توانائی بحران کی وجہ سے 2013 میں خانہ جنگی کا خطرہ تھا،احسن اقبال
31 مارچ 2018 (17:08) 2018-03-31

لاہور: وفاقی وزیرِداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کے مینڈیٹ کو عزت نہ دی گئی تو آ ئندہ دس پندرہ سال میں افغانستان بھی ہم سے اگے نکل جائے گا، توانائی بحران کی وجہ سے 2013 میں خانہ جنگی کا خطرہ تھا،ہم نے توانائی کو سب سے زیادہ اہمیت دی اور سی پیک منصوبہ شروع کیا،منصوبے کے پہلے مرحلے میں ملک کے انفرااسٹریکچر پر کام کرنا ہے ۔ ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2013 سے قبل دنیا پاکستان کو دہشت گردوں کی جنت سمجھتی تھی، عوام کو 18 سے 20 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا، توانائی بحران کی وجہ سے خانہ جنگی کا خطرہ تھا.

پاکستان کی شرح نمو 3 فیصد تھی، پھر پاکستانی قوم نے ہمیں حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا، ہم نے توانائی کو سب سے زیادہ اہمیت دی اور سی پیک منصوبہ شروع کیا گیا۔وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سی پیک سے پاکستان کا تاثر دنیا میں بہتر ہوگا، یہ حکومت کا حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کا ایک دوسرے سے تعلق کا منصوبہ اور کاروبار کا کاروبار ہے، 2013 میں جب سی پیک کا معاہد ہوا اسی وقت ہم نے اسے کامیاب بنانے کا عزم کرلیا تھا، اور اب سی پیک گیم چینجر ثابت ہورہا ہے، 46 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبے مکمل ہورہے ہیں.

منصوبے کے پہلے مرحلے میں ملک کے انفرااسٹریکچر پر کام کرنا ہے کیوں کہ اس کے بغیر معیشت کی بہتری ممکن نہیں، اب ملک کے حالات بہتر ہیں اور دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان آ رہے ہیں لیکن کچھ سقراط اور بقراط ہر شام ٹی وی پر بیٹھ کر منفی پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، پتا نہیں وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے حکومت کے مینڈیٹ کو عزت نہیں دی جاتی جب کہ افغانستان جیسے ملک میں پہلے حامد کرزئی نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور اب اشرف غنی بھی اپنا دور اقتدار مکمل کرنے کو ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ اگلے دس پندرہ سال میں افغانستان ہم سے آگے نکل جائے گا۔


ای پیپر