31 مارچ 2019 2019-03-31

حضرت بایزید ؒ جنہوں نے سخت مجاہدات کے بعد طریقت میں اعلیٰ مقام حاصل کیا، فرماتے ہیں جب قلبی لگاﺅ کے ذریعے چلا تو منزل تک پہنچ گیا۔ فرماتے ہیں کہ اس راہ میں اذیتیں نفع بخش ثابت ہوتی ہیں یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو آزمائشوں اور مصائب میں مبتلا رکھتا ہے۔ حق تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اپنے عشاق پر چھوڑ رکھا ہے تاکہ مخلوق انہیں تنگ کرے اور اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ مخلوق اس کے ولی کو پہچان سکے۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ : میرے دوست میری چادر کے نیچے چھپے ہوئے رہتے ہیں اور ان کو میرے سوا کوئی نہیں جانتا :“

”اللہ رب العزت اپنے دوستوں میں سے جن کو قبولیت عطا فرمانا چاہتا ہے ان پر کوئی ایسا فرعون مقرر کردیتا ہے جو ہمہ وقت انہیں اذیت پہنچاتا رہے۔“

تعلیم دینا شیوہ¿ پیغمبری ہے۔ اساتذہ کسی بھی قوم کے معمار ہواکرتے ہیں۔ یہ جو پچھلے چند روز سے اساتذہ مال روڈ پر احتجاج کررہے ہیں۔ ہماری حکومت کو دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم کسی استاد سے پڑھے بغیر ہی اس مقام تک پہنچ گئے ہیں۔ انہیں اس بے زبان مخلوق پر ترس نہیں آتا جو اپنے گھروں سے نکل کر اور اہل وعیال سے دور مال روڈ پر بیٹھے ہیں، ان اساتذہ میں خواتین بھی شامل ہیں۔ شیریں مزاری کی نظر بھی وزارت ملنے کے بعد کمزور پڑ گئی ہے۔ وہ خواتین کے حقوق کے لیے بنائی گئی وزارت سے یقیناً تنخواہ اور دیگر مراعات بھی لیتی ہوں گی۔ سردار عثمان بزدار آنکھیں، زبان رکھتے ہوئے بھی اپنے ”بخت“کے احترام میں چپ رہتے ہیں۔ وہ مال روڈ پر براجمان اساتذہ سے کیسے جا پوچھیں :”اے انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والو!”کچھ بتاﺅ یہ بکروال قبیلے کا سردار آپ کے لیے کیا کرسکتا ہے۔“ اور کچھ نہیں تو وہ داتا علی ہجویری پر جاکر یہ منت تو مان سکتے ہیں کہ یہ اساتذہ مال روڈ سے اٹھ جائیں تو سودیگیں چڑھاوے کی صورت دربار پر لائی جائیں گی۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

ا ب ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ موجودہ حکمران، اللہ کے ان دوستوں (اساتذہ اس راہ کے مسافر تو ہوئے ہیں) کے لیے ”فرعون“ مقرر کیے گئے ہیں جو ہمہ وقت انہیں اذیت پہنچانے میں مصروف ہیں۔

عمران خان صاحب :تو ”زمانہ ناقدری“ سے ایک ہی تقریر فرمارہے ہیں۔ گویا کیسٹ سی ہر جگہ چلنے لگتی ہے انہیں فواد حسین چودھری یا صمصام بخاری خبر کریں کہ اب آپ کی حکومت آچکی ہے کچھ کر گزریں ۔ اور کم ازکم اس قوم کے اساتذہ اور پڑھے لکھے افراد، اہل علم وادب کی توقیر بڑھا نہیں سکتے تو ان کی تضحیک وتوہین نہ کریں۔ مال روڈ پر چار روز سے ماہرین تعلیم حکومت وقت کو دکھائی کیوں نہیں دیتے ۔؟؟کوئی بااثر حکومتی شخصیت ان کی بات سننے کے لیے بھی وقت نہیں رکھتی ۔؟؟

ہم لکھنا تو شاہ حسینؒ کے سالانہ عرس اور میلے پر چاہتے تھے مگر ٹی وی سکرین پر اپنے رفیقان کو مال روڈ پر بیٹھا دیکھ کر ، قلم کا رخ تبدیل ہوگیا۔ نجانے یہ سب کچھ دیکھ کر اور اخبار میں پیٹرول کی قیمت میں کئی گنااضافے کی خبر سے ہم باقاعدہ غصے کی سی کیفیت میں ہیں۔ یہ درست کہ ۔ وطن عزیز کا یہ حال سابقہ حکومتوں نے کیا مگر آپ کیا کررہے ہیں؟ عوام کی چیخیں سننے کا ”شوق“ اچھا شوق نہیں ہے۔ اللہ کی پکڑ میں کوئی کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ ہر شخص اسی کے سامنے جوابدہ ہے۔ طاقت اثرورسوخ ، اختیار، مال ودولت ، حسن جوانی علم وفضل ہرنعمت کا حساب لیا جائے گا۔ کسی غلط فہمی میں مت رہیں۔ اس کے ہاں دیر تو ہوسکتی ہے اندھیر نہیں ....

شاہ حسین فرماتے ہیں :

دنیا جیون چار دیہاڑے کون کسے نال رُسے

جیں ول ونجاں موت تنہے ول جیون کوئی نہ دسے

سر پر لونا ایس جہانوں رہنا تاں ناہیں کسے

کہے حسین فقیر سائیں دا موت وئیندڑی رَسے

( چار دن کی زندگی ہے اس میں کسی سے کیا روٹھنا

جس طرف جاﺅں ادھر موت نظر آتی ہے کوئی بھی جینے کی بات نہیں کرتا ، اسی جہاں سے ہرصورت کوچ کرنا ہے، کسی نے باقی نہیں رہنا ،سائیں کا فقیر حسین کہتا ہے موت مارنے کا سامان تیار کررہی ہے )

شاہ حسین کے شعروں کا ایک اور ترجمہ ملاحظہ ہو:

نادان !کچھ سمجھ تیرا وقت نکلا جارہا ہے

زندگی دوچار دن کی ہے دیکھتے دیکھتے ہی گزر جاتی ہے

دنیا کی دولت مال خزانہ کوئی بھی تو ساتھ نہیں لے جانا

ماں باپ بھائی خاوند (آل اولاد) کوئی بھی ساتھ نہیں جانا

عاجز فقیر حسین کہتا ہے باقی اللہ کا نام رہ جاتا ہے


ای پیپر