Umer Khan Jozi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
31 مارچ 2021 (11:50) 2021-03-31

کہتے ہیں تین دوست کہیں اکٹھے سفر پرجارہے تھے،راستے میں جنگل سے گزرتے ہوئے انہیں کہیں ایک چراغ مل گیا۔چراغ کورگڑتے ہی اس سے ایک موٹالمباجن نمودارہوا۔کیاحکم ہے میرے آقا۔جن کی گرج دار آوازسن کروہ تینوں دوست بہت گھبرائے۔ آقایاآقائوں کے چہرے پرخوف اورگھبراہت کے آثاردیکھ کرجن مئودبانہ اندازمیں بولے۔ گھبرایئے نہیں میں آپ کاخادم،غلام اور نوکر  ہوں۔ آپ نے مجھے اس چراغ سے آزادکرکے مجھ پربڑااحسان کیا ہے میں آپ کایہ احسان اب کبھی نہیں بھول سکتا۔میں آپ تینوں کی کوئی بھی ایک ایک خواہش پوری کرسکتاہوں۔بتایئے گا آپ کی کیاکیاخواہش ہے۔ان تین دوستوں میں سے پہلاجورنگ کاکالااورجسم کا کمزور تھا فوراً بولا۔ مجھے گورا چٹا اور ہینڈسم کر دیں۔ جن نے چھڑی گھمائی اوروہ گوراچٹااورہینڈسم ہوگیا۔دوسرے نے کہامجھے بھی گوراچٹااورخوبصورت بنا دیں۔ جن نے اس کی خواہش بھی پوری کردی۔تیسرے کی باری آئی تواس نے ہنسناشروع کردیا۔جن نے کہا۔ ہنسو مت اپنی خواہش بتا دو۔ اس نے اپنے مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے کہاکہ ان دونوں کوپھرسے کالا کر دو۔ یہ لطیفہ پڑھتے ہوئے ہمیں فوراً آصف زرداری کی ہنسی یادآجاتی ہے۔ویسے اس لطیفے میں شامل تیسرے دوست اورآصف علی زرداری کی ہنسی کاآپس میں ایک گہراتعلق نظرآرہاہے۔کیونکہ پی ڈی ایم سے بغیرمشاورت اورمسلم لیگ ن کی بھرپورمخالفت کے باوجود یوسف رضاگیلانی کوسینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے سے لگتایہی ہے کہ سابق صدربھی کہیں اس تیسرے دوست کی طرح پی ڈی ایم میں شامل اپنے دیگردوستوں کو گورا چٹا ہونے کے بعدپھرسے کالاکرنے کی کوئی خواہش رکھتے ہیں۔ آصف زرداری کے دل ودماغ میں اگراس طرح کی کوئی خواہش نہ ہوتی تووہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کوبائی پاس اور نظرانداز کرکے اس طرح کے اقدامات کبھی نہ اٹھاتے۔ کوئی مانے یانہ۔حق اورسچ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم سے راہیں 

