سیاست اور اخلاقیات
31 مارچ 2018

نیوزروم میں ہمارے بڑے عزیز دوست عدیل صاحب نہایت حساس طبیعت ہونے کی وجہ سے زمانے کے ٹھنڈے گرم سے جلدی متاثر ہوجاتے ہیں۔ گفتگو کے دوران خود الفاظ کا چناو¿ نہایت شائستگی اور خوش دلی سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سامنے والے کے لہجے کی کمزوری اور کاٹ کو سیدھا دل پر لے لیتے ہیں حساس جو ہوئے۔ آج بھی کافی پریشان پریشان نظر آئے۔ میں نے خیریت دریافت کی اور ان کی طبیعت کو سمجھتے ہوئے اندازہ لگانے لگا کہ شاید نیوز روم سے کسی شخص نے اپنے گھر کا مال سمجھتے ہوئے ان کے دل کو توڑ ڈالا ہے۔ کئی بار استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ پاکستان کے اندر موجود سیاستدانوں کے اندازِ گفتگو کی وجہ سے آج اپنی ہی ذات میں جوج رہے ہیں۔ میرے لاکھ تسلی دینے پر بھی انکی تسلی نہیں ہو پارہی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ لاکھوں کے ووٹ کی نمائندگی کرنے والے کی زبان میں ذمہ داری کا عنصر ہونا چاہیے اور میرا ماننا تھا کہ پانی کا بہاو¿ ہمیشہ اوپر سے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے اخلاق کا بھی ستیاناس ہوچکا ہے۔ کیونکہ عوامی نمائندے عوام کے اخلاق کی عکاسی کررہے ہیں۔
عدیل کا ماننا تھا کہ زبان پر لگی کمان سے تیر چھوڑنے کا مشغلہ سیاستدانوں کی اکثریت کو مشکل میں ڈال رہا ہے تو اس مشکل سے بچنے کے لیے تول کر بولیں تو کیا حرج ہے۔ کم از کم بعد میں معافیاں مانگنے کی ہزیمت سے جان تو چھوٹ جائیگی اور حل بتاتے ہوئے معصوم عدیل کا ماننا تھا کہ قومی لیڈر طرح طرح کے جملوں سے اپنی دلی تسلی کرتے ہیں لیکن دوسروں کے ذہنوں اور دلوں پر گہری ضرب لگادیتے ہیں۔ چاہے ٹیلی وژن کی اسکرین کے سامنے کوئی معصوم بچہ ہو یا پھر حزبِ مخالف کا سیاستدان۔ کیوں نا قلمدان سونپنے جانے سے پہلے یا کسی دوسرے عوامی منصب پر بیٹھنے سے پہلے اگر پارلیمان میں زبان کی ضمانت دینے کا کوئی قانون ہوتا تو وہ سب نہ ہوتا جو آج ہورہا ہے۔ عوام سے میٹھی میٹھی باتیں کرکے ووٹ لینے والے بعد میں اپنی زبان کے پھسل جانے کا رونا روتے رہتے ہیں تو کبھی الفاظ پھولتی ہوئی دماغ کی شریانوں سے مطابقت کرلیتے ہیں اور پھر اخلاق کی دھجیاں بکھر جانے کی گونج دور دور تک سنائی دیتی ہے۔
عدیل اور میرا اس بات پر یقین راسخ ہے کہ الفاظ تو غلام ہوتے ہیں جب تک زبان سے ادا ہوں کیونکہ ادا ہونے کے بعد انسان ان کا غلام بن جاتا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، ان کی تعمیر سے قبل تشہیر اور اگر بن جائیں تو ان کے کلام خود نمائش---- شائستگی اور شگفتگی کا عجب مجموعہ ہوتے ہیں۔ کاش ایسی ہی نفاست بڑے بڑے پنڈالوں میں خلقتِ خدا کو مخاطب کرنے والوں کو بھی آجائے تو بہتر ہوگا۔ ڈرتے تو یہ بھی ہیں لیکن بوٹوں کی چاپ سے --- جو نہ بھی ہو تو سنائی دے رہی ہوتی ہے چاہے ترجمان جتنی مرضی تسلی دے رہا ہو۔ ہنستے تو یہ بھی ہیں لیکن انصاف کے ترازو کے میزان پر—جس کا پلڑا انہیں ہمیشہ اپنے مخالف کی جانب جھکا ہوا نظر آتا ہے، زبان ان کی لڑکھڑاتی ہے محض الزام دینے کے لیے –کہ ہم نے کچھ نہیں کیا جو کچھ کررہے ہیں سازشی عناصر کررہے ہیں۔
