اے مین آف ایکشن، پیوٹن چوتھی بار روسی صدر منتخب
31 مارچ 2018 (20:51) 2018-03-31

ولادی میر پیوٹن گزشتہ دنوں ہونے والے روسی صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر روس کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ وہ 7اکتوبر1952ءکو سابق سوویت شہر لینن گراڈ (موجود سینٹ پیٹرز برگ) میں پیدا ہوئے۔ روسی سیاست دان اور 7 مئی 2012ءسے تاحال روس کے صدر ہیں۔ ان کے والد کا ایک فیکٹری میں بطور فورمین ملازمت کرتے تھے۔ انہوں نے اپنا بچپن ایک ایسے اپارٹمنٹ میں گزارا، جہاں تین کنبے رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے سن 1975 میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔پیوٹن اس سے پہلے بھی 2000ءسے 2008ءتک صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 1999ءسے 2000ءاور پھر 2008ءسے 2012ءتک روس کے وزیر اعظم رہے۔ پیوٹن متحدہ روس نامی روسی سیاسی جماعت کے پہلے چیئرمین تھے ۔ولادی میر پیوٹن سیاست دان،مفسرِ قانون،آپ بیتی نگاراورماہر معاشیات بھی ہیں۔اب ایک نظر پیوٹن کے سیاسی کیرئیر پر ڈالتے ہیں۔روس میں اٹھارہ مارچ کو منعقد ہونے والے صدارتی الیکشن میں اقتدار پر مکمل قابض ولادی میر پیوٹن ایک بار پھر کامیاب ہو چکے ہیں۔گزشتہ اٹھارہ برسوں سے برسراقتدار پیوٹن کی سیاسی زندگی کب اور کیسے شروع ہوئی؟ اس کے بارے میں ہم اپنے قارئین کو آگاہ کرتے ہیں۔


سیاست میں عملی قدم
جون سن 1991ءمیں پیوٹن نے ’کے جی بی‘ سے مستعفیٰ ہونے کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا۔ تب انہوں نے لینن گراڈ کے میئر اناطولی سابچک کے مشیر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ اس وقت پیوٹن کو سٹی ہال میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران وہ بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں نبھانے لگے۔


کریملن میں داخلہ
1997ءمیں سابق صدر بورس یلسن نے پیوٹن کو کریملن کا نائب چیف ایڈمنسٹریٹر بنا دیا۔ ایک سال بعد ہی پیوٹن فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ بنا دیے گئے جبکہ انیس سو ننانوے میں انہیں ’رشین سکیورٹی کونسل‘ کا سیکرٹری بنا دیا گیا۔ یہ وہ دور تھا، جب سوویت یونین کے ٹوٹنے کے نتیجے میں روس میں اقتصادی اور سماجی مسائل شدید ہوتے جا رہے تھے۔


بطور وزیر اعظم
9اگست 1999ءمیں ہی بورس یلسن نے پیوٹن کو وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ اسکینڈلز کی زد میں آئے یلسن اسی برس اکتیس دسمبر کو صدارت کے عہدے سے الگ ہوئے اور پیوٹن کو عبوری صدر بنا دیا گیا۔


پہلادورِ صدارت
26مارچ 2000ءکے صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پیو ٹن نے سات مئی کو بطور صدر حلف اٹھایا۔ تب کسی کو معلوم نہ تھا کہ پوٹن کا دور اقتدار نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ بن جائے گا۔ پیوٹن کے پہلے دور صدارت میں روس نے اقتصادی مسائل پر قابو پایا، جس کی وجہ سے پیوٹن کی عوامی مقولیت میں اضافہ ہوا۔


دوسری مدتِ صدارت
15 مارچ2004 ءکے صدارتی الیکشن میں آزاد اُمیدوار کے طور پر مہم چلاتے ہوئے پیوٹن نے دوسری مرتبہ بھی کامیابی حاصل کر لی۔ سات مئی کے دن انہوں نے دوسری مدت صدارت کے لیے حلف اٹھایا۔ تاہم پیوٹن کی طرف سے اقتدار پر قبضہ جمانے کی کوشش کے تناظر میں عوامی سطح پر ان کے خلاف ایک تحریک شروع ہونے لگی۔


اسرائیل کا دورہ
27اپریل 2007 ءمیں پیوٹن نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ یوں انہوں نے ایسے پہلے روسی رہنما ہونے کا اعزاز حاصل کیا، جس نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ اسی برس برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے دوران پیوٹن لندن حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون میں بہتری کا اعلان کیا۔


دوسری مدت وزیر اعظم
2مارچ 2008 ءکے صدارتی انتخابات میں پیوٹن بطور امیدوار میدان میں نہ اترے کیونکہ روسی آئین کے مطابق کوئی بھی شخص مسلسل دو سے زیادہ مرتبہ صدر نہیں بن سکتا۔ تاہم اس مرتبہ پیوٹن وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے۔ تب پوٹن کے انتہائی قریبی ساتھی دمتری میدودف کو روس کا صدر منتخب کیا گیا۔


تیسری مرتبہ صدر کا عہدہ
24ستمبر 2011 ءکو میدودف نے پیوٹن کو ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔ تب پیوٹن نے تجویز کیا کہ اگر پارلیمانی الیکشن میں میدودف کی سیاسی پارٹی یونائٹڈ رشیا کو کامیابی ملتی ہے تو انہیں وزیر اعظم بنا دیا جائے۔


