’’جلدی کرو مجھے عمرے پر جانا ہے ‘‘
31 مارچ 2019 2019-03-31

پیشانی پر محراب چمک رہا تھا۔ چہرے پر سنت رسولؐ پوری آب وتاب سے قائم تھی۔ سر پر سفید ٹوپی اورشلوار ٹختوں سے اوپر چڑھی ہوئی تھی۔صاحب کے پاس دو تسبیحاں تھیں ایک دائیں ہاتھ کی کلائی کے ساتھ لٹک رہی تھی اور دوسری دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں گولی کی رفتار سے گھوم رہی تھی ۔وہ دانے پھیرتے ،استغفراللہ پڑھتے اور مجھ سے مسلسل باتیں بھی کرتے جارہے تھے ۔اسی دوران نماز عصر کا وقت ہو گیاصاحب نے نماز کی اہمیت اور دنیا اور آخرت میں اس کے فوائد پر روشنی ڈالی اور مجھے نماز پڑھنے کی دعوت دی۔صاحب چونکہ قابل عزت اور دین سے محبت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے اس لیے لوگ ان کی باتوں کو اہمیت دیتے اوران کی امامت میں نماز بھی پڑھتے تھے میں نے بھی صاحب کے پیچھے نمازعصر ادا کی۔ نماز کے اختتام پر صاحب نے نیک اعمال کرنے پر تفصیلی بیان دیااوردین سے روگردانی کرنے والوں کیلئے دنیا و آخرت میں سخت سزاؤں پر بھرپور روشنی بھی ڈالی۔میں صاحب کی دین سے محبت اور اپنے کام سے لگن کو دیکھ کر ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتاتھا اور دل کے کسی کونے سے یہ خواہش ابل ابل کر باہر آ رہی تھی کہ کاش میری زندگی بھی صاحب کی زندگی جیسی ہوجائے تاکہ میں دنیا و آخرت میں باعزت طریقے سے سرخرو ہو سکوں۔متاثر ہونے کا یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ کوٹ پتلون پہنے دو افرادصاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔دونوں افراد کچھ دیر تک خاموش بیٹھے رہے پھر ایک نے دوسرے کو اشارہ کیا اور دوسرے نے صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب ہمارے کیس کا کیا بنا؟صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیاکہ میں پہلے بھی کئی بار آپ سے عرض کرچکا ہوں کہ آپ ہمارا خیال کریں تو ہم بھی آپ کے بارے میں سوچیں گے۔سامنے بیٹھے شخص نے اپنی دائیں ٹانگ کو بائیں ٹانگ پر رکھتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی بات کریں باقی افسروں کو میں دیکھ لوں گا۔صاحب کچھ دیر کیلئے رکے ،لمبا سانس لیا اورمرزا صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا ہوئے’’مرزا صاحب پچاس ملین کا ٹیکس آپ کی طرف واجب الادا ہے اسے ختم کرنے کیلئے میں 30لاکھ لوں گا‘‘مرزا صاحب نے اپنی پیشانی پر شکن بناتے ہوئے کہا کہ 30لاکھ بہت زیادہ ہے ۔صاحب نے لومڑی کی طرح مسکراتے ہوئے جواب دیا’’مرزا صاحب یہ ہمارا حق بنتاہے ۔ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘‘مرزا صاحب نے کہا لیکن آپ یہ کام کیسے کریں گے؟صاحب نے تسبیح کے دانوں پر استغفراللہ کا ورد کرتے ہوئے کہا وہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں آپ میرا حصہ دیں آپ کو کلیرنس سرٹیفیکیٹ مل جائے گا۔مرزا صاحب نے ساتھ بیٹھے شخص سے مشورہ کیااور 30لاکھ روپوں میں معاملہ طے پا گیا۔صاحب نے پوچھا رقم کب تک ملے گی؟مرزا صاحب نے کہا کہ دوسے تین دن میں ادائیگی ہو جائے گی۔اس کے بعد صاحب نے جو جملہ کہا وہ جملہ ہمیشہ کیلئے میری یاداشت میں اٹک گیا ہے وہ جملہ آج بھی میری زندگی کی بری یادوں کا حصہ ہے اور میں چاہتے ہوئے بھی اس جملے کو بھلا نہیں پا رہا ہوں ۔صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ،تسبیح کے دانوں کو تیز تیز گھماتے اور استغفراللہ کا ورد کرتے ہوئے کہا ’’مرزا صاحب میرا حصہ جلدی بھجوا دینا میں نے ان پیسوں سے عمرے کی ادائیگی کیلئے بھی جانا ہے ‘‘۔ اسی دوران نماز مغرب کا وقت ہو گیاموذن نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی صاحب کا وضو قائم تھا ۔وہ جماعت کی امامت کروانے کیلئے آگے بڑھے ،موذن نے اقامت کہی اورنمازیوں نے صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کردی،لیکن میں صاحب کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکا۔میں جماعت سے علیحدہ ہو گیااوررشوت خور صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے کی بجائے تنہائی میں نماز مغرب ادا کی اور میں آج تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر پا یا کہ اس دن جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ کرنیکا مجھے گناہ ملے گا یا ثواب؟آپ ملک پاکستان کی بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ حرام طریقوں سے کمائی گئی دولت اور اس دولت کو اللہ کی راہ پر خرچ کرنے کے حوالے سے ہماری عوام اور حکمرانوں کا موقف بھی یکساں ہے آپ میاں محمد نوازشریف کی مثال لے لیجئے میاں صاحب عوام کے خون پسینے کے پیسوں سے خریدے گئے مے فیئر فلیٹس کو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ،زرداری صاحب سندھ دھرتی کوبیچ کر سرے محل خریدنے کو اپنے پیر ومرشد کی خدمت کاثمر اورسب سے بڑھ کرمولانا فضل الرحمن ضمیر فروشی کے بعد حاصل کیے گئے ڈیزل پرمٹ کو دین کی خدمت کا صلہ اور اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم قرار دیتے ہیں اور کرپشن کی اس کمائی سے کیے گئے حج اور عمروں کو دنیا اور آخرت میں اپنی بخشش کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ہماری اس قابل رحم سوچ کی سب سے بڑی وجہ کم علمی اور کنفیوژن ہے مثال کے طور پرہم رشوت کے پیسے کو ناجائزاور اس پیسے سے مسجد کی تعمیر کو جائز سمجھتے ہیں ہم بدکاری سے کمائے گئے پیسوں کو حرام اور ان پیسوں سے صدقہ و خیرات کرنا حلال سمجھتے ہیں اور کم علمی کا حال یہ ہے کہ ہم جن لوگوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور جن کی نصیحت کو دنیا و آخرت میں نجات کا راستہ سمجھتے ہیں ہم ا ن کے بارے میںیہ تک جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کا ذریعہ روز گار کیا ہے ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ہم جس مسجد اور مدرسے میں روز نماز پڑھتے ہیں وہ حلال کے پیسوں سے بنائے گئے ہیں یا حرام کے پیسوں سے۔ ان تلخ حقائق کے پیش نظر آج ملک پاکستان کوایک ایسے باعمل مذہبی اور سیاسی رہنما کی ضرورت ہے جوعوام اورحکمرانوں کے ظاہری حلیے مذہبی بنانے کی بجائے ان کی روحوں کو کرپشن سے پاک کرسکے اور انہیں اس بات کا احساس دلا سکے کہ حرام کی کمائی حج اور عمرہ جیسے نیک اعمال کی ادائیگی کی بجائے طوائفوں کے کوٹھوں پر برباد کرنے کیلئے ہوتی ہے تاکہ کوئی دوبارہ یہ نہ کہ سکے کہ’’ رشوت جلدی دو مجھے عمرے پر جانا ہے ‘‘۔


ای پیپر