سینیٹ انتخابات کے معاملے پر آخری دم تک دخل دیتا رہوں گا،وزیراعظم
31 مارچ 2018 (17:17)

ڈیرہ غازی خان : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے معاملے پر آخری دم تک دخل دیتا رہوں گااس برائی کے خاتمے کو جہاد سمجھتا ہوں، ،چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر حلفیہ بیان دیں کہ انہوں نے کسی ایم پی اے کو نہیں خریدا ،جس ایوان کی بنیاد کرپشن پر ہو وہ قیادت پاکستان کے مفاد کےلئے کیسے کام کر سکتی ہے،مسلم لیگ (ن) کو کام نہیں کرنے دیا گیا،ملک میں کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے، کبھی دھرنے ہوئے، کبھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا،عدالتوں کا احترام کیا لیکن سیاست کے فیصلے عوام پر چھوڑ دیں،عوام نے 2008 میں ایک فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں آصف زرداری ملا، اس نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ سب جانتے ہیں،جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا، سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں عدالتوں میں نہیں،کچھ فیصلوں کو تاریخ قبول نہیں کرتی، 15 سال کی خرابیاں 5 سال میں دور نہیں ہوتیںمگر ہم نے کوشش ضرور کی، کبھی کسی کی ذات پر تنقید نہیں کی، جس نے ہمیں پتھر مارا ہم نے اسے پھول دیا،ملک سے اگلے 20سال کےلئے گیس کی کمی کو دور کر دیا گیا ،10لاکھ کنکشن دیئے جا چکے 10لاکھ لگائے جا رہے ہیں بغیرسفارش کے ، ہمیشہ عدالتوں کی عزت کی اور کرتے رہیں گے، عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا، ہمیشہ شرافت کی سیاست کی ۔وہ ہفتہ کو ڈیرہ غازی خان میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ڈیرہ غازی خان کی مختلف آبادیوں میں گیس فراہمی ،انڈس ہائی وے کو چار رویہ کرنے اور ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ کا نام فاروق لغاری کے نام سے منسوب کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان آ کر بے حد خوشی ہوئی،مسلم لیگ (ن) ڈیرہ غازی خان سے بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 18 ارب روپے کی لاگت سے بائی پاس کی تعمیر کی ہے، ڈیرہ غازی خان میں سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور سڑکیں بن رہی ہیں، ہمارے بدترین مخالف بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک میں ہر جگہ کام صرف مسلم لیگ (ن) ہی کر رہی ہے، اگر کسی سیاستدان نے ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ محمد نواز شریف ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دھرنوں اور عدالتوں کے ذریعے ہمیں کام سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم کام کرتے رہے اور آپ کے ووٹ کو عزت دی، یہ عجیب روایت بن گئی ہے کہ جو آدمی کام کرے اسے عہدے سے ہٹادیا جائے اور عدالتوں میں گھسیٹا جائے، یہ روایت پاکستان کو عزت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے مستقبل کے فیصلے پولنگ سٹیشن پر ہوتے ہیں، عدالتوں میں نہیں،ہم نے ہمیشہ عدالتوں کی عزت کی ہے اور کرتے رہیں گے، سیاست کے فیصلے پولنگ سٹیشن پر ہونے دیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا، عدالتوں کے فیصلے پر اپیل بھی ہوتی ہے ،کچھ فیصلوں کو تاریخ بھول جاتی ہے، کچھ فیصلے متنازعہ ہوتے ہیں لیکن عوام کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہو گی، عوام کا اعتماد نہیں ہو گا، وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا، آج ہم مہنگائی، ترقی کی بات کرتے ہیں اس کی بنیادی ضرورت ہے کہ ملک میں سیاست مضبوط ہو، عوام کا اعتماد حاصل ہو تو ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2008سے پہلے ملک میں آمریت تھی، دس سال گزار دیئے گئے لیکن عوام کا کوئی کام نہیں کیا،2008میں عوام کو آصف علی زرداری ملا اور اس نے جو پاکستان کے ساتھ کیا وہ سب کے سامنے ہے، 2013کے انتخابات میں عوام نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ کیا اور ان پانچ سالوں میں جو کام ہوئے وہ سب کو پتہ ہیں، پندرہ سال کی خرابیاں پانچ سال میں درست نہیں ہو سکتیں لیکن ہم نے کوشش ضرور کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ موٹروے، سی پیک، بجلی اور گیس کے منصوبے دیکھ لیں، آج تمام منصوبے جاری ہیں، ان منصوبوں سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور ملک میں ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ابھی صرف ابتداءہے، اگر جولائی 2018میں عوام نے درست فیصلہ کیا تو یہ تسلسل جاری رہے گا، آج مسلم لیگ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر پورے ملک میں جا رہی ہے، ہم نے ہمیشہ شرافت کی سیاست کی ہے، ہم نے کبھی گالی نہیں دی نہ کسی کی پگڑی اچھالی نہ کبھی کسی پر تنقید کی، ہمیں اگر پتھر مارے تو ہم نے جواب میں پھول مارے، پاکستان کے باشعور عوام تمام سازشوں کا جواب پولنگ سٹیشن پر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان پاکستان کا منفرد علاقہ ہے اور یہاں کے لوگ قابل ہیں۔ انہوں نے اویس لغاری کے کام کی بھی تعریف کی، وزیراعظم نے سابق صدر فاروق لغاری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود وہ اصول پرست انسان تھے، وزیراعظم نے ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ کا نام فاروق لغاری کے نام سے منسوب کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے گیس کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گیس کی کمی کو پورا کرنے کے بعد گیس کے مزید منصوبے شروع کئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک سے اگلے بیس سال کےلئے گیس کی کمی کو دور کر دیا گیا ہے،پچھلے 65سالوں میں لگنے والی گیس کے منصوبوں کا 50فیصد کام ہم نے اپنے دور میں شروع کیا،آج 200ارب روپے کے گیس منصوبے ملک میں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10لاکھ گیس کے کنکشن دیئے جا چکے ہیں اور دس لاکھ مزید لگائے جا رہے ہیں لیکن ایک بھی کنکشن سفارش پر نہیں لگایا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کے ووٹروں سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر کنکشن دیئے، ملک میں صرف 500کلو میٹر موٹروے تھا جو کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بنا تھا، آج 1700کلومیٹر موٹروے مکمل ہو چکا ہے اور کچھ زیر تکمیل ہے، یہ فرق ہے آمریت اور جمہوریت میں، یہ فرق ہے آصف زرداری اور نواز شریف میں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپنے ووٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے ذاتی اختلافات کا بالاتر رکھیں ،کوئی جماعت جو پاکستان کو بہتر مستقبل دے سکتی ہے تو وہ مسلم لیگ (ن)ہے، کوئی قیادت ہے تو وہ نواز شریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وعدے صرف وعدے نہیں ہوتے بلکہ عوام کو کام ہوتا ہوا نظر آئے گا، جتنے کام شہباز شریف نے پنجاب میں کئے اس کا فیصد فیصد بھی باقی صوبوں میں نہیں ہورہا، ترقی کےلئے محنت ، خلوص اور لگن چاہیے، شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) عوام کے مسائل حل کرتی رہے گی۔ وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے حوالے سے اپنے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے حاضرین سے پوچھا کہ کیا ہمارے سینیٹرز ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو پیسے دے کر ایوان میں آئیں، کوئی بھی شریف النفس انسان ایسے معیار کو تسلیم نہیں کرتا، ہم نے ایسی برائیوں کو ووٹ کے ذریعے ختم کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران مسلم لیگ نے بلاواسطہ یا بلواسطہ ایک پیسہ بھی سینیٹر منتخب کروانے کےلئے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایم پی ایز اور سینیٹرز کے ضمیر کو نہیں خریدا، جس ایوان کی بنیاد کرپشن پر ہو وہ قیادت پاکستان کے مفاد کےلئے کیسے کام کر سکتی ہے،تمام جماعتیں حلفیہ کہیں کہ انہوں نے سینیٹ الیکشن میں کسی کے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آخری دم تک سینیٹ کے معاملات میں دخل انداز رہوں گا اور اس برائی کے خاتمے کو جہاد سمجھتا ہوں، انہوں نے مخالفین کو چیلنج دیا کہ وہ پریس کانفرنس میں بیان دیں کہ انہوں نے سینیٹرز منتخب کروانے میں کوئی پیسہ استعمال نہیں کیا اور اپنے بیان عوام کے سامنے رکھیں۔ وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ سے بھی تقاضا کیا کہ وہ بیان دیں کہ انہوں نے چیئرمین بننے کےلئے کسی سینیٹرز کو نہیں خریدا، کرپشن ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور جس ملک کی جڑیں کھوکھلی ہوں وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا، جس ملک کی قیادت پیسے دے کر منتخب ہو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا،ہم نے اس برائی کا ووٹ کے ذریعے مقابلہ کرنا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میری عوام سے گزارش ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو مسترد کریں ، ہم کسی سے جنگ نہیں کرنا چاہتے لیکن اس کرپشن اور برائی کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے، میرا یہ فرض ہے کہ میں اس براءیکو عوام کے سامنے رکھوں اور عوام فیصلے کریں، جن افراد نے اس ملک کے عوام کو داﺅ پر لگایا کیا وہ عوام پر حکمرانی کا حق رکھتے ہیں۔


ای پیپر