آئینہ
31 مارچ 2018

ڈھول کی تھاپ نے اپنی جانب متوجہ کیا۔ ہم بوجھل قدموں کے ساتھ اس جانب چل پڑے، رنگ برنگے پرچموں اور جھنڈیوں کے جھرمٹ میں دھمال کا عمل جاری تھا۔ قرائن بتاتے تھے کہ یہ کسی عرس کی تقریب منعقد ہورہی ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد دوست نے خواہش ظاہر کی اس مزار کے متولی سے شرف ملاقات حاصل کرلیا جائے۔ سنا ہے کہ بعض بزرگ بڑی حکیمانہ گفتگو کرتے اور اندر کی باتیں بھی بتاتے ہیں۔ ہم نے بھی ملاقات پر رضا مندی ظاہر کردی۔
مزار کے احاطہ کے ایک کونے میں ایک بڑا برآمدہ تھا۔ اس کے ساتھ ملحقہ کمرہ میں متولی آرام فرمارہے تھے۔ ایک پرنور چہرہ ہمارے سامنے تھا وہ کمرے میں تنہا تھے جبکہ زائرین لنگر کھانے اور تقسیم کرنے میں مصروف تھے۔ بڑے تپاک سے انہوں نے ہمیں اپنے پہلو میں بٹھایا۔ روایتی گفتگو کے بعد ہم نے خواہش ظاہر کی کہ کوئی نصیحت ہی فرمادیں جو زندگی میں کام آئے زیر لب مسکرانے کے بعد کچھ توقف کیا اور سوالیہ انداز سے پوچھا کہ آدمی اور انسان میں کیا فرق ہے ؟ ہم نے بلا توقف جواب دا غ دیا کہ بظاہر ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ وہ پھر زیر لب مسکرائے اور دوبارہ سوال دہرایا کہ آدمی اور انسان اگر ایک ہی سکہ کے دورُخ ہیں تو تم کس طرح ان سے تفریق کرو گے۔ ایک اکٹھ اور ہجوم میں اگر تمہیں آدمی اور انسان الگ الگ کرنے پڑیں تو کیا معیار رکھو گے۔ پیشتر اس کے ہم اظہار خیال کرتے انہوں نے ہماری سوچ کے سکوت کو توڑا اور گویا ہوئے کہ آدمی ایک مادی وجود ہے اور انسان اخلاقی۔
آدمی کو انسان بننے کیلئے لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔ بنیاد ی طور پر ہر بچہ اپنی فطرت میں انسان ہی پیدا ہوتا ہے۔ اب اس کا اختیار ہے کہ وہ آدمی بن جائے یا پھر انسان کی حیثیت کو برقرار رکھے۔انداز گفتگو بتارہا تھاکہ بابا جی صوفیانہ اور حکیمانہ انداز میں بات کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہیں اور ان کا سفر اس نصیحت کی طرف ہے جس کے کرنے کی ہم نے خواہش ظاہر کی تھی۔
آدمی اور انسان کی پہچان اس کے رویہ، عادات، اخلاق اور اطوار سے ہی ممکن ہے۔ یہ سب کچھ ایسے ہی زندگی میں شامل نہیں ہوجاتا اس کیلئے بڑی ریاضت درکار ہے۔ زندگی میں ہزاروں ایسے مواقع ملتے ہیں کہ کبھی کبھار انسان سے آدمی ہوجانے کو دل چاہتا ہے اور بعض مناظر کو دیکھ کر آدمی سے انسان ہونے کیلئے دل بے تاب ہوتا ہے۔ یہ دل کی کیفیت ہے جس میں روحانیت کا ڈیرہ ہے۔ یہ جتنی پختہ ہوتی جائیگی۔
آدمی سے انسان بننے کا سفر اتنا ہی آسان ہوگا۔ لیکن یہ سفر بڑا کٹھن ہے۔ جس پگڈنڈی پر سفر درپیش ہوتا ہے وہ کتابی راستہ ہے۔ یہ کتاب ہی دل پے اثر رکھتی ہے۔ جس دن یہ دل میں اتر جائے گی اسی دن آپ شیطان کے دل سے اتر جائیں گے۔تو آپ آدمی سے انسان کے مرتبہ پر فائز ہوجائیں گے۔ بابا جی نے کمرہ میں موجود دو صفوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فرض کرتے ہیں کہ پچھلی صف پہ سارے آدمی کھڑے ہیں اور اگلی انسانوں کیلئے خالی پڑی ہے، بھری ہوئی صف میں سماج کے تمام طبقات کی نمائندگی ہے۔ اس میں حکمران،سیاستدان ، سپہ سالار، افسر شاہی، قانون دان، پروفیسر ، استاد، کسان، مزدور، تاجر اور مل مالکان شامل ہیں۔یہ سب کے سب آدمی کی شناخت رکھتے ہیں۔ ان تمام کو اگلی صف میں جو انسانوں کیلئے بچھائی گئی ہے کھڑا ہونے کیلئے ایک طویل سفر کرنا پڑے گا بظاہر دونوں صفوں کے مابین فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
