نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی۔۔۔
31 مارچ 2018 2018-03-31

حق و باطل کا بہت بڑا معرکہ سر زمینِ شام میں برپا ہے۔ مسلم دنیا منہ موڑے بیٹھی ہے۔ عالمی میڈیا ، سیرینِ آبزر ویٹسری نامی انسانی حقوق کا ادارہ خبر دے اور پاکستانی اخبار کی ترجیحات میں جس درجہ فٹ ہو اتنی تو خبر ہمیں مل جاتی ہے۔ ورنہ اسے عرب دنیا کی خبر جان کر ’ الجزیرہ‘ سے ڈھونڈ نا پڑتا ہے۔ پہلے غوطہ پر وحشیانہ بمباری رہی۔ وہاں سے انخلا پر سینکڑوں علاقے سے نکل کر ادلب شہر روانہ ہوئے۔ اب بمباریوں کی ساری خبریں ادلب پر ہیں۔ بازار پر جنگی طیاروں کا حملہ جب وہ شہریوں سے کھچا کھچ بھرا بھرا ہوا تھا۔ انسانیت سوز مظالم پر بلیوں کتوں کے حقوق پر رونے والے تو کیا بولیں گے خود مسلمانوں کا حال بے حسی کی آخری انتہا کو چھو رہا ہے۔ یمن انہی حالات میں جب روس امریکی بلیک واٹر نما کرائے کے قاتلوں کے جتھے مسلم کشی کیلئے شام پر چھوڑے ہوئے ہے۔ بے رحمانہ فضائی بمباری کر رہا ہے۔ پاکستان روس کے ساتھ تعاون برائے انسداد دہشت گردی کے ( اگرچہ خود روس شام میں بد ترین دہشت گردی کا مرتکب ہے) ساتویں ورکنگ گروپ کی میٹنگوں میں مصروف رہا۔ ہم نے اُف تک نہ کہی ہمارا خون سفید ہو چکا ہے۔ سعودی ولی عہد اسی عرصے میں ٹرمپ سے جنگی سازو سامان کی خریداری اور امریکہ میں سرمایہ کاری کے ذریعے امریکی محبت سمیٹنے میں مصروف رہے۔ ٹرمپ کی خوشی کا اظہار دیدنی تھا۔ ’ ہماری دوستی ہمیشہ سے بڑھ کرہے‘۔ بار بار ندیدوں کی طرح مسلم وسائل اور اموال پر رال ٹپکاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا۔ ’ یہ ایک امیر کبیر ملک ہے۔ ہمیں بھی اپنی دولت سے حصہ دے گا‘۔ مسلمانوں کے اموال پر ڈاکہ ! ادھر ایک منظر متحدہ عرب امارات کا بھی ہے۔ جہاں شہزادہ ہندوؤں کے مندر کے لیے عطیہ کی گئی وسیع و عریض اراضی پر تقریب کے حوالے سے ہندوؤں سے خطاب فرمانے تشریف لائے۔ دونوں ہاتھ جوڑ کر ہندوانہ نمسکار کہنے کو تملق بھری ( تکلیف دہ خوشامدی چاپلوس) مسکراہٹ کے ساتھ ’ جے سری رام ‘ فرمایا۔ ہندو سامعین کی باچھین حیرت آمیز خوشی سے چر گئیں۔ سوشل میڈیا پر اس سے منسلک وڈیو میں تصویر کا دوسرا رخ بھارت میں ایک ہندو کے ہاتھوں بری طرح پیٹے جانے والا ایک مسکین سا مسلمان ہے۔ بول ‘ جے سری رام‘ ۔۔۔ اور یہ نہ بولنے کی استقامت پر کوڑے برسا برسا کر ادھ موا کر دیا گیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کا مقدر دبئی میں مندر عطیہ ہو کر بھی نہ بدلا۔ شام کے مسلمانوں کا مقدر ولی عہد کی امریکہ کی تمامتر خوشامد درآمد کے باوجود نہیں بدل سکتا۔ امریکہ روس مل کر باری باری مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنا رہے ہیں۔۔۔ ہلا کو ہائے اکیسویں صدی۔۔۔ اس کا موازنہ کیجئے سید نا عمرؓ کی فتح بیت المقدس سے تو اسلام کی سلامتی اور کفر کی دیرینہ درندہ خوئی کا فرق سامنے آجاتا ہے۔ 16 ھ میں بیت المقدس کی فتح پر مسلم فوج کے ہاتھوں خون کا قطرہ نہ بہا۔ صلیبیوں نے 70 ہزار مسلمانوں کے خون پر بیت المقدس فتح کیا!21 ویں صدی میں 5 ہزار امریکیوں اور ایک عمارت کے بدلے جو مسلم دنیا کھربوں ڈالر لٹا کر اجاڑی وہ ان کی دہشت گردی ، تخریب کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ صدی درندگی، بہمیت ، بے حیائی، ڈھٹائی، فحش کاری، ڈاکہ زنی، جھوٹ دجل فریب کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالنے والی صدی ہے۔ مسلمان بچیوں کے ساتھ جو سلوک اس صدی نے کیا۔ ( شام میں جاری ہے)۔ وہ ابو جہل ، امیہ بن خلف کو بھی نہ سوجھا۔ تاہم یہ تو ہونا تھا۔ فتنہ دجال سے تمام انبیاء نے پناہ بلا وجہ تو نہ مانگی تھی۔ ہم آخری امت ہیں۔ دنیا اپنے ازل سے بہت دور۔ ابد سے قریب تر ہے۔ ابلیس سے مہلتِ عمل چھننے کو ہے۔ شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے۔ اللہ نے اس کھلی چھٹی اور ہمیں تمامتر تنبیہات دے رکھی ہیں۔ ہر دور کی طرح اس
دور سے بھی جنت کے آباد کار چھانٹے جائیں گے۔ حق و باطل کے معرکے تو ہمیشہ کی طرح ہو کر رہیں گے۔ نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے۔۔۔ وہی خوئے اسد اللّہی وہی مرحبی وہی غتری ! یہی حقیقت اللہ نے سورۃ الانبیاء 16-18 بھی واضح فرما دی ہے۔ یہ دنیا استوار ہی حق و باطل کے معرکوں پر ہوئی ہے۔ صرف وقت ، جغرافیہ ، نام بدلتے ہیں کہانی جو آدم ؑ و ابلیس سے شروع ہوئی تھی آج برسرِ زمین جاری و ساری ہے۔ فرق یہ ہے کہ دور کی کہانیاں فوراً سمجھ آجاتی ہیں۔ کردار پہچانے جاتے ہیں۔ مومن، کافر، منافق کے تعین میں اشتباہ نہیں ہوتا۔ فرعون، نمرود، ابوجہل کی طرف داری کرنے کی بات کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔ عبداللہ بن ابی، میر جعفر ، میر صادق جیسے کردار مسلمانوں سے خراجِ تحسین کبھی بھی نہ پا سکے۔ صلاح الدین ایوبی ؒ ، ٹیپو سلطانؒ ، سید احمد شہیدؒ کیلئے احترام و عقیدت سے سر جھکتے ہیں۔ ان کی مخبری کرنے والے، ان کے مقابل کافر سے ساز باز کرنے اور جہاد کو نقصان پہنچانے والے کبھی مسلمانوں کے ہاں گئے گزرے حال میں بھی ہیرو قرار نہیں دیئے جاسکتے ! مگر ہماری قریب کی نظر کمزور ہے۔ بہت ہی کمزور۔۔۔ ! جیسے حساب (Maths) کے طالب علم کو حل شدہ مثالیں تو واضح نظر آرہی ہوتی ہیں لیکن خود اپنا سوال حل کرنے بیٹھتا ہے تو بار بار خطا کھاتا ہے! المیہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا دھیان کھیل میں پھنسا ہوتا ہے بادل نخواستہ ہی کتاب اٹھا رکھی ہوتی ہے۔ ’قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جو تازہ نصیحت بھی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے اس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں۔ دل ان کے ( دوسری ہی فکروں میں ) منہمک ہیں‘۔ (الانبیاء 1,2 ) اللہ نے تو سمجھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حق کے تمام اجزاء واضح ہیں۔ زندگی صرف امتحان ہے۔ کتاب اللہ، نصاب ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم استاد ہیں۔ آخرت کو مرکز و محور بنا کر اتباعِ قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرنا اور بر روئے زمین شریعت الٰہیہ کا نفاذ ہمارا مقصدِ وجود ہے۔ باطل کے تمام اجزاء واضح ہیں۔ تکذیب حق، استھزاء، الزامات، پروپیگنڈے کی بوچھاڑ، جھنجلا کر اہل حق پر تعذیبیں ، زندانوں میں پھینکے جانا، اہل باطل صاحبِ اقتدار ہیں، گھن گرج والے شان و شوکت سے آراستہ ، مزین ہیں۔ دنیا پر حکمران ، فراعنہ نے اصطلاحوں سے دہلا دہلا کر حق و باطل کو گڈ مڈ کیا۔ ہم عافیت کے طلب گار منقار زیر پر ہیں! کھال اور مال بچا رہے ہیں۔
