مرغیاں انڈے اور ملکی معیشت
31 مارچ 2019 2019-03-31

کالم لکھنے کو درجنوں موضوعات، ’’جا بجا بکھری ہوئی ہے داستان دل‘‘ لیکن اس بار مرغیوں کو ’’خراج تحسین‘‘ پیش کرنے کی ٹھانی ہے۔ سیاسی حالات پھر دیکھ لیں گے، کون سے بھاگے جا رہے ہیں۔ فوری غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے 8 ماہ کے دوران مرغیوں کی افزائش نسل ہوئی یا نہیں۔ غضب خدا کا ملک کی آبادی 22 کروڑ ہوگئی۔ مرغیاں سمجھانے کے باوجود ایک کروڑ نہ ہوسکیں۔ مرغا مرغی کہنے کو سمجھدار جانور ہیں۔ گھروں میں پلتے بڑھتے ہیں اس لیے خاصے تمیزدار شمار کیے جاتے ہیں۔ انسانی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانون کو توانائی بخشنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ حیرت ہے اپنی آبادی کیوں نہیں بڑھاتے، تجویز دی جائے کہ مرغوں اور مرغیوں کے ’’بنیادی حقوق‘‘ کے تحفظ کے لیے علیحدہ وزارت قائم کردی جائے جو مرغیوں اور مرغوں کی ’’خانہ شماری‘‘ (مراد مردم شماری) کر کے ہر سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ افزائش کے اعداد و شمار سے میڈیا کو آگاہ کرے اس کے دو فائدے ہوں گے۔ پی ٹی آئی کا ایک منتظر لیڈر وزیر بن جائے گا اور مرغوں اور مرغیوں کی نگرانی کا فول پروف انتظام ہوسکے گا۔ یہ سب انتظامات و اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ اپنے وزیر اعظم نے ملک کی خوشحالی اور معیشت کے استحکام کے لیے دیہی خواتین کو مرغے مرغیاں اور بکریاں دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا وژن ہے کہ کروڑوں مرغیاں اور ان کے اربوں انڈے برآمد کر کے بھاری زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ آزمائش شرط ہے اگرمرغے اور مرغیاں رضا کارانہ طور پر حکومت سے تعاون کریں اور آئندہ بجٹ تک اپنی آل اولاد سمیت ایک کروڑ کے ہندسے کو چھولیں تو یقین کیجیے آئندہ مالی سال کے بجٹ کا خسارہ انتہائی کم ہوجائے گا اور اسٹیٹ بینک کو آئے دن اس قسم کی رپورٹس نہیں دینی پڑیں گی کہ مہنگائی میں اضافہ ہوگیا۔ قومی پیداوار کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا معاشی نمو ساڑھے تین سے چار فیصد رہنے کا امکان ہے۔ معاشی تنگی کے اثرات صنعتی تنزلی کا سبب بن رہے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کے وژن پر عملدرآمد ہوجائے تو اس طرح زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی جو کم ترین سطح یعنی 8 ارب پر پہنچ گئے تھے بیرونی قرضوں سے 17 ارب ہوگئے۔ ہماری باتوں کا یقین نہ ہو تو ٹی وی چینلز پر نمودار ہونے والے کسی ماہر معاشیات سے پوچھ لیجیے کہ مرغیاں ہماری معیشت کے لیے کس قدر ضروری ہیں وہ مرغیوں کے اعداد وشمار سے سالانہ قومی آمدنی کا ڈیٹا نکال کر قائل کردے گا۔ وزیر اعظم کے وژن کی ہر گز مخالفت کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ ورنہ اپوزیشن کا منظور نظر شمار ہوگا اور ممکن ہے کہ تیسرے چوتھے روز آمدن سے زیادہ اثاثوں کے کسی انجانے کیس میں دھر لیا جائے (جملہ ہائے معترضہ مٹی پاؤ اسکیم کے تحت نظر انداز) اصل مسئلہ یہ ہے کہ مرغے اور مرغیاں (دیسی ہونا شرط ہے) وزیر اعظم کو بہت پسند ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک وہ اسی بات پر مصر ہیں کہ مرغیوں اور انڈوں کی افزائش اور برآمد سے اربوں ڈالر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ بات سلیقے قرینے کی ہے بشرطیکہ مرغے اور مرغیاں تعاون کریں، اپوزیشن جماعتوں کی طرح آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے کے پر نوچنے کی بجائے پیار و محبت سے افزائش نسل کی طرف توجہ دیں، دیسی مرغیوں کی خوش قسمتی ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی دستر خوانوں کی زینت بنتی ہیں۔ مہنگی اور نایاب ہونے کے ناطے سکون سے انڈے دیتی اور عیش کرتی ہیں۔ قربانی بے چاری برائیلر مرغیوں کی قسمت میں لکھی ہے۔ بے آسرا ہیں ماں باپ کا پتا نہیں، کون سر پر ہاتھ رکھے جسے اپنا سمجھتی ہیں وہی گلے پر چھری رکھ دیتا ہے اور انہیں صاحب اولاد ہونے سے قبل ہی دستر خوانوں پر سجا دیتا ہے، اس طرح وہ بے چاری معیشت کے استحکام کا سبب بننے کے بجائے پیٹ بھرنے کے کام آتی ہیں۔کھانے والے کس بیدردی سے بوٹیاں نوچتے اور ہڈیاں بھنبھورتے ہیں، اللہ میاں انہیں سمجھے، اسی مجبوری کے پیش نظر وزیر اعظم نے احساس اور کفالت پروگرام کے تحت دیہی خواتین میں دیسی مرغیاں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیہی خواتین کو ان مرغیوں کی قدر و قیمت کا احساس ہوگا اور وہ ان کو افزائش نسل پر آمادہ کر کے نہ صرف روزگار میں خود کفیل ہوسکیں گی بلکہ ملکی معیشت کو اتنا مستحکم کردیں گی کہ حکومت کو آئی ایم ایف کی منت سماجت سے نجات مل جائے گی۔ بلکہ کچھ عرصہ بعد آئی ایم ایف والے قرضہ لینے کے لیے ہمارے وزیر خزانہ کی منت سماجت کرتے نظر آئیں گے اور ہم پائے حقارت سے انہیں ٹھکرا دیں گے اگر مرغیوں نے مصمم ارادہ کرلیا اور افزائش نسل کے سلسلے میں پر عزم ہوگئیں تو مرغوں سے لڑنے بھڑنے کی بجائے محبت کی پینگیں بڑھا کر اپنا ہدف پورا کرلیں گی ایسا ہوگیا تو تصور کیجیے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر اسحاق ڈار کے دور کی طرح 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے اور ہم ان محب وطن مرغیوں کی بدولت اقوام عالم میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوسکیں گے۔ ملک خوشحال ہوجائے گا اور اپوزیشن آئندہ دس بیس سال تک حکومت کو ہلا نہیں سکے گی۔ اس موقع پر اپنے ایک ہم وطن کا ذکر نہ کرنا بڑی زیادتی ہوگی۔ وہ دیسی انڈوں کی ٹوکری سر پر رکھے گھر جا رہے تھے اچانک روشن مستقبل کی سوچوں میں ڈوب گئے۔ چلتے چلتے خیال آیا کہ ان انڈوں سے بچے نکلیں گے۔ بچے جوان ہو کر پھر انڈے دیں گے پھر انڈوں سے بچے نکلیں گے اس عمل میں لاکھوں انڈوں سے لاکھوں بچے اور لاکھوں بچوں سے لاکھوں انڈے نکلنے کا سلسلہ جاری رہے گا تو پنجسالہ منصوبے کے تحت کروڑوں اربوں انڈے بچے ہوجائیں گے۔ ان انڈوں بچوں کو فروخت اور برآمد کرنے سے بے پناہ دولت حاصل ہوگی۔ نیب کو اپنے اربوں کھربوں کے اثاثوں کی ہوا نہیں لگنے دوں گا۔ فرنٹ مین ساری ڈیلنگ کریں گے۔ دولت آگئی تو کوئی قبول صورت بیوی بھی مل جائے گی۔ اس سے ڈھیر سارے بچے ہوں گے۔ جو محل نما گھر میں ابا ابا پکارتے پھریں گے گھر میں داخل ہوتے ہی ٹانگوں سے لپٹ کر پیسوں کی ضد کریں گے اور میں یوں ٹانگ مار کر انہیں پرے ہٹاؤں گا۔ ٹانگ سڑک پر پڑے پتھر کو لگی، ٹوکری سر سے گری، انڈے ٹوٹ گئے ’’حسرت ان انڈوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے‘‘ وطنی بندہ سڑک کنارے سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور تصور ہی تصور ہی ٹانگوں سے لپٹنے والے بچوں کو برا بھلا کہتے ہوئے بولا۔ ’’کم بختوں نے پورا خاندان تباہ کردیا‘‘ ۔عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی شرائط اور مفادات میں جکڑی معیشت بقول ماہرین ’’وہ کھیل نہیں ہے جسے بچے کھیلیں، ملکی خوشحالی اور استحکام معیشت سے جڑا ہے۔ اسی لیے حکومتیں تجربہ کار لوگوں کو یہ فریضہ سونپتی ہیں۔ تجربہ کار لوگ خزانہ خالی ہونے کی دہائی دے کر سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے حوصلے پست نہیں کرتے بلکہ خاموشی سے خزانہ بھرنے کے راستے تلاش کرتے ہیں، عالمی بینک نے پاکستان کو دیوالیہ قرار نہیں دیا۔ موڈیز بھرے خزانہ کی نوید سناتی رہیں۔ گزشتہ 8 ماہ میں خزانہ کو کس کی نظر لگ گئی کہ’’ بھاگو پکڑو جانے نہ پائے‘‘کا شور تھمنے میں نہیں آ رہا۔ معاشی استحکام کیسے حاصل ہوگا۔ عوام کیسے خوشحال ہوں گے۔ کوئی تھنک ٹینک نہیں جو راہ دکھائے ٹامک ٹوئیاں مارنے سے خوشحالی کیسے آئے گی۔ خوشحالی انڈوں اور بکریوں میں تلاش کی جا رہی ہے۔’’ اگر ٹھہری یہی شرط وصل لیلیٰ‘‘ تو سب سے پہلے مرغیوں کو تعاون پر آمادہ کیا جائے۔


ای پیپر