دھاندلی کے الزامات اور مظاہرے
4مارچ 2012 ءکے صدارتی انتخابات میں پیوٹن کو 65 فیصد ووٹ ملے اور وہ تیسری مرتبہ صدر منتخب ہو گئے۔ تاہم اس مرتبہ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل کے دوران دھاندلی کی گئی۔ سات مئی کو جب پیوٹن نے صدر کا حلف اٹھایا تو روس بھر میں ان کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔


چوتھی مرتبہ صدرمنتخب
6دسمبر 2017ءکو پیوٹن نے اعلان کیا کہ وہ چوتھی مرتبہ بھی صدارتی عہدے کےلئے میدان میں اُتریں گے اور ایسا ہی ہوا ۔وہ اٹھارہ مارچ کو ہونے والے الیکشن میں روس کے چوتھی مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں۔
امریکی جریدے ’فوربز‘ نے اپنی سالانہ درجہ بندی میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو دنیا کی طاقتور ترین شخصیت قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے نمبر پر ہیں۔قارئین اب ہم آپ کو پیوٹن کی شخصیت کے مختلف پہلوﺅں کے بارے میں بتاتے ہیں۔


کے جی بی سے کریملن تک
وہ1975ءمیں سابق سوویت یونین کی خفیہ سروس کے جی بی میں شامل ہوئے۔ 1980ءکے عشرے میں اُن کی پہلی غیر ملکی تعیناتی کمیونسٹ مشرقی جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں ہوئی۔ دیوارِ برلن کے خاتمے کے بعد پیوٹن روس لوٹ گئے اور صدر بورس یلسن کی حکومت کا حصہ بنے۔ یلسن نے جب اُنہیں اپنا جانشین بنانے کا اعلان کیا تو اُن کے لیے ملکی وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی،یلسن کی حکومت میں پوٹن کی تقرری کے وقت زیادہ تر روسی شہری اُن سے ناواقف تھے۔ یہ صورتِ حال اگست 1999ءمیں تبدیل ہو گئی جب چیچنیہ کے مسلح افراد نے ہمسایہ روسی علاقے داغستان پر حملہ کیا۔ صدر یلسن نے کے جی بی کے سابق افسر پیوٹن کو بھیجا تاکہ وہ چیچنیہ کو پھر سے مرکزی حکومت کے مکمل کنٹرول میں لائیں۔ سالِ نو کے موقع پر یلسن نے غیر متوقع طور پر استعفیٰ دے دیا اور پیوٹن کو قائم مقام صدر بنا دیا۔


میڈیا میں نمایاں کوریج
سوچی میں آئس ہاکی کے ایک نمائشی میچ میں پیوٹن کی ٹیم کو چھ کے مقابلے میں اٹھارہ گول سے فتح حاصل ہوئی۔ ان میں سے اکٹھے آٹھ گول صدر پوٹن نے کیے تھے۔


اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن
اپوزیشن کی ایک احتجاجی ریلی کے دوران ایک شخص نے منہ پر ٹیپ چسپاں کر رکھی ہے، جس پر ’پیوٹن لکھا تھا۔ 2013ءمیں ماسکو حکومت نے سرکاری نیوز ایجنسی آر آئی اے نوووستی کے ڈھانچے کی تشکیلِ نو کا اعلان کرتے ہوئے اُس کا کنٹرول ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دیا، جسے مغربی دنیا کا سخت ناقد سمجھا جاتا تھا۔ ’رپورٹرز وِد آئوٹ بارڈرز‘ نے پریس فریڈم کے اعتبار سے 178 ملکوں کی فہرست میں روس کو 148 ویں نمبر پر رکھا تھا۔


پیوٹن کی ساکھ، اے مَین آف ایکشن
روس میں پیوٹن کی مقبولیت میں اس بات کو ہمیشہ عمل دخل رہا ہے کہ وہ کے جی بی کے ایک سابق جاسوس اور عملی طور پر سرگرم شخص ہیں۔ اُن کی شخصیت کے اس پہلو کو ایسی تصاویر کے ذریعے نمایاں کیا جاتا ہے، جن میں اُنہیں برہنہ چھاتی کے ساتھ یا کسی گھوڑے کی پُشت پر یا پھر جُوڈو کھیلتے دکھایا جاتا ہے۔ روس میں استحکام لانے پر پیوٹن کی تعریف کی جاتی ہے لیکن آمرانہ طرزِ حکمرانی پر اُنہیں ہدفِ تنقید بھی بنایا جاتا ہے۔


گھٹن زدہ جمہوریت
2007ءکے پارلیمانی انتخابات میں صدر پوٹن کی جماعت ’یونائیٹڈ رَشیا‘ نے ملک گیر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ناقدین نے کہا تھا کہ یہ انتخابات نہ تو آزادانہ تھے اور نہ ہی جمہوری۔ صدر پوٹن پر دم گھونٹ دینے والی جمہوریت کا الزام لگانے والوں نے جلوس نکالے تو پولیس نے اُن جلوسوں کو منتشر کر دیا اور درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔


پیوٹن ایک مہم جُو
سیوا ستوپول (کریمیا) میں پوٹن بحیرہ اسود کے پانیوں میں ایک ریسرچ آبدوز کی کھڑکی میں سے جھانک رہے ہیں۔ اِس مِنی آبدوز میں غوطہ خوری اُن کا محض ایک کرتب تھا۔ انہیں جنگلی شیروں کے ساتھ گھومتے پھرتے یا پھر بقا کے خطرے سے دوچار بگلوں کے ساتھ اُڑتے بھی دکھایا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ عوام میں اُن کی بطور ایک ایسے مہم جُو ساکھ کو پختہ کر دیا جائے، جسے جبراً ساتھ ملائے ہوئے علاقے کریمیا پر مکمل کنٹرول حاصل ہے،تو قارئین یہ ہیں پیوٹن۔


ای پیپر