کلثوم نواز اور اسحاق ڈار علاج کے بہانے ملک سے چلے گئے، عمران خان
31 مارچ 2018 (18:09)

لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کلثوم نواز اور اسحاق ڈار علاج کے بہانے ملک سے چلے گئے، چائنیز کمپنی کے سی ای او نے اعتراف کیا کہ وہ وزیراعلی ٰشہباز شریف کا فرنٹ مین ہے،نیب کو حبیب کنسٹرکشن سمیت دوسری کمپنیوں کے کیسز دیں گے تا کہ تحقیقات ہوں، یہ یونیورسٹیاں اور ہسپتال اس لئے نہیں بناتے کہ اس سے پیسہ نہیں بنتا۔وہ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ پنجاب کا پچھلا سکل ڈویلپمنٹ بجٹ 635ارب روپے تھا، جس میں سے 55فیصد صرف لاہور پر خچ ہوا، لاہور پر خرچ ہونے والا بجٹ پورے کے پی کے کے بجٹ سے 3گنا زیادہ ہے،شہباز شریف دس دن سے علاج کے بہانے لندن چلے گئے ہیں، کلثوم نواز اور اسحاق ڈار بھی علاج کے بہانے ملک سے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 4ارب کا پشاور میں سٹیٹ آف دی آرٹ شوکت خانم ہسپتال موجود ہے۔

لاہور کا شوکت خانم 70کروڑ روپے میں بنا۔ انہوں نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ 635ارب جو خرچ کیا گیا اس میں سے ہسپتال کےلئے بجٹ نہیں نکالا گیا، ایک ایک بستر پر چار چار افراد کو رکھا جاتا ہے، ملک کے غریب عوام اپنے بچوں کو علاج کےلئے باہر نہیں لے کر جا سکتے۔ عمران خان نے شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملتان میٹرو کی عوام کو ضرورت ہی نہیں تھی، 30ارب کا بتا کر 60ارب خرچ کیا گیا اور وہاں خالی بسیں چل رہی ہیں، 60 ارب ضائع کیا گیا کیونکہ ایک فرد فیصلے کرتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ملتان میٹرو میں پتہ چلا کہ فیصل سبحان جو ایک چائنیز کمپنی کا سی ای او تھا اس نے اعتراف کیا کہ وہ شہباز شریف کا فرنٹ مین ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ صرف تین چار کنٹریکٹرز کو تمام ٹھیکے دیئے جاتے ہیں۔

پورے لاہور میں عالمی معیار کا نہ سکول ہے نہ کالج، نہ یونیورسٹی اور نہ ہی ہسپتال، کے پی کے کے اندر ہم ایسی یونیورسٹی بنا رہے ہیں، جیسی پورے پاکستان میں کوئی یونیورسٹی نہیں، عمران خان نے ٹھیکے دینے کے طریقے سے پردہ ہٹاتے ہوئے بتایا کہ جب بولی لگتی ہے تو ان کے یہی کنٹریکٹرز سب سے کم بولی لگاتے ہیں، اس کے بعد لاگت میں اضافہ ہونا شروع ہو تا ہے، حبیب کنسٹرکشن کے نام سے بننے والی کمپنی نے 94کروڑ کا ٹھیکہ لیا جبکہ لاگت بڑھ کر 2 ارب ہو گئی جبکہ دوسری کمپنی نے ماڈل ٹاﺅن انڈر پاس کا ٹھیکہ 19کروڑ کا لیا اور بعد میں لاگت بڑھ کر 50کروڑ تک جا پہنچی، فیروز پور روڈ ملتان روڈ کو دو رویہ کرنے کے منصوبے میں 40کروڑ سے بڑھ کر 2ارب لاگت ہو گئی۔ عمران خان نے بتایا کہ پیسہ بنانے کےلئے میگاپروجیکٹس بنائے جاتے ہیں، ہم نیب کو یہ کیسز دیں گے تا کہ تحقیقات ہوں، یہ یونیورسٹیاں اور ہسپتال اس لئے نہیں بناتے کہ اس سے پیسہ نہیں بنتا۔


ای پیپر