پریشانیاں بڑھنے لگیں؟
31 مارچ 2019 2019-03-31

وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے کہ حکمران محض اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے آئے ہیں انہیں عوام سے زیادہ لگاؤ نہیں کیونکہ وہ آئے روز ان پر ٹیکسوں کی بوچھاڑ کرتے چلے جا رہے ہیں جبکہ ان سے توقعات بے شمار تھیں مگر اب وہ پوری ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ اس حوالے سے بعض ذہین اور حکومتی افراد کا مؤقف ہے کہ حکومت کو کم از کم دو برس تک وقت دیا جائے ابھی وہ پچھلے قرضوں اور نظام کی زد میں ہے لہٰذا اس سے فلاح و بہبود کے کاموں کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ اسے فی الحال در پیش صورت حال سے نمٹنا ہے اس کی وہ پوری یکسوئی سے کوشش کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اس کے لیے اپنے خاص لوگوں کا انتخاب کرنے میں کیوں سستی و کاہلی سے کام لے رہی ہے جس کی وجہ سے معاملات بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ردعمل کے طور سے عوام میں بددلی و بے چینی پیدا ہونے لگی ہے۔

وزیراعظم عمران خان مگر مطمئن ہیں وہ کہتے ہیں سب ٹھیک ہو جائے گا جو جہاں ہے وہ ٹھیک جا رہا ہے اور مکمل ٹھیک آگے چل کر ہو جائے گا ان کی اس ضد بلکہ ہٹ دھرمی سے زندگی کے رنگ پھیکے پڑ رہے ہیں حزب اختلاف اس کا خوب فائدہ اٹھا رہی ہے اور عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ اب دیکھ لیجیے اس تبدیلی سرکار کو کہ اس نے ان کی دھڑکنوں کو بھی بے ترتیب کر دیا ہے وہ ہر وقت اس سوچ میں پڑے رہتے ہیں کہ ان کا چولھا ٹھنڈا ہوتا جا رہا ہے مگر اس بارے کسی کو کوئی خیال نہیں۔ موجودہ حکومت تو نئے دور کا آغاز کرنا چاہتی تھی ایک نئے پاکستان کی بات کر رہی تھی مگر اس نے تو آ کر انہیں ایک بڑی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے وہ مانتے ہیں کہ ابھی حالات سازگار نہیں مگر وہ یہ تو ثابت کرے کہ اسے پورا فہم ہے کہ عوام کی غربت ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو کیسے دور کرنا ہے اسے تو سوائے ایک بات کے کہ بدعنوانی کو ختم کرنا ہے اور احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا ہے یاد ہے درست ہے کہ اس پر بھی توجہ دینا ہے مگر سماجی خرابیوں اور معاشی ناہمواریوں کا قلع قمع بھی کرنے کی ضرورت ہے ان مافیاز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے جو اپنی اپنی دنیاؤں میں رہتے ہوئے انسانی مشکلات کو بڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔ ایسا وہ بالکل نہیں کر رہی اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نے انتخابات سے پہلے وہ لوگ بھی ہمراہ کر لیے جو عوامی بھلائی چاہتے ہی نہیں تھے انہیں تو ذاتی مفادات کے لیے ایوانوں میں پہنچنا تھا سو وہ پہنچ گئے۔۔۔؟

اکہتر برس کے بعد ایک آس بندھی تھی کہ اب عوام کو روایتی حکمرانوں سے نجات مل جائے گی لہٰذا وہ ایک مساوات پر مبنی نظام حیات کے تحت زندگی بسر کریں گے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا جو پہلے سے چل رہا تھا جاری رہا۔ میرے عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سبھی ویسے کے ویسے ہیں عوام بھی اور حکمران بھی۔ ماضی میں بھی قانون غریبوں اور کمزوروں کے لیے تھا اب بھی ہے کوئی نہیں پکرا جاتا اور اگر پکڑا بھی جاتا ہے تو اسے گھما پھرا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ احتساب کسی کا نہیں ہو رہا عوام کا البتہ ہو رہا ہے جو تڑپ رہے ہیں اور بلک رہے ہیں ان کے گرد ان دیکھے جال بھی بنے جا رہے ہیں جو انہیں مختلف مسائل سے دو چار کر رہے ہیں۔ اسی طرح ’’عوامی نمائندے‘‘ مال پانی پر جھپٹ رہے ہیں جس طرح گزشتہ ادوار میں عوامی سرمائے کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹا جا رہا تھا۔ لہٰذا یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ اہل اختیار نے لوگوں کو بے وقوف بنانا تھا اور ان کی تبدیلی کی خواہش کو غیر محسوس انداز سے دبانا تھا سو انہوں نے ایسا کر دیا اب ایک بار پھر وہ ایک نئی آس لگانے پر غور کر رہے ہیں مگر انہیں کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔ جو ان کی مایوسی کے خاتمے کا سبب بن سکے۔ ہر سمت عیار اور مفاد پرست ہی نظر آ رہے ہیں جو مسلسل انہیں دھوکا دیتے آئے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کو قانون نے اپنی گرفت میں لیا بھی ہے مگر معذرت کے ساتھ وہ تادیر ایک ہی پوزیشن میں کھڑا نہیں رہ سکتا لہٰذا لگ یہ رہا ہے کہ اس نے جس جس کو بھی شکنجے میں تھوڑا بہت کسا ہے وہ آزاد کر دیا جائے گا۔ یوں عوام کو یقین ہو جائے گا کہ وہ راحت و سکون سے محروم رہیں گے کیونکہ ان کے اوپر حکمران وہی مسلط ہوں گے جو انہیں محکوم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کھیل اس وقت تک کھیلا جاتا رہے گا جب تک کوئی عوامی انقلاب برپا نہیں ہو جاتا اور اسے حکمران طبقہ اب تک روکنے میں مصروف ہے۔

اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے تمام بڑے ایک ہیں انہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں وہ جو چاہتے ہیں وہی کچھ ہو رہا ہے عوام کی فکر کسی کو نہیں مگر عوام کو بھی شاید خود اپنی فکر نہیں وہ ان ہی سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں انہیں بار بار اپنے کاندھوں پر سوار کرتے ہیں وہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ انہیں بھی تو ایوانوں میں لے جایا جائے ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں انہیں بنیادی حقوق حاصل ہوں، تھانہ ، کچہری ، سول ادارے اور پٹوار خانے انہیں آسانیاں فراہم کرین بس انہیں کسی کو ہرانا اور کسی کو جتانا ہوتا ہے سو وہ ایسا کر گزرتے ہیں۔ آئندہ بھی یہ سب کریں گے جبکہ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اہل زر کے غلام بن گئے ہیں انہیں قانون بھی پوچھتا ہے ہر طاقتور بھی گھورتا ہے مگر وہ اُف تک نہیں کر سکتے۔ حیدر رضا حیدر نے خوب کہا کہ

اج ہر غیرت مند تڑف رہیا اے ساہواں دی سُولی تے

سی کرے تے ہور ہولارے دُونے چُونے اوندے نیں

بہرحال مایوسی بڑھنے لگی ہے اگرچہ عمران خان کی حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کچھ کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں مگر انہوں نے اپنے لیے جن بازوؤں کو آزمانا چاہا ہے وہ کمزور دکھائی دیتے ہیں یا پھر وہ دانستہ کچھ نہیں کرنا چاہتے غالب اکثریت اس مؤقف پر ہی یقین رکھتی ہے کیونکہ ان کا مطمع نظر عوامی نہیں فقط اپنی ذات سے متعلق ہی سوچنا ہے اور اس پر عمل کرنا ہے اس کی راہ میں وہ معمولی رکاوٹ بھی پسند اور برداشت نہیں کرتے ، چلا اٹھتے ہیں مگر غریب و بے بس لوگ مشکل ترین حالات سے بھی دوچار ہوں اس پر ان کی نگاہ نہیں پڑتی لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں بھی غریب، غریب ہی رہیں گے کیونکہ انہیں اپنے اوپر سے اُس قرضوں کی بھاری گٹھری کو اتارنا ہے جو قومی دولت لوٹنے والوں نے ان پر لاد دی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ نہیں اترنے والی اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک روایتی حکمران اور روایتی نظام موجود ہے یہاں بدعنوانی کو فروغ ملے گا اور جب بدعنوانی اور بدعنوان باقی ہوں گے تو خزانے کو خالی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا لہٰذا یہ جو بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں تعمیر وترقی کے ، سب دل بہلاوا ہیں۔ جب تک عوام کے لیے محبت کے جذبات اشرافیہ کے دل میں جنم نہیں لیں گے وہ خوشحال نہیں ہوں گے لہٰذا وہ ذہنی طور سے خود کو اس ماحول اور حالات میں جینے کی عادت ڈالیں۔ خواب و خیال کی دنیا سے باہر آئیں آپس میں مل جل کر رہیں اس سے سماجی حوالے سے ضرور بہتری آئے گی بصورت دیگر زندگی مزید تلخ ہونے کا اندیشہ لاحق ہو سکتا ہے جبکہ جسم و جاں پہلے ہی گھائل ہیں!


ای پیپر