ادھوری پالیسی
31 مارچ 2018

ادھوری پالیسی اور آدھا سچ بڑھاپے کے پورے عشق سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے ۔مکمل سچ البتہ یہ ہے کہ مملکت خداداد میں عموماً آدھی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جبکہ باقی آدھی پالیسی نہ تو تیار کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں سوچا جاتا ہے ۔ سیاست دان جانتے ہیں کہ اگلی حکومت ان کے مخالفوں کی ہو گی اور بیوروکریسی کو علم ہوتا ہے کہ کڑوی فصل کاٹنے کا وقت آئے گا تو وہ ریٹائر ہو چکے ہوں گے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان میں افغانستان سے زیادہ لوگ شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ ہم جس جنگ میں فرنٹ مین کا کردار ادا کرتے رہے اس میں ہمیں کرایہ کے سپاہی سے زیادہ اہمیت نہ دی گئی ۔ دہشت کی منڈی سے ہم نے خوشی خوشی نفرتوں کے جوکوئلے خریدے تھے آج انہی کی وجہ سے ہمارا دامن خاکستر ہوا ہے ۔اس کہانی کا ہیرو وہی تھا جس کا فسانے میں کہیں ذکر ہی نہیں ملتا لیکن جب ناول لکھا گیا تواس کے سرورق پر اسی کا نام تھا ۔ ڈالر کے ساتھ مذہب کے بیانیہ کو جوڑ کر جو کھیل کھیلا گیا اس نے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچایا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جو شریک جرم رہے اب مخبری بھی نہیں کر سکتے ۔
ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اپنی تفریح ختم کر دی ہے۔ اس جنگ نے ہمارے پارک ویران کر دیئے اور ہمارے چوراہوں پر نادیدہ خوف کے بادلوں کا سایہ کر دیا۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ، ہمارے سبھی صوبوں میں روایتی کھیل اور میلے ٹھیلے سجتے تھے لیکن کھیلوں کے میدانوں سے لے کر درگاہوں تک ہونے والے بم دھماکوں نے بہت کچھ ختم کر دیا۔ اب حالات قدرے سازگار ہیں لیکن ہمارے پالیسی ساز آج بھی ادھوری پالیسیاں بناتے چلے جا رہے ہیں ۔ منٹو یاد آتا ہے جس کا سپاہی ہر واردات کے بعد اس جگہ تعیناتی سے تنگ آ کر چلا اٹھتا ہے کہ ’’ مجھے وہاں کھڑا کیجئے جہاں نئی واردات ہونے والی ہے‘‘ لگتا ہے تب بھی ادھوری پالیسی ہی بنائی جاتی تھی۔ جنرل حمید گل مرحوم سے ایک بار اس درویش نے سوال کیا تھا کہ آپ نے افغان جنگ میں جن لوگوں کو بھیجا ان کی واپسی کا کوئی پلان کیوں نہ بنایا۔ وہ ’’جہادی‘‘ جو معمولی تنخواہ پر بارڈر فورس کی فرنٹ لائن بن سکتے تھے انہیں یکسر نظر انداز کر دینے کی جو پالیسی بوئی گئی اس کی فصل کرنل امام کوانہی کے ہاتھوں اغوا ہو کر کاٹنی پڑی۔ جنرل مرحوم نے اتفاق کیا ، وہ کہتے تھے کہ ان سے نہیں لیکن ریاست سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ ان’’ جہادیوں‘‘ کے لئے مستقبل کا کوئی پلان نہ بن سکا ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مسئلہ ختم نہیں کرتے بلکہ اس کی آڑ میں سبھی کچھ ختم کر دیتے ہیں ۔ ملک میں بم دھماکے ہوں تو پارکس بند کر کے جھولوں پر پابندی لگادیتے ہیں ۔اب پنجاب کے روایتی کھیلوں پر بھی وزیر اعلیٰ نے پابندی عائد کردی ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تاحیات نائب صدر برگیڈیئر مختار پاکستان میں جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کے حوالے سے فکر مند رہتے ہیں ۔ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ پرندوں یا جانوروں کا شکار از خود برا نہیں ہے بلکہ یہ ان کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے لیکن شرط یہ ہے کہ سرکاری پالیسی کے مطابق کنٹرولڈ شکار کیا جائے ، انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مارخور پاکستان کا قومی مگر نایاب جانور ہے ، اب یہ سرکاری پالیسی کے مطابق نگرانی میں شکار ہوتا ہے اور لاکھوں ڈالر میں ایک بوڑھا مارخور مارنے کی اجازت ملتی ہے ۔ اس شکار سے ملنے والی رقم اسی جانور کی بقا اور اس علاقے کے لوگوں کی ترقی کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ بریگیڈیئر صاحب حکومتی پالیسی سے ہٹ کر کئی پرندے بیک وقت مارنے کو درست نہیں سمجھتے کیونکہ ایسے شکار سے وہاں کے لوگوں اور پرندوں کی نسل کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ شکار ضرور کیجئے لیکن عالمی قوانین کے مطابق جتنے پرندے شکار کرنے کی اجازت ملے صرف اتنے ہی کریں اور ریاست کو اس کی پوری قیمت ادا کریں تاکہ اس پرندے یا جانور کی نسل بڑھانے پر وہ رقم خرچ ہو ۔یہی اصل کہانی ہے کہ ہم مسئلہ حل کرنے کی بجائے پوری لنکا کو آگ لگا دیتے ہیں۔ پنجاب میں گھڑ سواری سے لے کر شکار تک روایات کا حصہ ہے ، یہ مثبت کھیل ہیں ، لازم ہے کہ انہیں سرکاری پالیسی کے تحت نگرانی میں آگے بڑھایا جائے۔اس دھرتی پر کبوتروں کی اڑانوں ، مرغوں، کتوں اور بٹیروں کے مقابلے اور گھڑ دوڑ پاکستان بننے سے پہلے سے جاری ہے ۔ یہ روایات کا درجہ بھی پا چکے ہیں اور لوگوں کی مصروفیت کے بہترین بہانے بھی ہیں ۔ جانوروں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے یہ مقابلے ضروری ہوتے ہیں ۔ پوٹھوہار والوں سے پوچھیے کہ کتوں سے جنگلی خرگوش کا شکار ہی ان کتوں کی تیز رفتاری اور جھپٹنے کی طاقت کو زندہ رکھتا ہے ورنہ دودھ پر پالا گیا شیر بھی بکری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
ہمارے روایتی کھیلوں اور سستی تفریح پر دو طرح کے اعتراضات لگتے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ان کی آڑ میں جوا کھیلا جاتاہے دوسرا یہ کہ جانور زخمی ہو جاتے ہیں جو کہ ان پر ظلم ہے ۔ جہاں تک ظلم کی کہانی ہے تو گلیوں میں آوارہ کتے بھی ایک دوسرے پر جھپٹتے اور زخمی ہوتے ہیں ۔ دوسرا اعتراض جوئے کا ہے لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کرکٹ اور فٹ بال پر پوری دنیا میں اربوں روپے کا جوأ لگتا ہے لیکن اس وجہ سے ان پر پابندی نہیں لگائی گئی ۔ یہاں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ قوانین بنا کر جوأاور دیگر فضولیات کو ختم کیا جائے نہ کہ مکمل کھیل اور تہوار ہی ختم کر دیئے جائیں ۔ کبھی بسنت بھی خوب منائی جاتی تھی اور آتش بازی بھی ہوتی تھی ۔ اس وقت لوگ سڑکوں پر بھاگے پھرتے تھے اور کسی کی گردن نہیں کٹتی تھی ۔ اب ایک پتنگ بھی اڑے تو کسی نہ کسی کی گردن کٹ جاتی ہے ۔ کیا ہی اچھا ہوتا سرکار پتنگ بازی پر پابندی لگانے کی بجائے کیمیکل اور شیشہ ملا مانجھا لگانے پر پابندی لگاتی۔ ہمارے روایتی کھیلوں کے مقابلے عموماً میلوں ٹھیلوں کے دوران ہوتے ہیں اور کئی گاؤں انہیں دیکھنے آتے ہیں ۔ یہ سب ختم کر کے ہم روایتی میلوں اور سستی تفریح کے ذرائع بھی ختم کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ کبھی
شہروں میں موت کا کنواں اور سرکس لگنا معمول کی بات تھی لیکن اب نئی نسل میں سے اکثریت کو یہ علم ہی نہیں کہ موت کے کنویں میں دراصل کیا کھیل دکھایا جاتا تھا ۔غالبا گزشتہ برس لاہور میں فرزند سرکس لگا لیکن پہلے روز ہی ایک حادثہ کے بعد اسے لاہور سے نکال دیا گیا حالانکہ سرکس بند کرنے کی بجائے جرمانہ یا سزا دی جانی چاہئے تھی بالکل ویسے ہی جیسے ہرروز شاہراہوں پر کئی ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں لیکن اس کو بنیاد بنا کر گاڑیوں پر پابندی نہیں لگائی جاتی بلکہ ڈرائیور کا چالان ہوتا ہے۔ اب رمضان بازار کے نام پر پھلوں اور سبزیوں کی چند دکانوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا جبکہ کبھی رمضان بازار ایک مکمل فیسٹیول کا درجہ رکھتا تھا ۔ اب شہری بچوں کو یہ علم ہی نہیں کہ کبڈی اور پہلوانی کیا ہوتی ہے اور اکھاڑا کس بلا کا نام ہے حالانکہ اسی لاہور نے کئی بڑے پہلوانوں کو جنم دیا تھا۔ ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں جہاں بہت کچھ کھویا وہیں یہ پالیسی بھی حاصل کر لی کہ جہاں کوئی مسئلہ درپیش ہو وہاں مسئلہ کی جڑ کو ختم کرنے کی بجائے مکمل تہوار یا کھیل ہی ختم کر دیا جائے ۔ ہم ایسی سستی تفریح ختم کرکے اگلی نسل کو لاغر و کمزور تو بنا ہی رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں منفی سوچوں کا تحفہ بھی دے رہے ہیں ۔


ای پیپر