سرخیاں ان کی۔۔۔؟
31 مارچ 2018

* پاکستان جیت گیا۔
o اگرچہ کراچی میں پی ایس ایل کے فائنل میں اسلام آباد یونائٹڈ لیوک رونچی "Luke Ronchi" اور آصف علی کی بے مثال بیٹنگ کی بدولت پشاور زلمی کو ہرا کر تیسرے ایڈیشن کی چیمپئن بن گئی ہے۔ مگر دنیا نے دیکھا کہ پورا ملک کس طرح پی ایس ایل کے رنگ میں رنگ گیا۔ یوں دہشت گردی کو شکست اور ریاست پاکستان کی فتح ہوئی۔ یہ تاریخی فتح جس میں نہ صرف کراچی بلکہ پورا پاکستان دنیا کو پر امن دکھائی دے رہا ہے اور دنیائے کرکٹ کی دیگر ٹیموں کے لیے بھی بند دروازہ کھل گیا ہے۔ پوری قوم نے بھی سجدہ شکر ادا کیا۔ اس عظیم کامیابی پر نہ صرف حکومت، پاک فوج، تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں، پاکستانی پولیس، رینجرز دیگر اداروں اور جناب نجم سیٹھی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ بلکہ ہر ایک پاکستانی کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور سلام عقیدت پیش ہے۔ اور امید ہے کہ اب پاکستان نہ صرف اقوام عالم کی پر امن قوموں کی صف میں کھڑا ہو گا بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑے گا اور یونہی جھوم جھوم کر فتوحات سمیٹے گا۔ ان شاء اللہ!
کبھی سوچا نہ تھا کہ اس طرح دنیا بدلتی ہے
جو پہلے ڈھونڈتے پھرتے تھے اب وہ چھپتے پھرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* نہال ہاشمی کی جگہ ہوتا تو مر چکا ہوتا۔ چیف جسٹس
o چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے تو ہین عدالت از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر نہال ہاشمی کی جگہ میں ہوتا تو اب تک شرم سے مر گیا ہوتا۔ ویسے آپس کی بات ہے۔ ’’بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو‘‘ کے مصداق یہ معذور بھی ہیں اور مجبور بھی لہٰذا یہ تو نہال ہاشمی ہیں۔ آپ ان کے وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی کو ہی دیکھ لیجیے اور اندازہ کر لیجیے کہ موصوف چیئرمین سینیٹ جناب صادق سنجرانی کے متعلق کیا فرما رہے ہیں۔ یعنی جس شخص کو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور PPP نے باقاعدہ ووٹ دے کر منتخب کیا ہے وہ متنازع ہے اور جسے عدالت عالیہ نے نا اہل قرار دے دیا ہے وہ اس کا راگ الاپ رہے ہیں کہ میں وزیراعظم نہیں بلکہ وہ وزیراعظم ہیں؟ اسی لیے تو میں گزشتہ دو عشروں سے لکھتے لکھتے تھک گیا ہوں کہ اگر سیاستدان ڈلیور کریں تو خدا گوا ہ ہے کہ یہاں کبھی فوجی مارشل لاء لگے نہ جوڈیشل مارشل لاء مگر افسوس یہ ہے کہ جب یہ ہی کچھ نہ کریں، اور ہماری عدالتیں بھی سوموٹو نوٹس نہ لیں تو عوام بے چارے کیا کریں۔ مسائل کے مارے عوام، ان طاقتور، استحصالی طبقات اور با اثر شخصیات کا مقابلہ کیسے کریں یا جیتے جی زہر کھا کر کیسے مر جائیں کیونکہ اگر عدالتیں بھی ان کی طرح بے حس ہو جائیں تو عوام کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے۔ ان کے زندہ رہنے کی تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ جبکہ کون نہیں جانتا کہ ہمارے معزز اراکین پارلیمان، پارلیمنٹ میں عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے صرف اپنے فنڈز لینے اور کھانے پینے کے لیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ایک نہال ہاشمی تو کیا پوری قوم ایسے ہی افراد کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ جن میں نہ شرم ہے نہ حیا ہے نہ غیرت ہے نہ اخلاقیات ہے نہ ملک و قوم کا درد ہے۔ شاید اسی لیے کسی شاعر نے کہا تھا:
نہ انجن کی خوبی نہ کمال ڈرائیور
چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* نیب کو چیلنج ہے خیبر پختونخوا میں کسی کو پکڑنا ہے تو پکڑے۔ عمران خان
o کوئی شک نہیں کہ ذلت اور عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہر شخص کے نزدیک عزت اور ذلت کے معیار اور پیمانے مختلف ہوتے ہیں۔ کئی سیاستدانوں کو تو یہ بھی کہتے سنا گیا ہے کہ عزت کیا ہوتی ہے۔ یہ آنی جانی چیز ہے اصل چیز کرسی یا طاقت ہوتی ہے۔ بہرحال کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ خیبرپختونخوا میں دودھ کی نہریں بہنے لگی ہیں بلکہ میری رائے میں تو جناب پرویز خٹک وہ نہیں کر پائے جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ اسی لیے آج بھی بہت سی خرابیاں صوبہ میں موجود ہیں۔ یہ کیسے پیدا ہوئیں کیسے دور ہوں گی اس کی ایک تاریخ بھی ہے اور یہ ایک الگ بحث بھی ہے۔ چند خوبیاں بھی ہیں جو جناب پرویز خٹک کی انتھک محنت کی بدولت دکھائی دے رہی ہیں۔ بے حد ضرورت تھی کہ عوام کے بنیادی نوعیت کے ایشوز پر حکومت توجہ مرکوز کرتی تاکہ دیر پا تبدیلیاں جنم لیتیں
اور عوام کو بھی کچھ ریلیف ملتا۔ جناب عمران خان کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ انہوں نے بھی وہ توجہ جو ملک میں جاری کرپشن کے خلاف مرکوز رکھی پختونخوا کے عوام کو نہ دی جبکہ انہیں ان کی غیر معمولی دلچسپی کی ضرورت تھی۔ میں اسے ان کی مجرمانہ غفلت قرار دیتا ہوں۔ بلکہ میں تو جناب جسٹس ثاقب نثار سے بھی بصد احترام اپیل کرتا ہوں کہ وہ پنجاب سندھ کراچی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا پر بھی تھوڑی سی توجہ فرمائیں تا کہ وہاں کے عوام بھی آپ کی دانش و حکمت بلکہ انصاف پسندی سے فیضاب ہو سکیں۔ اس کے ساتھ جناب عمران خان جو آج قوم کی نئی امید ہیں۔ اور جنہیں یقیناًبے شمار "Challanges" کا سامنا ہے لیکن ان کی زندگی بلکہ سیاسی زندگی کی خوبصورتی اس میں ہے کہ وہ نہ صرف ان ’’چیلنجز‘‘ کو قبول کریں بلکہ ان کے حل کے لیے بھی اپنی بہترین ٹیم کو عملی میدان میں آگے لائیں تا کہ ان کا سیاسی سفر قوم کے لیے مفید بن سکے اور وہ قوم کے حقیقی ہیرو کہلا سکیں۔


ای پیپر