٹن ٹراﺅٹ مچھلی دریائے نیلم سے پکڑ کر مقامی لوگ لوکل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ بھی مکمل طورپر ختم ہو جائے گا۔ جنگلات کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ صرف یہی نہیں پاکستان سے نیلم جہلم پراجیکٹ کا مستقبل بھی مخدوش ہوتا جارہا ہے، ہمارا 27فی صد پانی کم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈورپاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت بھی بیس فی صد کم ہوجائے گی۔ اور بھارت نے کسی وقت مزید شرپسندی کرنی چاہی حالات مزید تباہی کی طرف چلے جائیں گے۔ تباہی اب بھی ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے، اس سارے معاملے میں ہماری حکومت نے جس بے غیرتی ، جہالت اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ انتہائی خوفناک ہے، بھارت نے اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا تو پاکستان نے انٹرنیشنل کورٹ آف آربٹریشن سے رجوع کرلیا، عدالت نے پاکستان سے کہا وہ پانی کے حوالے سے سارا ڈیٹا شواہد کے ساتھ عدالت کو فراہم کرے۔ پاکستان کی تیاریوں کا عالم یہ تھا جب عدالت نے ڈیٹا مانگا حکومت کے پاس عدالت کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ حکومت نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے عدالت سے کہا ہمیں دس دنوں کی مہلت دے دیں ہم سب کچھ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان جس وقت پانی کے اہم ترین مسئلے پر اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہا تھا نواز شریف اقتدار سنبھال چکے تھے۔ اُن کی بے نیازی کا عالم یہ تھاپاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں تھا۔ نواز شریف 25جون 2013ءکو وزیراعظم بنے۔ اُس کے چھ ماہ بعد عدالت نے 20دسمبر 2013ءکو بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا، اس فیصلے کے صفحہ 34پر عدالت نے لکھا ”حکومت پاکستان پانی کے موجودہ اور متوقع زرعی استعمال کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار ہی پیش نہیں کرسکی“۔ کوئی مہذب معاشرہ ہوتا اس غفلت پر حکومت کا حشر نشر کردیتا، لیکن نیم خواندہ معاشرے میں نواز حکومت نے کمال ڈھٹائی سے دعویٰ فرما دیا کہ ”یہ فیصلہ دراصل ہماری کامیابی ہے“.... اُس کے بعد بھارت نے کھل کر کھیلنا شروع کردیا، سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی گئیں۔ نواز شریف اس سارے عرصے میں مودی کی ناز برداریاں اُٹھاتے رہے۔ سجن جندال کی میزبانیاں بھی فرماتے رہے۔ اب جبکہ بھارتی وزیراعظم مودی اس ڈیم کا افتتاح کرنے والا ہے تو ہمیں ہوش آیا ہے اور ہم درخواست ہاتھ میں پکڑے ورلڈ بینک کی منتیں کرنے لگے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چونکہ آپ ثالث ہیں اس لیے ہماری مدد کریں، ہمارا خیال تھا اپریل میں ورلڈ بینک اس ضمن میں ہمیں وقت دے دے گا، مگر اُنہوں نے کہا ہم مصروف ہیں فی الحال آپ کو وقت نہیں دے سکتے۔ اب ڈیم سے پہلے ورلڈ بینک کے پاس کوئی وقت نہیں ہوگا اورڈیم کے افتتاح کے بعد اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پانی ہماری زندگی موت کا مسئلہ ہے مگر ہمیں کوئی حیا ہی نہیں آرہی اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں، کوئی اور ملک ہوتا اور اُس کے ساتھ ایسی واردات ہوئی ہوتی وہ اب تک سفارتی محاذ پر ایسا طوفان کھڑا کردیتا ورلڈ بینک کیا اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا پڑ جاتا۔ افسوس کشن گنگا کی واردات پر ہماری حکومت بول رہی ہے نہ اپوزیشن کو اس کا کوئی احساس ہے جہاں تک ہمارے عوام کا تعلق ہے ایسے معاملات سے وہ ویسے ہی غافل رہتے ہیں، کشن گنگا پراجیکٹ سے ہمارے ایکو سسٹم کو بھی خطرہ ہے۔ بھارت یو این کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کنونشن کلائمنٹ چینج اور کنونشن آن واٹرلینڈ پر دستخط کرچکا ہے۔ ہماری پوری ایک وادی مکمل طورپر تباہ ہونے جارہی ہے، ہم نے ان کنونشنز کو کسی فورم پر ابھی تک موضوع ہی نہیں بنایا ۔ کشن گنگا ڈیم سے پاکستان کو سالانہ 140ملین ڈالرز کا نقصان متوقع ہے۔ یہ موضوع ہمارے قومی بیانیے میں کوئی مقام ہی حاصل نہیں کر پا رہا، نیم خواندہ رہنما ، تماشبین عوام اور ڈگڈگی بجاتی سکرینیں آتش فشاں پر بیٹھ کر بغلیں بجارہی ہیں۔ آج اس کا کسی کو احساس تک نہیں ہورہا، مگر یادرکھیں بہت جلد پانی کا ایک خوفناک بحران ہمارے سامنے ہوگا اور ہم اُس کے آگے بین بجارہے ہوں گے “....
جناب آصف محمود کی یہ تحریر پڑھ کر میں سخت خوفزدہ ہوگیا ہوں، یوں محسوس ہورہا ہے اس المناک کہانی کا ایک کردار میں بھی ہوں۔ اس ملک کی تباہی کے ذمہ دار صرف حکمران نہیں ہیں، اس ملک کی تباہی کے اصل ذمہ دار ہم ہیں جو بار بار ایسے حکمرانوں کو منتخب کرتے ہیں جنہیں ملکی مفادات کے سودے کرنے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ پچھلے کئی برسوں سے ایسے فوجی وغیر فوجی سیاستدان بجلی و پانی کے وفاقی وزراءبنائے گئے جنہیں اس شعبے کے مسائل کا کوئی اداراک، کوئی سمجھ بوجھ ہی نہیں تھی۔ اُوپر سے ہمارے بیوروکریٹس نااہلی میں اُن سے بھی دوہاتھ آگے ہوتے ہیں۔ اب خواجہ شمائل احمد کچھ عرصے سے آبی وسائل کے سیکرٹری ہیں، وہ انتہائی اچھے دل ودماغ کے مالک ہیں۔ میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں پچھلے کچھ برسوں سے ایسے محنتی ، قابل افسران آبی وسائل کے سیکرٹری بنے ہوتے پانی کی صورت حال اس حدتک خطرناک نہ ہوتی!


ای پیپر