ہینگ لگے نہ پھٹکڑی
31 مارچ 2018 2018-03-31

باوجود اس کے کہ فوج کے ترجمان اور چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے یقین دہانی کرائی جا چکی ہے کہ 2018ء کے انتخابات عین وقت پر ہوں گے۔ کئی سیاسی حلقے اور قومی امور پر مسلسل رائے زنی کرنے والے مبصرین کو شک ہے کہ واقعی ایسا ہو گا۔۔۔ اوّل تو فوج کے ترجمان اور منصف اعلیٰ کا یہ منصب نہیں وہ انتخابات کے بروقت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں حتمی یا فیصلہ کن رائے کا اظہار کریں۔۔۔ آئین اور بہترین جمہوری روایات کے تحت یہ ان کے منصب کا تقاضا نہیں۔۔۔ اس کی ذمہ داری براہِ راست برسراقتدار جماعت، اپوزیشن پارٹیوں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں اگر فی الواقع کوئی شکوک و شبہات ہیں انہیں مل کر دور کریں۔۔۔ لیکن فوجی قیادت اور عدالت عظمیٰ ہمارے غیر معیاری نظام سلطنت میں جو اگرچہ خالصتاً آئینی و جمہوری ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے سب سے طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔۔۔ ماضی کی تاریخ گواہ ہے وہ کسی نہ کسی حوالے سے نظام انتخابات پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں اس لیے خواستہ و نخواستہ قومی اور عوامی حلقوں میں ان کی رائے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔۔۔ مگر اس کے باوجود کچھ لوگوں کو یقین نہیں آ رہا اگلے انتخابات آئین پاکستان میں دیئے ہوئے نظام الاوقات کے عین مطابق ہوں گے اور یہ کہ ان کے انعقاد کی خاطر وفاق اور صوبوں کے اندر جو نگران حکومتیں وجود میں آئیں گی کیا 60 روز کے اندر چناؤ کرا کے واقعی رخصت ہو جائیں گی یا انتخابات کو معرض التواء میں ڈال کر دو یا تین سال کے عرصے کے لیے ’’قائم و دائم‘‘ رکھی جائیں گی۔۔۔ تا کہ ایسا ماحول پروان چڑھا سکیں جن کے اندر ’’مثبت‘‘ انتخابی نتائج کا حصول ممکن ہو جائے۔۔۔ مثبت نتائج کا حصول چونکہ ہماری مقتدر قوتوں کی دیرینہ خواہش رہی ہے۔۔۔ اب بھی اس میں کمی نہیں آئی اس لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ عدلیہ کی مدد سے کوئی ایسا عارضی یا استثنائی نظام نافذ کر دیا جائے گا جس کے تحت انتخابات کو ملتوی کیا جا سکے اور نگران حکومت کی جگہ ایسی عارضی انتظامیہ لے لے جسے زیادہ عرصے تک برسراقتدار رکھا جائے۔۔۔ اس کے بعد انتخابات کے بارے میں سوچ لیا جائے گا انہیں کب اور کیسے کرانا ہے۔ لیکن یہ فارمولا اتنا زیر بحث آ چکا ہے اور متنازع ہو چکا ہے کہ قومی سیاسی حلقوں میں مجموعی طور پر غیر مطلوب بلکہ ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ مقتدر قوتوں سے قطع نظر قومی اور سیاسی و عوامی حلقوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ایسا انتظام کسی طور پر قابل قبول نہ ہو گا۔۔۔ اس لیے مخصوص حلقوں کے لیے مرغوب ہونے کے باوجود اس کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب تینوں بڑی جماعتوں اور صوبائی سطح کی پارٹیوں نے اس اعتماد پر کہ انتخابات بہر صورت ہوں گے زورو شور کے ساتھ تیاریاں شروع کر دی ہیں۔۔۔ عمران خان ممبر سازی کی مہم پر نواز شریف کے قلعہ لاہور پہنچے ہوئے ہیں جہاں ان کی رابطہ عوام مہم پوری تنظیمی اور اشتہاری قوت کے ساتھ چلائی جا رہی ہے۔۔۔ مقابلے میں میاں نواز شریف آج اس صوبے کی وادی سوات میں عوامی جلسہ کریں گے جہاں پچھلے تقریباً پانچ سال سے عمران خان کی جماعت کی حکومت چلی آ رہی ہے اور جہاں کے بارے میں خان بہادر کا خیال ہے کہ ہر شعبے میں گڈ گورننس کی ایسی مثالیں قائم کر دکھائی ہیں کہ اس صوبے کے لوگ آئندہ انتخابات میں بھی بھرپور طریقے سے ان کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیں گے۔۔۔ لیکن کرکٹ کے کھلاڑی کے لیے اصل چیلنج کا میدان 2013ء کی مانند اب بھی پنجاب بنا ہوا ہے۔۔۔ جہاں وہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے کی پارٹی ضرور ہیں لیکن ملک کے سب سے بڑے صوبے کے اندر شہباز جمع نواز حکومت نے جو کارکردگی دکھائی ہے اگرچہ وہ ہر لحاظ سے معیاری نہیں لیکن
دوسرے تمام صوبوں کے مقابلے میں دور سے نظر آنے والے ترقیاتی کاموں اور گڈ گورننس کا جو مظاہرہ ہوا ہے اسے پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ پنجاب کے انتخابی دنگل کے اندر عمران خان کی دال سخت مقابلے کے باوجود مشکل سے گلے گی۔۔۔ وہ سیٹیں ضرور جیتیں گے لیکن اکثریت شاید نہ حاصل کر سکیں تیسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی اس اعتماد سے سرشار ہے کہ اندرون سندھ اس کی اجارہ داری ہر طرح کی بدانتظامی اور عوامی مسائل کو مسلسل نظرانداز کرنے کے باوجود کوئی نہیں توڑ سکتا۔۔۔ پہلے کی مانند وہاں سے اس مرتبہ بھی اکثریت حاصل کر لے گی۔۔۔ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کی بات البتہ دوسری ہے۔۔۔ وہاں ایم کیو ایم بلاشبہ سخت انتشار کا شکار ہو چکی ہے کئی حصوں میں بٹ گئی ہے۔۔۔ بلکہ اس کی دال جوتیوں میں بٹ رہی ہے۔۔۔ بیچارگی کا عالم طاری ہے لیکن ابھی تک حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اردو بولنے والوں کی اکثریت کا ووٹ کس کے حق میں جائے گا۔۔۔ مذہبی جماعتوں میں ایم ایم اے نے نئی اٹھان لی ہے۔۔۔ لیکن 2002ء کے مشرف کے زمانے کے انتخابات کے برعکس اس کا پیچھا اتنا مضبوط نہیں جتنا تب تھا۔۔۔ اس پر مستزاد یہ کہ ’لبیک‘ جیسی تنظیمیں مذہبی ووٹ کی دعویدار بن کر سامنے آ چکی ہیں۔۔۔ متحدہ مجلس عمل ان کے چیلنج سے کیونکر نبرد آزما ہو گی اس کے بارے میں آنے والے انتخابات ہی کچھ بتا سکیں گے۔۔۔ بلوچستان میں البتہ پاکستانی سیاسیات کی نئی کہانی رقم کی جا رہی ہے۔۔۔ مقامی طور پر کنگز پارٹی وجود میں لائی جا چکی ہے۔۔۔ اسے اوپر والوں کی جو سرپرستی حاصل ہے وہ ننگی آنکھ کو بھی نظر آتی ہے اسی سبب اس میں بڑا دم خم نظر آتا ہے۔۔۔ لیکن کیا صوبے کے بلوچ اور پختون عوام بھی اسے اسی طرح پذیرائی بخشیں گے جیسا کہ اس کے طاقتور مہربان خواہش رکھتے ہیں۔۔۔ اس کے بارے میں بھی انتخابی نتائج کو سامنے رکھ کر رائے قائم کی جا سکے گی۔
اہم تر سوال یہ ہے اگر انتخابات کے بروقت انعقاد کو روکا نہ جا سکا اور کسی ایک جماعت کو سادہ اکثریت بھی مل گئی اور وہ ظاہر ہے Favourite نہ ہو گی تو اس کے آگے کیسے بند باندھا جائے گا۔۔۔ اس کی خاطر ہماری حکمرانی کا فیصلہ کرنے والوں کے سامنے نیا وضع کردہ بلوچستان ماڈل موجود ہے۔۔۔ جس کا کامیابی کے ساتھ تازہ تازہ تجربہ کیا گیا ہے۔۔۔ پہلے 2013ء کے انتخابات کے بعد برسراقتدار آنے والی جماعت کے وزیراعلیٰ کو سازشی قسم کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اٹھا باہر پھینکا گیا۔۔۔ اس کے بعد عدالت عظمیٰ کے فوری فیصلے سے مدد حاصل کر کے اس جماعت کے نامزد امیدواران سینیٹ کو آزاد حیثیت سے چناؤ میں حصہ لینے پر مجبور کیا گیا۔۔۔ اس تیار کردہ پچ پر زرداری نے سیاسی کرتب دکھائے اور بقول شخصے پی پی پی کے ارکان کو جتوانے کی خاطر اصطبل کے اصطبل خریدے۔۔۔ عمران خان کی جماعت کو ایسے زخم لگائے وہ چیخ اٹھے۔۔۔ دوچار ن لیگی بھی بھاؤ تاؤ کا شکار ہوئے۔۔۔ اس کے باوجود 2013ء میں کامیاب ہونے والی جماعت اس مرتبہ بھی اپنی داخلی اور جمہوری سیاست کے بل بوتے پر نمبر گیم میں آگے نکلتی نظر آئی تو ضمیروں کی خریدوفروخت کا بازار گرم، ایک مرتبہ پھر گرم ہوا۔۔۔ عمران خان باوجود تمام تر چیخ و پکار اور بیانات مذمت کی بھرمار کے زرداری صاحب کے ساتھ ’’عملی‘‘ اتحاد پر مجبور ہوئے تاکہ سینیٹ چیئرمین کے لیے نواز لیگ کے کسی نامزد یا حمایت یافتہ امیدوار کا راستہ روک دیا جائے۔۔۔ دونوں نے مل کر باخبر لوگوں کی اکثریت کی رائے کے مطابق مقتدر قوتوں کی اشیرباد کے حامل سیاسی طور پر ایک نامعلوم شخص کو ایوان بالا کا سربراہ بنا دیا۔۔۔ یوں مقتدر قوتوں کی سیاست کاری کی بدولت مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا نیا ماڈل وجود میں آ گیا۔۔۔ زرداری صاحب کو البتہ یہ کامیابی ملی کہ اوپر والوں کے ذریعے عمران خان کو نائب چیئرمین کے لیے ان کی جماعت کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ ہمارے اصل حاکم اس ماڈل کی کامیابی پر بڑے مطمئن اور سرشار ہیں اور ان کے یہاں سوچ بچار جاری ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کو کنٹرول کرنے کے لیے اس ماڈل کو کیسے آزمایا جائے۔۔۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے مزاج کے برعکس بڑے زوروشور کے ساتھ بیانات دیے ہیں کہ جس طریقے کے ساتھ سینیٹ اور اس کے چیئرمین کا انتخاب ہوا ہے پہلے زرداری نے عمران خان کے گھوڑے سربازار خریدے۔۔۔ پھر بالائی قوتوں کے چیئرمین کو کامیاب بنانے کے لیے دوبارہ ضمیروں کا سودا ہوا۔۔۔ یہ پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔۔۔ اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔۔۔ غالباً وہ اپنی اس رائے پر اصرار کر کے ’’والیان ریاست‘‘ کو پیغام دینا چاہتے ہیں جولائی 2018ء کے چناؤ میں جو بھی اسمبلی وجود میں آئی اس کے اراکین کو ’’راہ راست‘‘ پر لانے کے لیے بلوچستان کے ماڈل یا اس سے ملتے جلتے کسی نسخہ ترکیب استعمال کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔۔۔ مقتدر قوتوں کو یہ کھیل کھیلنے نہیں دیا جائے گا کہ انتخابات بھی بروقت ہوں اور ان کی کوکھ سے حسب منشا نتائج بھی برآمد کر لیے جائیں۔۔۔ سینیٹ کے چیئرمین کی مانند مرضی کا وزیراعظم مسلط کر دیا جائے گا اور وہ منتخب بھی کہلائے۔۔۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آئے۔۔۔ غالباً اسی کے حفظ ماتقدم کے طور پر شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم اور اپنی جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے پُرزور آواز بلند کی ہے۔۔۔ لیکن کیا وہ مقتدر قوتوں کو ان کے عزائم بروئے کار لانے سے روک سکیں گے۔۔۔ یہ آج کا بڑا سوال ہے۔


ای پیپر