تحریک انصاف کی رکنیت سازی مہم
31 مارچ 2018

ہمارے عوام ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں کے عوام سے اس لئے بھی کافی’’مختلف‘‘ ہیں کہ انہیں منتخب حکومت قائم کرنے کے مواقع تاریخ میں کبھی کبھی ملے ہیں۔عوام ایک منتخب حکومت کو غیر منتخب حکومت پر صرف اورصرف اس لئے ترجیح دیتے ہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے ووٹوں سے قائم ہونے والی حکومت ان کی زندگیوں میں آسانیاں، سہولتیں، مراعات، کشادگیاں اورآسائشیں لانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔ منتخب عوامی حکومتوں اور نمائندوں پر عوام کا یہ یقین جمہوریت پر ان کے یقین کی نشاندہی کرتا ہے۔ سو انہیں جب بھی اس قسم کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے تو وہ انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنی اپنی پسند کی جماعتوں کے امیدواروں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرتے اور ووٹ بنک پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ عوام ان جماعتوں کے امیدواروں کو پسند کرتے ہیں جن کا انتخابی منشور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتا ہو۔
عمران خان کی قیادت میں ابھرنے والی تحریک انصاف جس نے عوام کے اندر ایک ولولہ پیدا کیا اور تبدیلی کا نعرہ لیے عوام میں ایک جذباتی کیفیت پیدا کی ۔ عوام روایتی سیاست سے تنگ آچکے تھے، کرپٹ حکمرانوں نے اس ملک کو کہیں کا نہ چھوڑا تھا اسی لمحے تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگاکر کرپٹ حکمرانوں سے جان چھڑانے کا عزم کیا اور اسی کے تسلسل میں پورے ملک میں رکنیت سازی شروع کی گئی جسے ہر ضلع میں سراہا گیا اور اب جبکہ لاہور میں حالیہ رکنیت سازی کی مہم شروع کی گئی ہے تو زندہ دلان لاہور کا ہر کیمپ پر رش دیکھ کر دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا ۔ کارکنوں کے جوش و خروش نے پارٹی میں ایک بار پھر جان بھر دی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے عمران خان نے لاہور میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہو اور اس مرتبہ یقیناًایسا ہی ہو گا ۔ بلاشبہ ایک دہائی پہلے تحریک انصاف ایک نوزائیدہ سیاسی جماعت تھی، لیکن اس کے قائدین خصوصاََ عمران خان صدق دل سے عوام کی خدمت کے لیے نکلے۔ انہوں نے جماعت کے مرکزی نظم کی تشکیل کیلئے رات دن محنت کی ۔ مرکزی سطح پر جب جماعتی نظم کے خد و خال ابھر آئے تو انہوں نے جماعت کی صوبہ جاتی تنظیم پر توجہ دی۔ اس دوران عمران خان نے جماعت کے دیگر مرکزی رہنماؤں کے ساتھ چاروں صوبوں کا تنظیمی دورہ کیا۔ ایک پرانے پارلیمنٹیرین اور سربرآوردہ سیاسی رہنماء کی حیثیت سے چاروں صوبوں میں ان کا وسیع حلقہ احباب موجود تھا۔ اس حلقہ احباب کی وسعت کا عالم یہ تھا کہ اس میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے حضرات موجود تہے۔ وہ سیاسی حلقے کے ساتھ ساتھ کاروباری، دینی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں بھی یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف پر ایک فلاحی، عوام دوست اور رفاہی تنظیم کے روپ میں اُبھری ہے۔ جس کا عزم ہے کہ پورا ملک اس جماعت کا رکن بنے اور تبدیلی کا نعرہ لگائے۔ تاکہ پاکستان کی تقدیر بدلی جا سکے۔ راقم بطور صدر سنٹرل پنجاب ( تحریک انصاف )اس حوالے سے پرعزم ہے کہ ہمارا ٹارگٹ واضح ہے اور حکمت عملی بھی واضح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹارگٹ واضح ہو تب ہی واضح حکمت عملی جنم لیتی ہے۔اور ہمارے ٹارگٹ قوم کے علم میں ہیں کہ پہلا رکنیت سازی ، دوسرا توسیع تنظیم تیسرایوتھ کی ممبرشپ اور تنظیم سازی چوتھا خواتین کی تنظیم سازی اور پانچواں ان کی تربیت۔ اس لحاظ سے جماعتی تنظیم کی بنیادی اکائی رکن ہے۔ جب تک ارکان میں خاطر خواہ اور معقول اضافہ نہ ہو سیاسی پیش رفت ناممکن ہے۔ اس بنیادی حقیقت کو عمران خان نے شدت سے محسوس کیا ہے۔ اور ارکان میں 100 فی صد اضافے کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔اس کے علاوہ اس سال کے آخر تک یونین کونسل ، ولیج کونسل اور وارڈ لیول تک نظم کے قیام کو اولین ترجیح قرار دیا۔ حقیقت یہی ہے کہ مثالی اور بہترین تنظیم ہونے کی ہر ممکن اور ہر سطح پر کوشش کی جائے گی۔