زبان کہتی ہے کہ تو مجھے منہ سے نکال میں تجھے شہر سے نکال دونگی لیکن سیاستدانوں کی زبان انہیں عوام کے دلوں سے بھی نکال رہی ہیں اور دھیرے دھیرے پارلیمنٹ سے بھی۔ رہی سہی کسر سپریم کورٹ پوری کررہی ہے۔ نہال ہاشمی کو ہی لے لیں ان کی زبان ہی ان کے لیے وبال جان بن گئی۔ پہلے تو سینیٹر شپ سے گئے، پھر سیاست سے بھی ہاتھ دھونا پڑگیا اور جب وکالت کے لائسنس کی بات آئی توان کی برادری نے معافی دلائی وہ بھی یہ کہہ کر کہ اب وہ اپنی زبان کو لگام گھر کے غسل خانے میں بھی دے کر رکھیں گے۔
طلال چودھری اور دانیال عزیز بھی رحم و کرم کی دہائیاں دیتے نظر آرہے ہیں۔ آصف علی زرداری اینٹیں بجانے کے چکر میں کئی ماہ بغلیں بجاچکے ہیں۔ MQM کا قائد تو دلوں تک سے اتر گیا۔ خواجہ آصف کے پاس لاکھ معافی مانگنے کے باجود عزت کی شکل میں ٹریکٹر بھی گیا اور ٹرالی بھی۔ اس کے علاوہ اتنی مثالیں ہیں کہ دامنِ تحریر میں گنجائش نہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں زبان کی تلخی نے شہ سرخیاں بنائی ہیں تو ہاتھوں سے گفتگو بھی کئی بار دیکھی جاچکی ہے یعنی تھپڑ، دھکے، گھونسے اور گریبان کھینچنے کا غیر پارلیمانی مشغلہ عام ہونے جارہا ہے صرف پاو¿ں آنے کی دیر ہے۔
سیاستدانوں نے تو عوام کو بھی کئی حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں میں بدانتظامی ہو تو کہہ دیتے ہیں یہ پی ٹی آئی کے لوگ ہی ایسے ہیں اور اگر ن لیگ کے جلسے میں کسی خاتون سے بدتمیزی ہوجائے تو اسے پاکستان مسلم لیگ کی روایت قرار دے دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مجمعے میں جو کیک بریانی کا حال ہوتا ہے اسے روٹی کپڑا اور مکان سے محروم لوگوں کی شناخت کہہ دیا جاتا ہے۔ نہیں صاحب ایسا نہیں ہے یہ پی ٹی آئی، نون لیگ یا پیپلز پارٹی کہ لوگ نہیں یہ پاکستان کے لوگ ہیں۔
دوسروں کو کافر قرار دینا، منافق کہہ دینا، ڈرامے باز، گھٹیا، نوسرباز اور نہ جانے کتنی ایسی مغلظات ہیں جو حالیہ دورِ جمہوریت کی مجموعہِ لغتِ سیاسیات کے اوراق در اوراق کا چھوٹا سا اقتباس ہیں۔ یہ اپنی لفاظی پر نہ تو کبھی نادم ہوئے نہ خود حیران ہوتے ہیں البتہ اپنی خلش، رنجش اور اختلافات کو نازیبگی کا لبادہ اوڑھا دیتے ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو گالی دینے کا آرٹ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
فعل حال میں اتبی زبردست مثالیں ملنے کے بعد بھی اگر سیاست سے اخلاقیات کا جنازہ اٹھانے پر سب راضی نظر آرہے ہیں۔ خدارا الفاظ کا چاو¿ بہتر کریں اور عوام کی اخلاقی قدروں کا تھوڑا احترام کریں کیونکہ انہوں نے ہی آپ کو مسند پر بٹھایا ہے۔ غالب کا شعر ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے


ای پیپر