بقائے حیات’’پانی‘‘خطرے میں
31 مارچ 2018

کائنات پرقدرت کی انمول ترین نعمت’’ پانی ‘‘ ہے ۔ پانی زندگی ہے اس با ت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ خود حضرت انسان کی تخلیق مٹی اور پا نی سے ہوئی ہے۔ کرۂ ارض پرہوا کے بعد زندگی پانی سے مشروط ہے۔ اسی لیے قدرت کے کا رخانے میں ہوا اور پانی وافر مقدار میں پائے جا تے ہیں۔ لیکن جس طرح ہوا میں آکسیجن زندگی کے لیے نا گزیر ہے اسی طرح کرۂ ارض پر مو جو د پانی میں سے ’’میٹھا پانی ‘‘ زندگی اور بطور خاص انسانی زندگی کے لیے لازمی جز و ہے۔کرۂ ارض تین چو تھائی حصہ خشکی اور ایک حصہ پانی پر مشتمل ہے ۔ عا لمی اداروں کے ما ہرین کے مطابق کرۂ ارض پر97.5 فیصد سمندری پا نی ہے ،جبکہ ’’زندگی‘‘ کی بقاء کے لیے در کار صاف اور میٹھا پانی اس کا مجموعی طور پر صرف تین فیصد ہوتا ہے۔ جس میں سے صرف ایک فیصد دریاؤں، جھیلوں، کنووں، چشموں اور آبشاروں کی صورت میں دستیاب ہے ۔باقی دو فیصد حصہ برف اور بڑے گلیشیئرز پر مشتمل ہے جس کا حصول مو سم میں تغیرات کا متقاضی ہے اور پانی کے حوالے سے یہ صورتحال تمام انسانوں کے لیے بلا تفریق رنگ و نسل لمحہ فکریہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق2 ارب افراد آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں،جبکہ 783 ملین کو پانی ہی میسر نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دنیا پر بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ اور صنعتی ممالک کی جا نب سے قوانین فطرت کی خلاف ورزیوں سے بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے جہاں اس وقت کرۂ ارض کو شدید مو سمی تغیرات و ماحولیاتی تبدیلیوں کا سا منا ہے۔ وہیں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت ’’گلوبل وارمنگ‘‘ کی وجہ سے مختلف النوع مسائل جنم لے رہے ہیں۔ جیسے دنیا کے کئی خطوں میں مسلسل با رشیں ہوتی ہیں اورکہیں مسلسل برف کے طوفان آتے رہتے ہیں اورکہیں بارشیں بالکل نہیں ہو رہیں۔جس کے بعد زمین پر پانی کا بحران شدت اختیارکرتا نظر آتا ہے۔
پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے ،جہاں پانی کا بحران بڑی تیزی سے سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔عالمی ماہرین نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی ہے۔ بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیمز میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق پانی کے حالیہ بحران سے گندم کے پیداواری ہدف کا حصول بھی مشکل ہوجائے گا۔ اسی وجہ سے پنجاب کو پانی کی فراہمی میں 60 فیصد جبکہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں 70 فیصد شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر میں پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ مستقبل میں خطرے کا اعلان کر رہا ہے۔ آبی ماہرین کہتے ہیں دریاؤں، زیرزمین پانی ، بارش کے پانی اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے تاکہ کم ہوتے پانی کے وسائل کا درست استعمال ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک بنتا جارہا ہے تاہم سٹیک ہولڈرز اور بالخصوص پالیسی سازوں میں اس بڑھتے ہوئے خطرے کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ سماجی اور معاشی شعبوں میں اس کے متوقع بدترین اثرات دیکھنے سے بھی قاصر ہیں۔متعلقہ اداروں کی مجرمانہ خاموشی بھی اس مسئلے کی سنگینی کا سبب ہے۔
غیرملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آبی ماہرین کہتے ہیں پاکستان میں پانی کی قلت سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے سبب ملکی سکیورٹی، استحکام اور ماحولیاتی پائیداری خطرے کا شکار ہے۔ حال ہی میں واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا، پاکستان دنیا کے آبی وسائل کی شدید قلت کے شکار 15 ممالک میں شامل ہے ۔ پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا نمبر ہے جبکہ پاکستان کی پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی کم ہے۔پاکستان میں صحرائے تھر اس وقت پانی کی قلت کی وجہ سے ہی قحط کا شکار ہے ، ایک صحرا کی گرمی اوپر سے پانی کی قلت ، انسان اور جانور دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں اس حوالے سے اپنا مو ثر کردار ادا کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔ اگر نظر اندازی کی یہی صورت حال رہی تو وہ دن دور نہیں ، جب پاکستان میں پانی کی قلت بارے کی گئی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوں گی۔پاکستان زرعی ملک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد کھیتوں میں پانی بذریعہ ٹیوب ویل،موٹر یا پمپوں کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق کسی بھی ملک کی مجموعی پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کم ازکم 120 دنوں کا پانی ذخیرہ ہوناچاہیے لیکن پاکستان کے پاس صرف 30 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے،جبکہ آنے والے دنوں میں اس صلاحیت میں بھی کمی متوقع ہے۔ جس سے خوراک کی کمی جیسے مسائل بھی سامنے آئیں گے۔ اس وقت صحرائے تھر کی صورت حال ہمارے سامنے ہے ،اور ملک کے بیشتر علاقوں میں لوگ پانی خرید کراپنی ضروریات زندگی پوری کر رہے ہیں۔ملک کی 84 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔ چھ کروڑ افراد زہر آلود پانی پینے پر مجبور ہیں اورآلودہ پانی سے پیداہونے والی بیماریوں کا شکار ہو کر مر رہے ہیں۔ہماری کوئی بھی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ صرف اپنے اقتدار کے تحفظ کی پالیسی ہی سب کا مطمح نظر رہی۔ اسی لیے بھارتی پالیسی ساز ڈیم بنانے پر فوکس رہے اور ہمارے حکمران اور پالیسی ساز ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ عوام کو فول بنانے پر۔
دوسری جانب ڈیم کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،ڈیم پانی محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے ۔بد قسمتی سے وطن عزیز میں ڈیموں کی صورت حال بھی تسلی بخش نہیں۔کوئی بڑا ڈیم ملک میں موجود نہیں، قدرت کی جانب سے مون سون کی صورت میں پانی کی فراہمی کا سنہری موقع ہم اپنے ہاتھوں سے گنوا دیتے ہیں ۔ ہر سال کئی ملین کیوسک پانی پنجاب اور سندھ میں تباہی مچاتا ہوا سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔ ملک میں اس وقت چھوٹے بڑے آبی ذخائر کی تعداد ڈیڑھ سو سے بھی کم ہے۔ اپنے تمام تر سیاسی مفادات اور اختلافات کوایک طرف رکھ کر حکومت کو ڈیم سازی پر کوئی واضح پالیسی بنانی چاہیے ۔ کالا باغ ڈیم اہم ترین ضرورت ہے ، مگر علاقائی سیاست کی نذر ہے۔اس لیے پالیسی ساز کچھ دوسرے ڈیموں پر فوکس کریں، کہیں اور کالا باغ ڈیم کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کو مکمل بنجر ہونے سے بچانے کے لیے حکومتی، سیاسی ، قلمی اور صحافتی سطح پرمل کر عوام میں پانی کی اہمیت کا شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، یہ کام مسلسل تسلسل سے ہونا چاہیے ۔
جس طرح حکومت گھر گھر پولیو اور ڈینگی سے آگاہی دینے کے لیے ٹیمیں بھیجتی ہے اسی طرح ، عوام میں پانی کی اہمیت اور مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے آگاہی کے لیے بھی ٹیمیں بنائے ،اس سے پانی کا ضیاع روکنے میں مدد مل سکتی ہے اور لوگوں میں شعور بیدار ہو سکتا ہے۔


ای پیپر