بابا جی کی فلسفیانہ گفتگو میں اب مزید دلچسپی پیدا ہورہی تھی۔ وہ برابر بولتے جارہے تھے اور ہم سن رہے تھے فرمانے لگے جس کتاب کا میں نے ذکر کیا ہے وہ الہامی اور آخری کتاب ہے، جو کوئی اس سے راہنمائی لے کر اس پر اسی طرح عمل پیرا ہو جس طرح آخری نبی الزماںؐ تھے تو آدمی سے انسان بننے کی جانب سفر کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ اب اس کی زندگی بتائے کہ اس نے آدمی سے انسان بننے تک کتنی ریاضت کی ہے۔
بابا جی نے ہمارے محو چہروں پے نگا ہ ڈالی اور بولے آپ کو سادہ انداز میں بتانے کی جسارت کرتا ہوں جو عالم آدم کو اپنی طرف بلائے اور اپنے مفادات کیلئے اللہ کے احکام کو اپنی طرف پھیرے ،جو حکمران اپنی آسائش کی خاطر رعایا پر ظالمانہ ٹیکس عائد کرے اپنی عیاشی کو کم نہ کرے ، جو سیاستدان جھوٹ پر جھوٹ بولے اور سیاست کو عبادت کی بجائے کاروبار بنادے ، جو سپہ سالار اپنی زمین کی حفاظت میں غفلت کا مرتکب ہو ، جو ڈاکٹر مریضوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی تجوریوں کو بھرتا رہے ،جو تاجر سرکار کے ٹیکس چوری کرتا رہے ذخیرہ اندوزی کرے، ناجائز منافع کمائے اور مال اس نیت سے روکے تاکہ دام بڑھ جائیں۔جو سرکاری افسر رعایا کے لئے مشکلات پیدا کرے تاکہ رشوت کا بازار گرم رہے ، جو پروفیسر استاد تعلیم جیسے مقدس پیشے کو کاروبار بنا کے رکھ دے ، جو قانون دان انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کر کے اپنے موکل کی بے چارگی کا ناجائز فائدہ اٹھائے ، جو امام اپنی روزی کی خاطر امت کو تفرقوں میں منقسم کردے تاکہ اتحاد پار ہ پارہ ہوجائے ، جو خبر نگار سنسنی پھیلائے تاکہ اس کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔جو متولی مزار پے خرافات کو خود فروغ دے اور مافوق الفطرت باتوں کے ذریعے لوگوں کو اپنا پیروکار بنائے ، جو عامل علم غیب کا دعوٰی کرے اور اس علمیت کے دعویٰ پے عوام الناس کو دھوکہ دے ، جو مزدور اجرت تو پوری لے لیکن کام میں ڈنڈی مارے ،جوکسان ، زمیندار سرکار کی زمین پر ناحق قابض رہے، حق داروں کی حق تلفی کرے، اپنی جاگیر سے کسی کو فائدہ حاصل نہ کرنے دے ۔ہم نے اشارتاً مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آدمی اور انسان کی تفریق میں عورت کو کہاں دیکھتے ہیں۔ جاری و ساری گفتگو میں فرمانے لگے جو اپنے شوہر کی عزت ناموس کی حفاظت نہ کرے، بچوں کی تربیت اس انداز میں نہ کرے جیسا کہ حکم ہے تو وہ بھی مذکورہ افراد کی طرح آدمیوں کی صف میں شمار کی جائے گی۔ بابا جی ہمیں تاریخ کے عہد میں لے گئے، گویا ہوئے ابوجہل آدمی تھا آدمی ہی مرا، اسے انسان ہونا نصیب نہ ہوا۔ وہ کتاب سے فیض یاب نہ ہوسکا اور بلالؓ جسے سماج انسان تو کیا آدمی کی صف میں بھی شامل نہیں کرتا تھا جب اس نے قران و سیرت سے فیض حاصل کیا تو اس کے قدموں کی آہٹ آسمانوں پے سنی گئی۔ لیکن قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود ابولہب کی بیوی انسانوں کی صف میں شامل نہ ہوسکی۔
آ دمی سے انسان بننے میں رشتے نہیں روحانی، قلبی تعلق اور کردار اہم ہوتا ہے۔ اس لئے آخری نبی الزماں ؐ کو محسن آدمیت نہیں محسن انسانیت کہا گیا ہے۔ اتنے میں مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی ہم نے بابا جی سے رخصت چاہی، چلتے چلتے پوچھا کہ ہم خود اپنی شناخت آدمی اور انسان کے طور پے کیسے کرسکتے ہیں۔ بابا جی نے کہا ہر آدمی کے اندر اس رب نے آئینہ نصب کر ر کھا ہے جسے ضمیر کہتے ہیں اگر یہ تمہیں انسانیت کی بھلائی پر ہی ہمیشہ آمادہ کرتا ہے تو پھر سمجھ لو تیرا شمار انسانوں میں ہے۔


ای پیپر