جداتھیں اوراب جداہوبھی گئی ہیں۔پیپلزپارٹی والے بے شک ظاہری طورپرپی ڈی ایم کے کندھوں کے ساتھ کندھااورٹخنوں کے ساتھ ٹخناملاکے چلے لیکن اصولی طورپرپی ڈی ایم میں شامل مسلم لیگ ن،مولاناکی جے یوآئی اور دیگر پارٹیوں کواب پیپلزپارٹی کے ساتھ کندھایاٹخناملانے اورساتھ چلنے کاکوئی اخلاقی جوازباقی نہیں رہا ہے۔ پیپلزپارٹی والے اپوزیشن لیڈری کیلئے ایک ایسے شخص جن کووہ کل تک چیئرمین سینیٹ ہی نہیںمانتے تھے جس طرح ان کے پاس گئے اس سے یہی لگ رہاہے کہ پیپلزپارٹی کوبھی پی ڈی ایم اتحادسے اب کوئی خاص لینادینانہیں۔ کیونکہ پی ڈی ایم اتحادکے ذریعے پیپلزپارٹی نے جومفادات حاصل کرنے تھے وہ انہوں نے حاصل کرلئے ہیں ۔اب پی ڈی ایم کی حیثیت اوراہمیت ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ویسے آصف علی زرادری توپہلے ہی کئی بارکہہ چکے ہیں کہ سیاسی اتحاد اور معاہدے یہ قرآن وحدیث کے کوئی حرف تونہیں۔یہ توہم سب کوپتہ ہے کہ وعدے کونہ نبھانے پرقرآن وحدیث میںکتنی سخت وعیدہے اوریہ بھی سب جانتے ہیں کہ ایفائے عہدیعنی وعدے کوپوراکرنایہ حدیث کے الفاظ ہی ہیں لیکن کوئی اپناالوسیدھاکرنے کے بعداس کومانے ہی نہیں توہم کیاکہہ سکتے ہیں۔ صرف پیپلزپارٹی یاآصف علی زرادری نہیں ہماری اکثرسیاسی جماعتوں ،پارٹیوں اورلیڈران قوم کے سیاسی اتحاد،وعدے اوردعوے،،رات گئی بات گئی،، یازیادہ سے زیادہ ،،مٹی پائو،، تک ہی محدودہوتے ہیں۔پی ڈی ایم میں شامل ان موقع پرست سیاسی جماعتوں کی اصلیت اورنسلیت سے کون واقف نہیں۔پوری دنیاجانتی ہے کہ اقتدارتک پہنچنے کے لئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی چھتری تلے متحدہونے والی یہ اکثرسیاسی پارٹیاں ماضی میں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان رہیں اوریہ بھی سب کوپتہ وکامل یقین ہے کہ آنے والے کل کوبھی یہ سارے پھرایک دوسرے کے ساتھ کیسے دست وگریبان رہیں گے۔ پی ٹی آئی اتحاد اور وزیراعظم عمران خان کوتوبرابھلاہم سب کہتے ہیں اورکہنابھی چاہیئے کیونکہ ڈھائی سال میں اس گروہ نے جس طرح ملک وقوم کی تباہی اوربربادی کے لئے سامان فراہم کیا ہے اس پران کواچھاکہنے کاتوکوئی تک ہی نہیں بنتالیکن حکومت کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں،جماعتوں اورلیڈروں کے لئے بھی اچھائی کے الفاظ استعمال کرناہمارے نزدیک ہرگزہرگزمناسب نہیں۔کیونکہ ڈھائی سال میں اس حکومت نے جتنے گناہ کئے ہیں ان گناہوں اورجرائم میں ہماری یہی اپوزیشن جماعتیں اوران کے لیڈر برابرکے شریک رہے ہیں۔ کوئی ایک اجلاس ایسابتادیں جس میں عوام کی خاطران اپوزیشن رہنمائوں نے کوئی واک یاناک آئوٹ کیاہو۔؟ڈھائی سال تک پی ٹی آئی حکومت تاریخ ساز مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک اورافلاس کے ذریعے غریبوں کاخون چوستی رہی مگرپی ڈی ایم میں شامل عوام کے یہ خیرخواہ کسی ایک دن بھی عوام کے لئے چوکوں اورچوراہوں پر نہ نکل سکے۔اپنی ذات اورمفادکے لئے توانہوں نے مارچ اورملین مارچ بھی کئے۔ دھرنے بھی دیئے،احتجاج بھی کئے ،جلسے اورجلوس بھی نکالے،مظاہرے بھی کئے لیکن ان ڈھائی سالوں میں مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک اورافلاس کے خلاف انہوں نے مارچ اورملین مارچ تودور۔کوئی چھوٹاساجلسہ اورجلسی بھی نہیں کی۔ لوگ ایک زرداری کے تیوربدلنے کارونارورہے ہیں ہم توکہتے ہیں کہ آج نہیں توکل پی ڈی ایم میں شامل جمہوریت کے ان سب سرخیلوں کی آنکھیں ایک دوسرے کیلئے سرخ اورتیوربدلے بہت بدلے ہوں گے۔یہ سب مفادات کے بچے ہیں ۔جب تک پی ڈی ایم کے گھوڑے سے ان کے مفادات جڑے ہوں گے تب تک یہ جمہوریت کاسبق پڑھتے اورپڑھاتے رہیں گے لیکن جس دن ان کے مفادات پورے یاایکسپائرہوگئے تویہ زرداری کی طرح ایک دوسرے کولات مارنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔کہتے ہیں کہ اپنے باڑے میں بڑے ہونے والے کٹے کے دانت پھرنہیں گنے جاتے۔پی ڈی ایم میں شامل ان سیاسی کٹوں کے دانت گننے کی ضرورت نہیں۔نادان کہتے ہیں کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی مشاورت کے بغیر یوسف رضاگیلانی کے اپوزیشن لیڈربننے سے پی ڈی ایم کاجنازہ نکل گیاہے ۔


ای پیپر