کرونا وائرس: حکومت نے بہت دیر کر دی (تیسری قسط)
31 مارچ 2020 2020-03-31

یہ تحریر عالمگیر وباء بننے والے کرونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاو¿، اس کے اسباب اور سنگین حکومتی غلطیوں سے متعلق ہے۔ جس میں عالمی ادارہ صحت، یورپی یونین کے وباو¿ں کی روک تھام کے ادارے( European center for disease prevention and control ), ورلڈ ان ڈیٹا، جان ہاپکنز یونیورسٹی، ڈبلیو ایچ او اور چائنا سمیت 25 ممالک کے جوائنٹ مشن کی تازہ ترین ریسرچ اور اعداد و شمار سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔ پاکستان کی بقاءسے متعلق اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہ تحریر ایک سے زائد اقساط پر مشتمل ہے۔

                                                                                                                                       ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق وائرس کے بچاو¿ کے لئے کسی ملک کے اقدامات کا جائزہ لینا ہو تو دیکھنا ہو گا کہ کیا اس ملک کا ہر شخص جانتا ہے کہ وباءکو پھیلنے سے روکنے کے لئے کیا کرنا ہے اور ہر ہیلتھ ورکر بیماری اور اپنے حفاظتی انتظامات کے بارے میں جانتا ہے تو سمجھ لیں کہ حکومت درست ٹریک پر ہے اور اگر نہیں تو پھر سمجھ لیں کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ ناکافی ہے۔ جس ملک نے بروقت عوام کو وباءکا پھیلاو¿ روکنے کے لئے صحیح آگاہی نہیں دی ، صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری نہیں کی، بروقت کیس ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور آئسولیشن جیسے اقدامات نہیں کئے تو وہاں سماجی دوری سمیت دیگر احتیاطی تدابیر بھی رائیگاں چلی گئیں۔ ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائنز کی روشنی میں جن ممالک نے بروقت سماجی دوری اور دیگر تدابیر اپنائیں، وہاں نہ صرف وائرس کے پھیلاو¿ کی رفتار کم رہی بلکہ ان ملکوں میں نظامِ صحت پر بھی بوجھ کم رہا۔ عالمی دنیا اس بات پر متفق ہے کہ اس طاقتور وائرس کے سامنے احتیاط کے علاوہ سر دست کوئی دوسری صورت سامنے نہیں آ سکی، کیونکہ جب وائرس پھیلتا ہے تو پھر کوئی نہیں جانتا کہ کون کون وائرس زدہ ہے۔سان فرانسسکو کے ریسرچر و انسانی طرز عمل کے ماہر نفسیات ٹامس پویو (Tomas Pueyo) کی وائرس کے اضافے کی شرح پر ?مجھے اب کیوں کام کرنا چاہئے, (why should I act now) کے عنوان سے تحقیق کو دنیا بھر میں پزیرائی حاصل ہوئی اور اب تک اس کا تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ تحقیق بھی دیگر عالمی گائیڈ لائنز کی طرح ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں سے اوجھل رہی۔ حالانکہ جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہ تحقیق ہمارے حکمرانوں کی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں سب سے بڑی وارننگ کے نام سے شہرت حاصل کرنے والی اس تحقیق میں وائرس کا شکار ہونے والے ممالک کے موازنے کے ساتھ تجویز کیا گیا تھا کہ سیاستدانوں، برنس لیڈرز اور عوام سمیت ہر شعبہ زندگی کو اس آفت کا پھیلاو¿ روکنے کے لیے کیا کرنا چاہئے۔ تحقیق میں کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کی شدت اور اثرات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو یاد رکھیں کہ جب یہ ہوا تو نظام صحت بری طرح متاثر ہو جائے گا۔ شہری علاج کے لئے سڑکوں پر پڑے نظر آئیں گے، ہیلتھ ورکرز کا بریک ڈاو¿ن ہو جائے گا اور شاید کچھ مر بھی جائیں، کیونکہ انھیں طے کرنا ہو گا کہ کس کو آکسیجن دینی ہے اور کون مرے گا۔ ایسے میں صرف سماجی دوری اس وباءکے پھیلاو¿ کو روک سکتی ہے اور وہ بھی کل سے نہیں آج سے۔ تحقیق کے مطابق ہر ملک کے حکمران، سیاستدان، برنس مین کی ذمےداری تھی کہ وہ وباءکو روکنے کے لئے سب کچھ کرے۔ اگر کوئی حکمران اس خوف کا شکار رہا کہ کیا ہو گا۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ دوسروں کا انتظار کیا جائے کہ وہ پہلے کچھ کریں۔یا میرے کچھ کرنے سے معیشت بہت زیادہ متاثر ہو جائے گی۔ لیکن تین، چار ہفتوں بعد جب ساری دنیا لاک ڈاﺅن ہو جائے گی۔ شاید اس وقت سب کو احساس ہو گا کہ سماجی دوری کے چند قیمتی دنوں میں کئی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ لگتا ہے کہ ہمارے حکمران بھی اسی سوچ کا شکار ہو کر بروقت فیصلے اور اقدامات کرنے سے ڈرتے رہے۔ ملک بھر میں لاک ڈاو¿ن سے ایک روز قبل تک وزیر اعظم عمران خان معیشت کی فکر میں تھے۔ وائرس منتقل ہونے کے باوجود ملی یکجہتی کہیں دیکھنے میں نہیں آئی، ہر صوبے اور ہر ادارے نے جب خطرہ محسوس کیا تب لاک ڈاو¿ن کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ڈبلیو ایچ او کی ابتدائی تحقیق کے مطابق وائرس سے متاثرہ ایک شخص(2.6) فیصد افراد کو متاثر کرتا

