آگے اندھیرا نہیں اجالا ہے!
31 مارچ 2018

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کے رفقاء نے کہا ہے کہ اگر کوئی این آر او ہوا تو وہ سڑکوں پر ہوں گے۔۔۔؟ اس حوالے سے مقتدر حلقے واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ این آر او سے ان کا کوئی تعلق نہیں اب آئین اور قانون کی حکمرانی ہو گی۔۔۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کا یہ خدشہ ظاہر کرنا عجیب معلوم ہوتا ہے ۔۔۔؟
ہو سکتا ہے اس کے پاس کوئی اندر کی خبر ہو یا پھر حکمرانوں پر ہولا ہتھ رکھنے پر انہوں نے یہ خیال کر لیا ہو کہ این آر او ہونے جا رہا ہے ۔۔۔؟
میری ناقص عقل کے مطابق کوئی این آر او نہیں ہو گا کیونکہ ذمہ داروں کو تنقید کا نشانہ بننا پڑے گا کہ وہ ایک طرف پورے زور شور کے ساتھ آئین و قانون کی بات کر رہے تھے مگر دوسری جانب پیار کی پینگیں بھی چڑھا رہے تھے یعنی عوام کو جہاں بدعنوانی کے خلاف ذہنی و جسمانی طور سے تیار کر رہے تھے تو وہاں اس سے درگزر کرنے کا بھی عندیہ دے رہے تھے۔۔۔ لہٰذا یہ ناممکنات میں سے ہے پی ٹی ٹی آئی ہو یا دوسری سیاسی جماعتیں ان میں موجود کارکنان بدعنوانی سے نفرت کرتے ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے اہل اختیار کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب تک یہ عفریت سر عام دندناتا پھرے گا تو ملکی ترقی اور سماجی اقدار بے حال رہیں گی لہٰذا ضروری ہے کہ یہ جو بدعنوانی سے نجات کی مہم قانون کے مطابق جاری کی گئی ہے اپنے انجام کو پہنچے۔۔۔ اور اگر جیسا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اگر این آر او ہوا تو وہ سڑکوں پر ہوں گے تو صرف انہیں ہی نہیں غالب اکثریت کو بھی صدمہ پہنچے گا پھر اسے کسی پر بھی یقین نہیں رہے گا۔ ایسی صورت میں جب عوام اپنی سیاسی و غیر سیاسی قیادتوں سے مایوس ہو جاتے ہیں تو ریاست کا نظام اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتا۔۔۔ اور اب جب ہمیں چاروں طرف سے خطرات نے گھیر رکھا ہے عالمی قوتیں ہماری خارجہ پالیسی اور اقتصادی منصوبہ بندی پر ’’پریشان‘‘ ہیں تو کیا ہمارے منصوبہ ساز اور ذمہ داران چاہیں گے کہ عوام ان سے لاتعلق ہو جائیں۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق ہی تمام فیصلے ہوں گے چاہے کوئی ناراض ہو یا خوش۔ کسی کو اس سے نقصان پہنچے یا فائدہ۔۔۔ مگر قانون کی بالادستی کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے گا۔۔۔ لہٰذا پی ٹی آئی کے خدشات درست معلوم نہیں ہوتے ان کے بھی جو اپنی تحریروں تقریروں اور مباحثوں میں ان کا اظہار کر رہے ہیں۔۔۔؟
انور موقع پرست نے اپنے تئیں ایک بڑا انکشاف کیا ہے کہ این آر او کا شوشہ حکمرانوں کی طر ف سے چھوڑا گیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ ان کا ساتھ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں وہ واپس آ جائیں جنہیں جانا ہے وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں، پھر ان کے کارکنوں میں جو مایوسی کی لہر ابھر آئی ہے وہ بیٹھ جائے۔۔۔؟
ویسے انور موقع پرست کی بات کچھ کچھ دل کو لگتی ہے ۔۔۔ مسلم لیگ (ن) آسانی سے ہار ماننے والی نہیں وہ اپنی بقا کے لیے ہر حربہ ہر طریقہ اختیار کرے گی لہٰذا عین ممکن ہے اس نے اپنے ہمنواؤں کے ذریعے صورت حال کو مبہم بنانے کے لیے یہ چال چلی ہو۔۔۔؟
