رو ٹی کپڑ ا اور مکا ن اور نئی فصل
31 مارچ 2019 2019-03-31

پچھلے د نو ں ہما رے ملک کے وز یرِ اعظم نے جو اسلام آ با د میں ایک عظیم الشا ن تقر یب منعقد کی جس کا مقصد ملک سے غر بت کے خا تمے کا بڑے پیما نے پر تفصیلی خا کہ پیش کر نا تھا۔ جب کہ حا لیہ صو رتِ حا ل کچھ یو ں ہے کہ تحر یکِ ا نصا ف کی حکو مت کو بر سرِ ا قتد ا ر آ ئے نو ما ہ ہو نے کو آ ئے ہیں۔ تو ملک سے غر بت ختم کر نے کا نعر ہ ان کے لیئے کو ئی آ ج کی نئی بات نہیں بلکہ حقیقت تو کچھ یو ں ہے کہ اس جما عت کے بر سرِ اقتد ا ر آ نے کی بنیا د یہی نعر ہ تھا۔ مثال کے طو ر پر پچا س لاکھ گھروں کی فر ا ہمی اور دو کر وڑ روز گا رکاوعدہ اس جما عت کاپاپو لرنعر ہ تھا۔اب لگتا ہے اسی نعرے نے اپنی ہیت تبد یل کر لی ہے۔چنا نچہ جنا ب وز یرِ اعظم اسلا م آ با د نے جو عظیم الشا ن تقر یب منعقد کی اس میں یہی پیغا م دیا کہ ر یا ست قو م کو رو ٹی کپڑ ا اور مکا ن فرا ہم کر ے گی۔ یہ بڑا پروگرام اس اعتبار سے ہے کہ اس کے لیے بڑی رقوم مختص کیے جانے کی خبریں ہیں۔ لیکن یہ تو نصف صدی پرانا نعرہ ہے، جناب وزیر اعظم نے جسے دہرایا ہے۔ نصف صدی سے پیپلز پارٹی سمیت ہر جماعت اور ہر حکومت نے یقینی بنایا ہے کہ نعرے سے آگے یہ کچھ اور نہ بن جائے۔ اب پاکستان تحریک انصاف نے اس قدیم نعرے کو اپنا لیا ہے۔ نئے پروگرام میں صحت اور تعلیم کو بھی بھلایا نہیں گیا؛ البتہ یہ بھلادیا گیا ہے کہ تعلیم اور صحت سے متعلق حقوق پہلے ہی آئین میں موجود ہیں؛ تاہم آئین میں کسی حق کو درج کردینے اور عام آدمی کو وہ حق حاصل ہوجانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایسے مفروضہ حقوق کی فراہمی کا ذکر کردینے سے، مسقبل قریب یا بعید میں جن کے حاصل ہونے کا امکان صفر ہو، کا نتیجہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ حقوق کی فراہمی کا معاملہ گڑبڑ ہوجاتا ہے۔ ہماری 70 سالہ تاریخ میں غربت مٹانے کے کئی پروگرام آئے اور دفن ہوگئے۔ غربت کی وجہ سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں کے اچھے اچھے روزگار لگے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں دورے کیے جارہے ہیں۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں ضیافتیں ہورہی ہیں۔ سیمینار اور ورکشاپس منعقد کی جارہی ہیں۔ غربت البتہ اسی طرح قائم ہے، اس میں کوئی کمی نظر نہیں آتی اور اس کارکردگی کی بنا پر مستقبل قریب میں بھی اس صورتحال میں کسی تبدیلی کے کوئی آثار موجود نہیں۔ غربت میں کمی کیا ہوگی، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی نئی نئی شکلیں دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ٹائیفائیڈ، تپ دق اور سرطان کی نئی نئی اقسام دریافت ہوتی رہتی ہیں اور علاج کے پرانے طریقے بے سود ثابت ہوتے جاتے ہیں۔ بیماریوں کی طرح غربت بھی انسان کو یاد دلاتی رہتی ہے کہ وہ ہر چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ ہماری اس ضمن میں 70 سالہ ناکامی اپنی جگہ لیکن دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں اقوام نے صرف درست فیصلوں اور ان پر عمل درآمد کی مدد سے مختصر وقت میں غربت پر قابو پالیا۔ غربت کی دو سطحیں ہیں، ان میں فرق کو اچھی طرح سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی ایک تو وہ غریب ہیں جن کے پاس مالی وسائل کم ہیں اور وہ ضروریاتِ زندگی مثلاً خوراک، رہائش، لباس، بچوں کی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ وغیرہ کے اخراجات بڑی مشکل سے پورے کر پاتے ہیں۔ غربت کی یہ سطح ہمارے ہاں کئی مرتبہ ڈالرز میں بتائی جاتی ہے مثلاً کتنے ڈالر یومیہ آمدنی والا فرد خطِ غربت کے نیچے ہے۔ غربت کی معاشی تعریف کی یہ تکنیکی تشریحات انہی لوگوں کی بنائی ہوئی ہیں جو خود غریب نہیں، جو غریب اور غربت کو ایک کیس سٹڈی کے طور پر لیتے ہیں۔ ان حالات کا انہیں کوئی احساس نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ غربت کسے کہتے ہیں۔ غربت کی ایک شکل اور بھی ہے جسے ہم اپنی زبان میں مفلس کہیں گے، محتاجی، ناداری کے معنوں میں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شاید دوسروں کی مدد کے بغیر اپنی زندگی کا رشتہ بھی برقرار نہ رکھ پائیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ غربت سے نبرد آزما ہونے کے پروگرام اس اہم فرق کو گڈمڈ کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے منصوبے غیر موثر رہتے ہیں اور غربت برقرار رہتی ہے۔ جسے ہم ’’غربت‘‘ کہتے ہیں ، اس سے ہمارے ملک کی بہت بڑی تعداد متاثر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے نمٹنے کا مؤثر ترین طریقہ تعلیم ہے، ایسی تعلیم جو آپ کو پورے معاشرے کے لیے مفید بنادے۔

