کورونا مولوی!
31 مارچ 2020 2020-03-31

میں نے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا ” کورونا سے غیر ضروری طور پر خوف زدہ ہونے کے بجائے اگر ضروری طور پر ہم خوف خدا میں مبتلا ہو جائیں،جسے ہم مکمل طور پر نظرانداز کر چکے ہیں تو یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں ۔ کورونا کم از کم پاکستان سے ضرور بھاگ جائے گا....یا یہ کہ یہ ہماری زندگیوں میں مزید داخل نہیں ہو گا....میرے اس موقف کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہم اس ضمن میں احتیاطی تدابیر کو پیش نظر نہ رکھیں، احتیاطی تدابیر کو پیش نظر نہ رکھنا۔ یا کسی بھی حوالے سے نظر انداز کرنا، ان حالات میں سیدھی سیدھی خود کشی ہے، جو اسلام میں حرام ہے۔ میں اس پر الگ سے کالم لکھوں گا.... فی الحال ہم یہ دعا کرتے ہیں اللہ پاک جو واقعی ”رب العالمین“ ہے، یعنی جو صرف مسلمان کا اب نہیں ، کل کائنات کا رب ہے۔ جو اسے ماننتے ہیں، ان کا بھی ہے، جو نہیں مانتے ان کا بھی ہے۔ جو اس کی مانتے ہیں ، ان کا بھی ہے، حتی کہ جو اس کی نہیں مانتے ان کا بھی ہے۔ تو اپنی اس عظمت کے نتیجے میں وہ کل کائنات پر رحمت فرما دے، دنیا کو اس عذاب سے نجات دے۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔ اس کے عطاءکرنے میں کوئی کمی نہیں۔ ہمارے مانگنے میں کمی ہے۔ ہماری دعائیں اس لئے پوری نہیں ہو رہیں ہماری دعائیں میں ملاوٹ ہے.... اگلے روز میں ” مولوی گالم پوری“ عرف مولانا خادم حسین رضوی کا جاہلوں کی محفل میں کئے جانے والا ایک خطاب سن رہا تھا۔ وہ خوف خدا سے مکمل طور پر عاری ہو کر اللہ جانے کس کے خوف میں مبتلا ہو کر ، کس قدر چھوٹے دل اور کم ظرفی سے فرما رہے تھے۔ ”یہ عذاب چائینہ میںآیا ہے۔ اللہ چائینہ کے ساتھ ساتھ چائینہ کے دوستوں کو بھی غارت کر دے“ انہیں شاید معلوم نہیں چائینہ کے دوستوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔ خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہو گیا تو ان کے اور ان جیسے کچھ اور دیہاڑی دار مولویوں کے ایسے سارے مالی وظیفے، ان کی کمائی کے سارے جائز ناجائز ذرائع، ان کے سارے حلوے مانڈے ختم ہو جائیں گے جو انہیں صرف پاکستان جیسے ملک میں ہی صرف کچھ لوگوں کو جہالت کی وجہ سے میسر ہوتے ہیں۔ حیرت ہے وہ جو جی میں آئے کہہ دیتے ہیں.... ان ہی کی طرح کے ایک اور مولوی صاحب اور رو رو کر فرما رہے تھے”اے اللہ کورونا کا رخ کافروں کی طرف موڑ دے“.... میں سوچ رہا تھا اللہ نہ کرے کورونا کا رخ ان کی اپنی طرف مڑ جائے.... دشمن مرے تو خوشی نہ کریئے سجنا ں وی مر جانا“.... ان کو مرنا یاد نہیں۔ دین اسلام کو یہ محض ایک کاروبار نہ سمجھتے ہوئے انہیں یقیناً معلوم ہوتا آپ نے غیر مسلموں کے ساتھ کس قدر حسن سلوک پر زور دیا۔ آپ نے فرمایا”خبردار اگر کسی شخص نے غیر مذہب رعیت پر ظلم کیا، یا اسے اس کی طاقت سے زیادہ ازیت پہنچائی۔ یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی شے لی۔ ایسی صورت میں میں اس کی طرف سے قیامت کے روز اس کے ذمہ دار سے جھگڑوں گا“.... غیر مسلمانوں کے جو وفود بیرونی علاقوں سے مدینہ منورہ آئے آپ خود ان کی میزبانی فرماتے۔ آپ فرماتے ”یہ لوگ ہمارے ساتھیوں کے لئے ممتاز اور منفرد حیثیت رکھتے ہیں، اس لئے میں پسند کرتا ہوں میں بذات خود ان کی تکریم و مہمان نوازی کروں .... ایک مسلمان نے ایک اہل کتاب کو قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا ”میں اہل ذمہ کا حق ادا کرنے کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں، چنانچہ آپ نے قاتل کو قتل کرنے کا حکم دیا.... میں سوچ رہا تھا قرآن پاک بھی ان ”کاروباری مولویوں“ نے دوسروں کو پڑھانے کے لئے رکھا ہوا تھا، خود سمجھنے کے لئے نہیں رکھا ہوا۔ بس جہاں ان کے مفاد کے مطابق کوئی بات ہو اسے سمجھ لیتے ہیں ، پھر اسے اپنی مرضی کا کوئی رنگ ڈھنگ دے کر اپنے حق میں بے دریغ اس کا استعمال بھی کر لیتے ہیں.... قرآن مجید میں غیر مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں یہ بنیادی آیت نازل ہوئی جو شاید ان کاروباری مولویوں کی نظر سے نہیں گزری ہو گی.... ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ بے شک ہدایت ، گمراہی سے ممتاز ہے۔ سو جو باطل معبدوں کا انکار کر دے۔ اور اللہ پر ایمان لے آئے، تو اس نے ایک ایسا حلقہ تھام لیا جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں”اللہ خوب جاننے والا ہے“.... کورونا کی صورت میں جو وباء، عذاب یا آزمائش دنیا پر نازل ہے اس سے نجات کے لئے دنیا بھر میں بے شمار غیر مسلم اللہ کو یاد کر رہے ہیں۔ حتی کہ کچھ غیر مسلم حکمرانوں کا جھکاﺅ بھی آہستہ آہستہ اللہ کی جانب ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے اس یقین میں دن بدن پختگی آتی جا رہی ہے سب سے بڑی طاقت اللہ ہی کی ہے.... ہمارے کچھ کاروباری مولویوں کا بس نہیں چلتا وہ غیر مسلموں پر آزمائش کی ان گھڑی میں بھی اپنے اپنے انداز میں اللہ کا نام لینے پر یا اللہ کی وحدانیت تسلیم کرنے پر پابندی لگا دیں۔ ان ہی بدبخت کچھ مولویوں کی وجہ سے اسلام دنیا بعد میں پھیلنے سے رکا ہوا ہے.... انہوں نے اسلام کو بھی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سمجھ کر اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ المیہ یہ ہے پاکستان میں کوئی طاقت ایسی نہیں جو یہ قبضہ چھڑوا سکے۔ جہالت بھی اس سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مولوی گالم پوری عرف مولوی خادم حسین حلوہ پوری جس چائینہ پر اور اس کے دوستوں پر کورونا عذاب بڑھنے کی بددعائیں مانگ رہا ہے۔ وہی چائینہ اپنے دوست پاکستان کو اس آزمائش سے نمٹنے کے لئے سب سے زیادہ مدد فراہم کر رہا ہے.... مٹھی بھر ان مولویوں سے کوئی پوچھے آپ کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ چائینہ میں تو یہ عذاب بہت حد تک ٹل چکا ہے، اور پاکستان میں بڑھ رہا ہے۔ یہ یقینا ان مٹھی بھر مولویوں کی غلاظتوں ، منافقتوں ، گندی سوچوں اور گندی زبانوں کی وجہ سے ہی بڑھ رہا ہو گا۔ انہیں ذرا شرم نہیں آتی۔ جو جی میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ کیونکہ کہنے کی کوئی حد ہوتی ہے بکنے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ یہ لوگوں پر جب چاہیں جائز ناجائز طور پر توہین رسالت کے فتوے اور الزامات لگا دیتے ہیں۔ مگر جب یہ خود آپ کے حسن اخلاق کے منافی بات کرتے ہیں ، آپ کی سنت کے خلاف چلتے ہیں ، یا آپ کے بتائے ہوئے راستوں سے بچ کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا اس صورت میں یہ خود ”توہین رسالت“ کے مرتکب نہیں ہوتے؟۔ ان مٹھی بھرمولویوں کی خدمت میں دست بستہ گزارش ہے”کافروں“ کو بددعائیں دینے کا سلسلہ روک دیں۔ اس بار نہ سہی۔ اللہ نہ کرے زندگی میں یہ مولوی صاحبان بھی کبھی نہ کبھی کورونا میں مبتلا ہو جائیں ایسی صورت میں انہیں اس ”ویکسین“ کی ضرورت پڑے گی جس کی ایجاد کے لئے وہ ”کافرین“ رات دن ایک کئے ہوئے ہیں جنہیں یہ بددعائیں دے رہے ہیں۔ .... دنیا بھر کے ”دین فروشوں“کو اصل غصہ یہ ہے کورونا نے انہیں بری طرح ایکسپوز کر دیا ہے۔ آج سب براہ راست اللہ سے مانگ رہے ہیں۔ جو بے شک انسان کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہے!!


ای پیپر