Syed Sardar Ahmad Pirzada, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
31 مارچ 2021 (12:00) 2021-03-31

پیپلز پارٹی اپنے آپ کو خالصتاً جمہوری جماعت کہتی ہے لیکن عملاً وہ ہردور میں کسی نہ کسی انداز سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ فٹ ہوتی آئی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ جمہوریت کا منطقی اصول ہے کہ جمہوری ہوتے ہوئے ہرکسی کے ساتھ فٹ ہونا متضاد نظریات ہیں۔ یہاں ہم سب ایک بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت، اپوزیشن اور سیاست کے حوالے سے طاقت کا سرچشمہ گزشتہ 73 برسوں سے اب تک صرف ایک ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور سیاست کی سب غلام گردشیں اُسی طاقت کے سرچشمے کے گرد گھومتی ہیں۔ پاکستان میں سیاست کے حوالے سے طاقت کے سرچشمے کی حقیقت کو نہ ماننا سخت گرمیوں کے سورج کی تپتی دوپہر کو ٹھنڈی میٹھی اندھیری رات سے تشبیہ دینے کے مترادف ہوگا۔ اب تک پاکستان کی کوئی بھی کامیاب سیاسی جماعت یا کامیاب سیاسی رہنما طاقت کے اُس سرچشمے کے بغیر نہ ہی پیدا ہوا اور نہ ہی پھولا پھلا۔ اس دلیل کو ثابت کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی پیدائش اور پھولنے پھلنے تک کے معاملات کو تاریخ کے آئینے میں مختصراً دیکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو صدر سکندر مرزا کی کابینہ میں شامل رہے۔ صدر سکندر مرزا کو اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مطلب یہ کہ صدر سکندر مرزا اُس وقت کے سلیکٹڈ تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی کابینہ میں سلیکٹ کیا۔ جب اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ جنرل ایوب خان برسراقتدار آئے تو ذوالفقار علی بھٹو ناتجربہ کار جوان ہونے کے باوجود ایوب خان کے بہت چہیتے بن گئے۔ یہاں تک کہ ذوالفقار علی بھٹو نے انڈس واٹر ٹریٹی کے معاہدے کے دوران ایوب خان کو اسسٹ کیا اور مشورے دیئے۔ یہ وہی انڈس واٹر ٹریٹی ہے جس کے بارے میں اب کہا جاسکتا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی بجائے انڈیا کے حق میں کیا گیا تھا۔ جب جنرل یحییٰ برسراقتدار آئے تو ذوالفقار علی بھٹو یحییٰ مارشل لاء کے روح رواں تھے۔ جنرل یحییٰ نے جاتے ہوئے اپنا اقتدار سِویلین ذوالفقار علی بھٹو کو سونپا۔ اقتدار کی منتقلی کا یہ طریقہ قانونی طور پر واضح نہیں تھا۔ اِس طریقہ کار کو غیرقانونی بھی کہا جاسکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سکندر مرزا، جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ حکمران تھے اور ذوالفقار علی بھٹو اِن تینوں کے چہیتے تھے تو کیا سیاست میں سلیکٹ ہونے کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی؟ سب سے المناک سوال یہ کہ 1970ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں جب مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ زیادہ نشستیں لے کر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر 