ہے۔اس طرح وائرس پانچ سے چھ روز میں دس جنریشن ٹرانسمیشن کر لیتا ہے۔ اور یوں دنوں میں پہلا متاثرہ شخص 3500 افراد میں وائرس منتقل کرنے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔ چائنا نے سب سے پہلے پھیلاو¿ کے اس سرکل کو توڑنے کے لئے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا لاک ڈاو¿ن کیا اور دنیا کا سب سے بڑا قرنطینہ بنایا۔ ہر کاروبار ذندگی، سکول، کالج، فیکٹریوں کی بندش کی۔ 18 ملین کی آبادی کو گھروں میں بند کر دیا۔ لاک ڈاﺅن کے دوران پانچ افراد پر مشتمل 1800 ٹیمیں بنائیں جنھوں نے ہر وائرس زدہ شخص کو تلاش کیا، متاثرہ شخص جن سے رابطے میں رہا انھیں بھی تلاش کیا اور قرنطینہ میں رکھا۔ یہ وہ واحد طریقہ کار تھا جس پر عمل کر کے چائنا نے اربوں کی آبادی والے ملک میں اس عفریت کو قابو کیا۔ جاپان، تائیوان، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ میں وائرس زیادہ پھیلنے میں کامیاب نہیں ہوا کیونکہ انھوں نے پھیلاو¿ سے قبل اقدامات اٹھائے۔ تائیوان اس کی سب سے بہترین مثال ہے، جہاں چائنا سے قریب ترین ہو کر بھی 50 کیس سامنے آئے۔ تاہم ساو¿تھ کوریا میں الگ ہی ہوا، جس نے 30 کیسز پر وائرس کو روکا لیکن 31واں مریض جسےسپر سپریڈر کا نام دیا گیا، اکیلا ہزاروں افراد میں وائرس پھیلانے کا سبب بن گیا۔ تحقیق میں کہا گیا ہے چونکہ یہ وائرس علامات ظاہر ہونے سے پہلے پھیلنا شروع کر دیتا ہے، اسی وجہ سے جب تک حکومت کو پتہ چلتا ہے، یہ کنٹرول سے باہر ہو چکا

ہوتا ہے۔ اٹلی، ایران اور ساو¿تھ کوریا میں بھی یہی ہوا، جہاں آج ہلاکتوں کی شرح سب سے زیادہ یے۔ دنیا بھر میں وائرس کے باعث ہلاکتوں کی شرح 0.5 فیصد سے 5 فیصد سمجھی گئی ہے۔ لیکن امریکی ریاست واشنگٹن سٹیٹ میں ابتدا ہی تین کیسز اور ایک ہلاکت سے ہوئی جو کہ 33 فیصد بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن سٹیٹ میں 33 فیصد شرح اموات کی وجہ وائرس کا کئی ہفتوں تک خاموشی سے پھیلنا تھا۔ جس وقت امریکہ میں تین کیسز سامنے آئے، درحقیقت اس وقت وہ تین نہیں تھے بلکہ حکومت کو تین کیسز اور ایک ہلاکت کا پتہ لگا تھا۔ یہ سمجھنا مشکل اس لئے بھی نہیں ہے کیونکہ پاکستان بالخصوص بلوچستان، کراچی اور پنجاب میں بھی یہی ہوا۔ حکومت نے نتائج سے باخبر ہونے کے باوجود ائیرپورٹس اور سرحدوں پر مناسب اور بروقت انتظامات نہیں کئے اور نہ ہی ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی۔ دنیا بھر سے وائرس زدہ لوگ باآسانی پاکستان داخل اور پھر غائب ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وباءکی سب سے خوفناک بات یہی ہے کہ جو سامنے آتے ہیں وہ اصل کیسز نہیں بلکہ آفیشل کیسز ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں اب تک 1500 کیسز سامنے آ چکے ہیں لیکن درحقیقت یہ 1500 نہیں ہیں ، بلکہ یوں کہا جس سکتا ہے کہ یہ وہ 1500 کیسز ہیں جو حکومت کے علم میں آئے۔ ان کی اصل تعداد کئی ہزار ہو سکتی اور خدا رحم فرمائے اگر اس میں کوریا کی طرز پر سپر سپریڈر شامل ہو گئے تو اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو گا۔ (جاری ہے)


ای پیپر