ہم دنیائے مغرب کو راضی کرتے دوہرے ہوئے جا رہے ہیں۔ برطانیہ میں ’ مسلمانوں کو سزا دو‘ مہم جاری ہے۔ ایک مسلمان لڑکی قتل ہو چکی ۔ ایک اماراتی شہری پر مکوں کی بارش برسا دی۔ وہی اماراتی جو اہل مغرب کو پلکوں پر بٹھاتے ، ان پر مال نچھاور کرتے ہیں۔ سونے کے سکوں کی بارش کے بدلے مسلمان پر مکوں میزائیلوں کی بارش برس رہی ہے حسبِ توفیق ، حسبِ موقع ! نفرت انگیز پمفلٹس کی تقسیم پر برطانیہ میں مکمل خاموشی ہے۔ ہمیں ’ نفرت انگیز مواد ‘ پر طعنے تا سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری حد تو یہ ہے کہ مسلم تاریخ میں عورت کے حوالے سے جو احترام و تقدس پایا گیا اس پر گواہ محمد بن قاسم ؒ کی ہندوستان پر لشکر کشی تھی۔ معصّم باللہ کا مسلم عورت کی پکار پر فوری خود پہنچ کر فوج کشی کر کے اسے رہا کر وانا تھا۔ آج عافیہ موومنٹ کی طرف سے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کھلاخط جاری ہوا ہے۔ ملک کے مقتدرین ، عوام ، فوج سب ہی کے ضمیر کے سامنے کڑا سوال ! 20 کروڑ کی بہن 15 سالوں سے جرم بے گناہی کی سزا نیو یارک میں کاٹ رہی ہے! 30 مارچ 2003 ء کو اسے 3 کمسن بچوں کے ساتھ کراچی سے اغوا کر کے امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس دوران 15 مرتبہ 8 مارچ، عالمی یوم نسواں کا لطیفہ بھی ہوگزرتا رہا۔ مگر وہ موم بتی ، سول سوسائٹی عورت کا دن تھا! ذہین و فطین پاکیزہ صفت، اعلیٰ تعلیمی اسناد کی حامل ڈاکٹر عافیہ بھلا دی گئی۔ ڈاکٹر فوزیہ نے ماں بہن بیٹی کے مقام کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قوم کی غیرت اور حمیت ہوا کرتی ہے۔ یہ تمام اصطلاحات روشن خیال پاکستان کیلئے اجنبی ہیں۔ غیرت، حمیت۔ ؟ تیمور کے گھر سے رخصت کی جاچکی ۔ ماں ، بہن ، بیٹی۔ ؟ ٹائٹس اور بنیانوں میں ملبوس آج کی لڑکیوں پر بہن بیٹی کی مقدس اصطلاحات فٹ نہیں بیٹھتیں۔ رہا ان کا یہ تقاضا کہ کالم نگار ’حکام کو دینی، قوم ، آئینی فریضہ یاد دلائیں‘ ۔۔۔ تو دین خود نرغے میں ہے مساجد ، مدارس کا گھیراؤ ہے۔ قوم۔۔۔ ؟ پارہ پارہ باہم برسرِ پیکار کھینچا تانی آپا دھاپی کے اس منظر میں کون سا فرض! آئین۔ ؟ راؤ انوار۔۔۔ جبری گمشدگیاں، پولیس مقابلے۔ سالوں سے رلتی آمنہ جنجوعہ۔۔۔ سپریم کورٹ میں دھکے کھاتی! یوم ندامت عافیہ کا۔ ؟ یہاں از سرِ نو سافٹ امیج کیلئے ملالہ ڈے۔۔۔ مغرب کی ڈارلنگ ملالہ معزز مہمان بنی دین، قوم ، آئین سے خراجِِ تحسین وصول کر رہی ہے! اس وقت عافیہ کی بات نہیں ہوسکتی!ہم جہاں سے چل کر یہاں تک پہنچے ہیں اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گریہ وزاری کرتی وہ رات نہ ہوتی جب آپ ؐ اللّٰھم امتی۔۔۔ امتی۔۔۔ امتی پکارتے روتے رہے ۔ تو ہم کبھی کے ہلاک ہو چکے ہوتے۔ آپ ؐ کی دعا امت اور عذاب کے درمیان حائل ہے۔ ورنہ اللہ کی کون سی حد ہے جو ہم نے جیتے جی نہیں توڑی۔ سعودی عرب، دنیائے عرب ، لا الٰہ والا پاکستان سب ہی وژن 2030 ء کی لپیٹ میں حد شکنی پر کمربستہ ہیں۔ حیاء، اقدار لٹ گئیں۔ لکھتے لکھتے قلم کی سیاہی خشک ہونے کو آگئی۔ اہل حق نے بھی حق کا حق کما حقہٗ ادانہ کیا۔ وگرنہ اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے۔۔۔ اک ضربِ ید اللہی اک سجدۂ شبیریؓ


ای پیپر