بہرحال پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو اب نظر انداز نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اس نظام کی تبدیلی کے حق میں ہیں جو ملک کی معیشت کو تباہ اور سماج کی اجتماعی سوچ کو منتشر کررہا ہے اور اگر دونوں آخری حد کو چھو لیتے ہیں تو پھر ان چراغوں کی روشنی مدھم پڑ جائے گی لہٰذا نہیں کہا جا سکتا کہ عوامی آرزوؤں کو پس پشت ڈالا جائے گا۔۔۔ عمران خان کو یہ یقین کر لینا چاہیے اور کسی این آر او کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں اگر وہ یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ کچھ ہونے والا ہے تو شروع میں بھی میں عرض کر چکا ہوں تو انہیں یہ بھی لکھ رکھنا چاہیے کہ اگر کچھ ہوتا ہے تو وہ بے بسی سے اسے دیکھتے رہ جائیں گے۔۔۔ رہی یہ بات کہ وہ سڑکوں پر ہوں گے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ دو ہزار چودہ سے سڑکوں پر ہیں تاریخ کا طویل ترین دھرنا دے چکے ہیں۔ بڑے بڑے جلسے کر چکے ہیں اور جلوس ریلیاں نکال چکے ہیں مگر اس سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا الٹا نقصان ہوا۔۔۔ کہ ان کے کارکنوں میں بد دلی پھیل گئی، جو لوگ پی پی پی چھوڑ کر ان کے ساتھ آملے تھے وہ الگ ہو گئے۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ پچھلے ضمنی انتخابات میں وہ ایسی نشستیں بھی گنوا بیٹھے جوان کے زیر اثر تھیں۔ لہٰذا سڑکیں سیاسی نہیں رہیں غیر سیاسی ہو گئی ہیں، جلسے بھی متاثر کن نہیں رہے، کوئی بھی ان سے اثر نہیں لیتا ہاں البتہ مظاہرے ضرور اہل اختیار پر اثر انداز ہوتے ہیں جو وہ نہیں کر سکتے۔۔۔ کیونکہ ان کی سیاست ’’یوٹرنی سیاست‘‘ کے نام سے پہچان رکھتی ہے اور آج کا کارکن اور ووٹر ایسی سیاست کو خیر باد کر چکا ہے وہ ابہام سے مبرا سیاست کاری کا طلبگار ہے ۔ اس سے مراد میری یہ ہے کہ وہ باشعور ہے ، نئے دور کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرنے کا خواہاں ہے ۔ لہٰذا اسے روایتی طرز سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں رہی، پھر وہ مظاہرے کیوں کرے گا۔ خان صاحب کو چاہیے کہ وہ ایسا نعرہ لگائیں جو قابل عمل ہو اور کسی کو متاثر کرنے کی پوزیشن میں ہو۔۔۔ وہ فقط یہ کریں کہ لوگوں کو حالات حاضرہ سے متعلق بتائیں ان کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے ان کی تربیت کریں۔۔۔ یہ کوئی نعرہ نہیں کہ وہ دما دم مست قلندر کریں گے۔۔۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو کب اس کے لیے تیار کیا ہے ، کب ان کی حیثیت کو تسلیم کرنے کا ببانگ دہل اعلان کیا ہے کہ وہ ان کی ایک آواز پر احتجاج کی شاہراہ پر آ نکلیں گے پھر لاٹھیاں اور آنسو گیسوں کا سامنا کریں گے۔ لہٰذا عرض ہے تو اتنی کہ وہ پہلے یہ دیکھیں کہ ایسا کچھ ہو بھی رہا ہے یا نہیں ۔۔۔؟ محض افواہ کو بنیاد بنا کر ایک اعلان کر دینا دانائی بالکل نہیں ۔۔۔ اگرچہ ملک عزیز کی سیاست میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہونے کا امکان رہا ہے ۔۔۔ مگر اب حالات وہ نہیں رہے۔۔۔ خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی بدل گئے ہیں ہر لحاظ سے۔۔۔ لہٰذا انہیں کسی محنت مشقت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔ پڑنی بھی نہیں چاہیے ۔۔۔ کیونکہ عدالتیں اور ادارے اپنا کام پوری ذمہ داری کے ساتھ کرنے لگے ہیں بالخصوص عدالتیں (اعلیٰ) کسی امتیاز کے بغیر قانونی اور آئینی فیصلے کرنے جا رہی ہیں لہٰذا جب وہ ۔۔۔ اپنی حکمت عملی کے تحت کوئی فیصلہ کرتی ہیں یا قدم اٹھاتی ہیں تو اس پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ اسے فوراً این آر او نہیں سمجھ لینا چاہیے۔۔۔ چند روز پہلے ہونے والی وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کی ملاقات کو بھی این آر او قرار دے دیا گیا جبکہ دن دہاڑے ایسے کسی واقعے کا رونما ہونا ممکن ہی نہیں ۔۔۔ طویل شعوری سفر کے بعد لوگوں کو کہنا کہ جاؤ کھیل ختم ہوا اسے ذہن تسلیم نہیں کرتا۔۔۔!
حرف آخر یہ کہ باز پرس کا عمل آگے بڑھے گا، خطا کاروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔۔۔ حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار ہو گی، بنیادی حقوق کے لیے قانون کی حرکت ہر آنکھ دیکھے گی کیونکہ اس کے بغیر دوسرا کوئی راستہ نہیں گلوں سے آشنائی کا۔۔۔ جن کی خوشبو اس تعفن زدہ نظام میں لازمی ہو چکی ہے لہٰذا آ گے اندھیرا نہیں اجالا ہے !


ای پیپر