اگر قا رئین اجا زت دیں تو انہیں شر و ع کے ان دنو ں میں وا پس لے جا ؤ ں جب یہ و طنِ عز یز نیا نیا معر ضِ وجو د میں آ یا تھا۔ تب اس کا شما ر دنیا بھر کے بہتر ین ز ر عی مما لک میں ہو تا تھا۔پھر بین ا لا قوا می سا ز شو ں کے تحت ہما رے ہا ں کے حا لا ت بد لے۔ پہلے تو ہما رے جسم کے بڑے حصے مشر قی پا کستا ن کو ہم سے علیحد ہ کر وا دیا گیا۔ پھر انڈسٹریلائز یشن کے نا م پر یہا ں کی ز رعی ز مینو ں کو ختم کر کے ان پہ انڈ سٹر یز قا ئم کر دی گئیں۔ اس کا نتیجہ بھو ک اور افلا س کی صور ت میں سا منے آیا۔ہما رے جیسے ز رعی ملک کو گند م امر یکہ سے در آ مد کر نا پڑ تی۔ تا ہم اس سے پہلے کے حا لا ت انتہا ئی دگر گو ں ہوتے۔قدرت نے ہمیں سہا را دیا ، اور اس سال خدا کی خا ص مہر با نی سے با ر شیں نہ صرف عین و قت پر ، بلکہ آ ئیڈ یل ٹا ئم پر ہو ئیں۔ لہذا ا مید کی جا رہی ہے کہ گند م کی فصل کے سا تھ سا تھ دیگر اجنا س کی افزا ئش بھی بڑی مقدا ار اور اعلیٰ معیا ر کی ہوں گی۔تا ہم گندم کی نئی فصل تیار ہونے میں چند ہفتے باقی ہیں مگر حکومتی سطح پر فصل کی خریداری کے انتظامات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ ایک بار پھر یہ خدشات تقویت اختیار کرچکے ہیں کہ حکومت گندم کی خریداری میں پرعزم نہیں، نتیجتاً کاشت کار متاثر ہوگا۔ صورتحال کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت پنجاب نے اس سال گندم کی خریداری کا کوئی ہدف مقرر نہیں کیا، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت گندم کا ایک ایک دانہ خریدے گی۔ مشکل یہ آن پڑی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اس مبہم بیان کی تشریح کیونکر کی جائے؟ کیا اسے ایک روایتی سیاسی بیان سمجھ لیا جائے یا واقعی حکومت پنجاب 65 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت گندم کا ’ایک ایک دانہ‘ خرید لے گی؟ جبکہ موافق موسمی حالات کے پیش نظر اس سال گندم کی بمپر کراپ کی توقع کی جارہی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اپریل کے پہلے ہفتے سے بار دانے کی تقسیم کی درخواستیں وصول کیے جانے کا بتایا گیا ہے مگر خریداری کے ہدف اور انتظامات کی عدم موجودگی میں گندم کی خریداری کا معاملہ اندیشوں میں گھر اہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ محکمہ خوراک اور پاسکو واضح فیصلے کے ساتھ میدان میں اترتے۔ ابہام کی وجہ سے ہماری سونے جیسی فصل اور کاشت کاروں کی سال بھر کی محنت بے وقعت ہوکر رہ جاتی ہے اور صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ ایک زرعی ملک کا دعویٰ رکھنے کے باوجود ہم فصلوں کی مناسب مارکیٹنگ کی مہارت سے محروم ہیں۔


ای پیپر