ابھری تو اُس وقت کی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کیوں نہیں کیا؟ اِس صورتحال کو کیا یوں نہیں پڑھا جاسکتا کہ ذوالفقار علی بھٹو اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے سلیکٹڈ تھے اور اُس وقت کے سلیکٹر ذوالفقار علی بھٹو کو ہی حکمران بنانا چاہتے تھے؟ بینظیر بھٹو 1986ء میں جنرل ضیاء الحق کے ہوتے ہوئے دھوم دھام سے پاکستان واپس آئیں۔ وہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جسے جنرل ضیاء الحق کہا جاتا تھا اور بقول پیپلز پارٹی کے وہ اِس حد تک ظالم ڈکٹیٹر تھا کہ اُس کی مرضی کے بغیر ملک کی سیاست میں ایک تنکہ بھی اِدھر سے اُدھر نہیں ہوسکتا تھا، کے ہوتے ہوئے کیا یہ منطق ثابت نہیں ہوتی کہ بینظیر بھٹو بھی کسی معاہدے جس کو آج کل ڈیل کہا جاتا ہے کے تحت وطن واپس آئیں؟ جب بینظیر بھٹو پہلی مرتبہ وزیراعظم بنیں تو قومی اسمبلی میں اُن کی جماعت کی نشستیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے ناکافی تھیں لیکن ریکارڈ کی بات ہے کہ اُس وقت کے صدر غلام اسحق خان پر دبائو تھا کہ بینظیر بھٹو کو ہی اقتدار دیا جائے۔ اب یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ صدر غلام اسحق خان اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے اعلانیہ نمائندہ تھے اور انہوں نے ہی بینظیر بھٹو کو سلیکٹ کیا۔ یہ بات بھی اب ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بینظیر بھٹو کو اقتدار دینے کا دبائو ملک سے باہر بیرونی اسٹیبلشمنٹ سے بھی آیا تھا۔ دوسری مرتبہ جب بینظیر بھٹو کو اقتدار ملا تو بجلی گھروں کے بدنام زمانہ آئی پی پیز معاہدے ہوئے جس کا مکمل فائدہ ملک سے باہر کے مافیا کو ہوا اور جس کی سزا آج تک پاکستان کے غریب عوام بھگت رہے ہیں۔ تو کیا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایسے ظالمانہ سرمایہ دارانہ آئی پی پیز معاہدوں وغیرہ کے لیے دوسری مرتبہ پیپلز پارٹی کو سلیکٹ کیا گیا؟ جب پاکستان میں اب تک کا چوتھا مارشل لاء لگا تو جنرل مشرف کے ساتھ این آر او کا معاہدہ بھی بینظیر بھٹو نے ہی طے کیا۔ کیا جنرل مشرف کے ساتھ بینظیر بھٹو کا ہونے والا این آر او ڈیل نہیں تھا؟ پیپلز پارٹی نے تیسری مرتبہ آصف علی زرداری کی قیادت میں اقتدار حاصل کیا۔ کیا یہ بات کسی سے پوشیدہ ہے کہ اُس وقت کے سلیکٹرز نے پیپلز پارٹی کو سلیکٹ نہیں کیا تھا؟ اور کیا پیپلز پارٹی کی تیسری نسل نے سلیکشن کے مزے اٹھانے کی ابتداء سینیٹ سے نہیں کرلی ہے؟ دن دیہاڑے سلیکشن کی اِن مثالوں کے بعد یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا فیورٹ ہونے کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو موت سے ہمکنار کیوں ہونا پڑا؟ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے صرف ایک لائن کے فلسفے کو سمجھنا پڑے گا۔ وہ یہ کہ ایجنسیوں سے مفاد حاصل کرنے کے بعد انہیں دھوکہ دینے والے کو معاف نہیں کیا جاتا۔ یہ پوری دنیا کا یونیورسل ٹروتھ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو مقامی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے آگے بڑھے لیکن انہوں نے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے دوستی کرلی۔ اس دوستی کو مقامی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے خلاف دھوکہ دہی سے تعبیر کیا۔ بالکل یہی صورتحال بینظیر بھٹو کی بھی رہی۔ گویا پیپلز پارٹی مقامی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں سے اڑان بھرکر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھنے کی کوشش کے دوران ماری جاتی ہے۔ اس کی ایک اور مثال آصف علی زرداری کی صدارت کے دوران کی ہے جب انہوں نے اشارتاً مقامی اسٹیبلشمنٹ کو للکارا مگر اپنی غلطی کو بھانپتے ہوئے فوراً ملک سے چلے گئے۔ وہ لمبے عرصے تک دبئی میں قیام پذیر رہے اور وہیں سے اپنی صدارت چلاتے رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی کی تیسری نسل مقامی اسٹیبلشمنٹ سے فائدہ اٹھاکر اُسے دھوکہ دینے کی کوشش کرتی ہے یا نہیں؟ بہرحال یہ بات کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا کہ پاکستان کی سیاست میں طاقت کا سرچشمہ صرف ایک ہے اور اسی کے گرد حکومت، اپوزیشن اور سیاست کی غلام گردشیں گھومتی ہیں۔ 


ای پیپر