شیخ حسینہ واجد کی تازہ ہرزہ سرائی!
31 مارچ 2018 2018-03-31

’’نئی بات‘‘ کی ایک خبر کے مطابق بنگلہ دیش کی وزیر اعظم اور بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی صاجزادی شیخ حسینہ واجد نے ایک بار پھر پاکستان کے بارے میں نفرت انگیز جذبات کا اظہار ہی نہیں کیا ہے بلکہ اپنی اس مذموم سوچ پر عمل پیرا ہونے کا عندیہ بھی دیاہے جس کے تحت پچھلے کئی برسوں میں وہ پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالیوں کو نشانۂ عبرت بنا نے کے لئے انہیں تختہ دار پر لٹکوانے اور جیل کی کال کوٹھریوں میں گلتے سڑتے رہنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں۔ ڈھاکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن کی سپتنی نے ارشاد فرمایا ہے کہ بنگلہ دیش کے وہ شہری جو ایک خود مختار ملک میں رہتے ہوئے اب تک پاکستان سے محبت کرتے ہیں انہیں سخت سزا ملنی چاہئے۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن کی مدد سے بنگلہ دیشی شہریوں میں پاکستان کی محبت ختم ہو جائے۔ عوام کو بھی ایسے لوگوں کو سخت جواب دینا چاہئے جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمارا وجود مٹ جائے گا۔
شیخ حسینہ واجد کے یہ خیالات کچھ نئے نہیں او ر نہ ہی پاکستان کے بارے میں ان کے دشمنی پر مبنی جذبات سے ہٹ کر ہیں۔ وہ پاکستان کے بارے میں نفرت کے جذبات کے اظہار میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتی رہی ہیں۔ کبھی وہ 1971ء کی خانہ جنگی کے دوران پاکستان کی فوج کی طرف سے مشرقی پاکستان میں پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے لیے لڑی جانے والی جنگ کو نام نہاد جنگی جرائم کے ارتکاب کا نام دے کر پاکستان سے معافی مانگنے کے مطابے کرتی ہیں تو کبھی 1971ء کے پر آشوب دور میں متحدہ پاکستان کا پرچم بلند کرنے والے جماعت اسلامی اور بعض دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے محب وطن پاکستانیوں کو اپنی حکومت کے زیر نگرانی جنگی جرائم کی تحقیقات کے ’’ انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل‘‘ کے نام سے قائم کردہ انتہائی متعصب اور نام نہاد ٹربیونل سے موت کی سزائیں دلوا کر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتی ہیں۔ اللہ جانے شیخ حسینہ واجد کے پاکستان سے نفرت کے جذبات اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کے خلاف انتقام کی آگ کب ٹھنڈی ہوگی اور اس جنونی کیفیت پر قابو پا سکیں گی جس کے تحت وہ پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات کے اظہار کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کو حق پہنچتا ہے کہ وہ بنگالیوں کے ذہنوں اور دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات و احساسات کو راسخ کریں تاہم محترمہ کو تاریخی حقائق نہیں بھولنے چاہئیں ۔ محترمہ کو پتا ہونا چاہیے کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے لئے الگ مملکت کے قیام کا خواب دیکھنے میں بنگالی زعما پیش پیش تھے۔ محترمہ کو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں اگر پاکستان کی شکل میں الگ مسلم ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا ہوتا توشیخ حسینہ واجد کے والد بنگلہ بندھوشیخ مجیب الرحمن کبھی بھی بنگا لیوں کے لئے بنگلہ دیش کے نام سے الگ وطن قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوتے ۔ دنیا کے تقشے پر پاکستان موجود تھا تو شیخ مجیب الرحمن جیسے رہنماؤں کو جو پاکستان کو دولخت کرنے کے بھارتی منصوبے پر عمل پیرا تھے، مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے بارے میں نفرت کے جذبات ابھارنے اور پاکستان سے علٰیحدگی کی سوچ کو پروان چڑھانے کا موقع ملا اور اس کے نتیجے میں وہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کر کے بنگلہ دیش بنانے میں کامیاب ہوئے ورنہ مشرقی بنگال متحدہ بنگال کا حصہ ہوتا تو بھارتی اسے کبھی بھی متحدہ بنگال سے الگ ہو کر بنگلہ دیش کا روپ اختیار نہ کرنے دیتے۔ بھارت کی مختلف ریاستوں اور صوبوں میں چلنے والی علیحدگی اور خود مختاری کی تحریکیں بالخصوص میزو، ناگالینڈ، اور مشرقی پنجاب میں سکھوں کی الگ ریاست قائم کرنے کی تحریکیں کیا اس کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کا یہ ’’کارنامہ‘‘ کچھ کم نہیں ہے کہ وہ اپنی حکومت کی نگرانی میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے قائم نام نہاد انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل کے ذریعے متحدہ پاکستان کے حامی کتنے ہی بزرگ اور انتہائی نیک نام بنگالی راہنماؤں کوپھانسی کی سزائیں دلواچکی ہے۔ ان میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابقہ امیر اور بزرگ راہنما پروفیسر غلام اعظم نوے سال سے زائد کی عمر میں پھانسی کی سزا پانے کے بعد جیل کی کال کوٹھری میں کچھ عرصہ قبل اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ان کے ساتھ اے کے ایم یوسف، عبدالکلام آزاد، دلاور حسین شہیدی ، مُلاعبدلقادر شہید، قمرالزمان ، چوہدری معین الدین، مطیع الرحمن نظامی،میر قاسم علی، علی حسن مجاہد، صلاح الدین قادر چوہدری اور کئی دوسرے پاکستان سے محبت کرنے والے رہنماؤں کو تختۂ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔ صلاح الدین قادر چوہدری کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ صدر ایوب خان کے دور میں پہلے وفاقی کابینہ میں شامل ہو کر اور بعد میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے طور پر فرائض سرانجام دینے والے اہم بنگالی رہنما اے کے فضل القادرچوہدری کے یہ صاجزادے 1971ء کے مشرقی پاکستان کی خانہ جنگی کے پر آشوب دور میں پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم کی حیثیت سے لاہور میں قیام پذیر تھے اور جنگی جرائم کی تحقیق کرنے والے نام نہاد ٹربیونل نے اس حقیقت کو جھٹلاتے ہوئے انہیں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر پھانسی کی سزا سنائی اور انہیں تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ کیا اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہوئے؟
شیخ حسینہ واجد کے اس طرح کے کارناموں کی تفصیلی بڑی دل خراش اور طویل ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے سینے میں جلنے والی انتقام کی آگ ٹھنڈی ہونے میں نہیں آرہی۔ اب اس کا نشانہ وہ غیر بنگالی ہیں جو بنگلہ دیش کے شہری ہیں اور دسمبر 1971ء کے بعد پچھلے تقریباً 46,47برسوں سے کیمپوں میں محصور زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا قصور متحدہ پاکستان کا حامی ہونا اور ان کے بزرگوں کا برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لئے الگ ملک کا خواب دیکھنا ہے۔ یہ غیر بنگالی عرف عام میں ’’بہاری‘‘ جو غیر بنگالیوں کے قائم محصور کیمپوں میں انتہائی کس مپرسی اور لاچارگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں دوہرے، تہرے عذاب کا شکار ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد نے برصغیر جنوب ایشیا میں مسلمانوں کے لئے الگ ملک کے قیام کی لا زوال جدوجہد میں حصہ لیا، بے مثال قربانیاں دیں اور اپنے گھر بار چھوڑ کر اور جان و مال قربان کر کے سرزمین بنگال کو جسے مشرقی پاکستان کا نام دیا گیا کو اپنا مسکن بنایا۔ اس سرزمین کی ترقی اور اس میں تعلیم اور تہذیب کی شمعیں روشن کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا لیکن 25سال بعد 1971ء میں انہیں پھر ایک نئے عذاب کا سامنا تھا۔ ان کے لئے نوزائندہ مملکت بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) کی سرزمین تنگ کردی گئی اور انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) میں چلے جائیں۔ اس وقت سے وہ مخصوص کیمپوں میں جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات موجود نہیں ہیں انتہائی قابل رحم زندگی بسر کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اپنے محدود وسائل کی بنیاد پر ان کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ بنگال کے ’’فرزند زمین‘‘ نہیں ہیں ۔ کیا ملک کی وزیر اعظم ہوتے ہوئے حسینہ واجد کا یہ فرض نہیں بنتا کہ محصور بہاریوں(پاکستانیوں) کے کیمپوں کا دورہ کریں اور ان کی دل جوئی کریں اور ان کی مشکلات اور تکالیف کا ازالہ کریں۔ لیکن حسینہ واجد کو اس کی کیا پروا اس پر تو پاکستان کے حامیوں اور پاکستان سے محبت کرنے والوں سے انتقام لینے کی دُھن سوار ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی پاکستان سے نفرت اور پاکستان سے محبت کرنے والوں سے انتقام کی آگ اگر ٹھنڈی نہیں ہو رہی تو اسے چاہیے کہ وہ ان بنگالی رہنماؤں کی جنہوں نے برصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے لئے الگ مملکت کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی جدوجہد میں عملاً حصہ لیا اور اس کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دیں ان کواپنی نفرت کا نشانہ بنائیں، ان کی قبروں سے ان کی ہڈیاں نکال کر انہیں تختۂ دار پر لٹکائیں کہ انہوں نے پاکستان کا نام کیوں لیا تھا۔ اس سے شاید شیخ حسینہ واجد کی انتقام کی آگ ٹھنڈی ہو جائے۔


ای پیپر