میرے خیال میں اتنے بڑے لیول پر رکنیت سازی اگر کوئی جماعت کوشش بھی کرے تو ایسا نہیں کر سکے گی۔ اگر آپ مختلف ممالک میں جمہوریتوں اور پارٹیوں کے ارتقاء کا جائزہ لیں گے تو پتہ چلے گا کہ الیکشن سے پہلے رکنیت سازی کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ لہٰذاہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ الیکشن 2018ء میں مخالفین جن میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نمایاں ہیں کو بھرپور شکست دی جائے اور اس ملک کی تقدیر کو بدلنے کے لیے فعال کردار ادا کیا جائے۔ جس سے بادشاہوں کے دور میں حکومتی ڈھانچہ میں بادشاہ ، بادشاہ کا دربار ، بادشاہ کے نامزد وزرا ، فوجی عہدیدار ، صوبیدار اور جاگیر دار اوراہم عناصر جنہوں نے اس ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ان سے عوام کو نجات دلائی جاسکے۔ اس کے علاوہ یوتھ تحریک انصاف کا خاصا رہی ہے ۔ ہم نے تمام صوبوں کی تمام یونین کونسلوں سے لاکھوں نوجوانوں کو انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی مہیا کیا ہے۔ جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ نوجوانوں کی اتنی بڑی طاقت 2018 کے انتخابی نتائج کو یکسر تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ جماعت کے تنظیمی اہداف رکنیت سازی اور وارڈ لیول تک تنظیم کو بھی اس یوتھ فیکٹر نے یقینی بنا دیا ہے۔
لہٰذاکوئی بھی جماعت، پارٹی، ٹیم یا تحریک ہمیشہ افراد سے وجود پاتی ہے۔ افرادی قوت اور افرادی استعداد کے بغیر کسی تنظیم یا گروپ یا سوسائٹی کا تصور بھی ناممکن ہے۔ فیملی ہی کی مثال لے لیں۔ ایک فیملی افراد ہی سے بنتی ہے۔ ایک سے زیادہ فیملیز مل کر کنبہ یا خاندان بن جاتی ہیں اور زیادہ خاندانوں سے برادری یا برادریاں وجود میں آتی ہیں۔فیملی، کنبہ، خاندان یا برادری صرف افراد کی تعداد ہی کا نام تو نہیں۔ پھر وہ کیا چیز ہے جس سے فیملی ایک فیملی کہلا تی ہے اور جماعت ایک جماعت کہلاتی ہے یا کوئی ٹیم ایک ٹیم کہلاتی ہے؟ اگر دو یا دو سے زیادہ لوگ مل کر ایک مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنے ذہنی توانائیاں، اپنی جسمانی صلاحیتیں، اپنے مادی وسائل، روپیہ، پیسہ ایک جگہ جمع کر کے مشاورت سے اور مشترکہ طور پر کام کرنا شروع کر دیں توان کے درمیان آپس میں کچھ تعلقات وجود میں آتے ہیں۔ ان تعلقات کے کچھ نام ہیں مثلاً تعاون، مدد، وفاداری، ہمدردی، دوستی، بھائی چارہ، اخوت، برابری، مساوات، قربانی، ایثار، توقیر، تکریم، عفو و درگذر، محبت، یگانگت وغیرہ۔ سارے لوگ پیسہ لگا کر محنت کر کے ایک مقصد کے لئے سر جوڑ کر کام کر رہے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان یہ تعلقات خود بخود وجود میں آ جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے نفرت نہیں کر سکتے، ان میں آپس کا انتقام نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں۔
ممبر شپ یا رکنیت کسی جماعت یا تحریک کے ساتھ وابستہ ہونے کا پہلا پروانہ ہوتا ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ وہ اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ملک کی تقدیر کو بدلنے کے لیے آگے بڑھیں، مجھے امید ہے اور میں آپ کو یقین بھی دلاتا ہوں کہ عمران خان اور پوری تحریک انصاف کی ٹیم عوام کو مایوس نہیں کرے گی (انشاء اللہ)


ای پیپر