خطبۂ جمعہ آیا صوفیا
31 جولائی 2020 (21:04) 2020-07-31

ذی احترام اہلِ اسلام!

اللہ کی رحمتیں، سکینت، نصرت اور جمعۃ المبارک کی بے پایاں برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ اس بابرکت ساعت،اور اس مقدس مقام پر ہم ایک تاریخ ساز لمحے کے شاہد ہیں۔ مسجد آیا صوفیا میں نماز کی یہ جماعت عیدالاضحیٰ کی ضو میں 3 ذی الحج کو منعقد ہورہی ہے۔ اس قوم کا طویل انتظار جو دل شکستگی کی حد کو پہنچ رہا تھا، آج ختم ہورہا ہے۔ اللہ قادر مطلق کے حضور ہم لامنتہیٰ شکرانہ اور حمد وثنا، پیش کرتے ہیں۔

آج وہ دن ہے جب آیا صوفیا کے گنبد ومحراب ایک مرتبہ پھر تکبیر وتہلیل اور صلوٰت و تسبیح سے گونج اٹھے ہیں۔ اذان کی پکار اس کے میناروں سے بلند ہوئی ہے۔ آج ہم اسی طرح کے ایک دن کے تجربے سے گزر رہے ہیں، جیسا کہ ستر سال قبل ہمارے اس پار واقع نیلی مسجد (مسجد سلطان احمد) کے 16 میناروں سے 16 مؤذنوں کی تکبیر چہار جانب بلند ہوئی تھی۔ آج وہ دن ہے جب اہل ایمان آنسوؤں کے ساتھ قیام، سکینت بھرا رکوع اور سجدۂ شکر ادا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔

آج کا دن عزت وتوقیر اور عجز ونیاز کا دن ہے۔ لامنتہیٰ حمد وثنا ہے رب جلیل کی، جس نے ہمیں اس پروقار دن کا اعزاز بخشا۔ روئے زمین پر مقدس ترین مقام مسجد ہے، اور ہم اس ذات باری تعالیٰ کے حضور عظیم آیا صوفیا میں سربسجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فتح کی بشارت دی تھی: ’’تم ضرور ایک روز قسطنطنیہ فتح کروگے۔ بہترین امیر اس کا امیر ہوگا اور بہترین لشکر اس کا لشکر ہوگا‘‘۔ (مسند احمد) (دوسری حدیث: ’’پہلا لشکر جو میری امت کا، قیصر کے شہر پر حملہ آور ہوگا وہ مغفرت یافتہ ہوگا‘‘۔بخاری)

سلام ہو استنبول کے اس عظیم روحانی معمار پر جو راہیں سر کرتا اس بشارت کو پا گیا۔ سلام ہو بالخصوص سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ صحابی رسولؐ اور ان کے بابرکت متبعین پر۔ سلام ہو الپ ارسلان پر جس نے اناطولیہ کے دروازے ہم پر کھولے۔ اس یقین کے ساتھ کہ فتوحات کے معانی حملہ آور ہونا نہیں، بلکہ خوشحالی بخشنا ہے۔ اور اس کے معانی تعمیر وترقی ہے تخریب نہیں۔ (مسلمان جہاں گئے تاخت وتاراج کی جگہ خوشحالی، جسمانی و روحانی ترقی کے نقیب ہوئے۔مترجمہ ) سلام ہو ہمارے شہداء اور نمازیوں پر جنہوںنے اس سرزمین کو ہمارا گھر بنایا۔ اسے ہمیں سونپا اور دلوں پر حکمرانی کرنے والے ان تمام سلاطین پر، جنہوںنے ایمان کے ذریعے ہمارا جغرافیہ بدلا۔

سلام ہو شمس الدین پر وہ حکیم ودانا عالم، جنہوںنے سلطان محمد کے دل میں فتح کی جوت لگائی اور آیا صوفیا میں یکم جون 1453ء کو پہلی نماز جمعہ پڑھائی۔ فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ان اللہ یحب المتوکلین۔ سلام ہو پرعزم سلطان محمد فاتح پر، جنہوں نے اپنا دل اس آیت پر جما دیا: پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے، تو اللہ پر بھروسا کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں۔ جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ (آل عمران۔ 159)۔ تاریخ، ادب، سائنس اور آرٹس کا وہ نابغہ (سلطان محمد فاتح) جس نے اپنے دور کی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی استعمال کی۔ خشکی پر جہاز چلائے۔ اللہ کے اذن اور نصرت سے استنبول فتح کیا۔ کسی کو اجازت نہ دی کہ وہ اس معزز شہر کو ادنیٰ ترین نقصان پہنچائے۔ ایک کنکری جگہ سے بے جگہ کرنے کے برابر بھی۔

سلام ہو معماروں کے عظیم ماہر باپ سنان معمار کو، جس نے آیا صوفیا کے میناروں کو ڈھالا، اور انہیں اتنا مضبوط بنایا کہ وہ صدیوں سلامت رہ سکیں۔ سلام ہو ہمارے دنیا بھر کے اطراف واکناف میں پھیلے مسلمان بھائیوں بہنوں کو، جو آیا صوفیا کے دروازے عبادت کے لیے کھولے جانے کے کب سے منتظر تھے۔ اور اب اس کے افتتاح پر خوشی منا رہے ہیں۔

سلام ہو ہمارے ان تمام زعماء پر جو ماضی سے حال تک قلب وروح کی پہنائیوں سے اس دن کے لیے محنت کرتے رہے کہ آیا صوفیا کو دوبارہ اذان، اقامت، وعظ، خطبہ، تلاوت، اورعلمی سرگرمیوں اور صف در صف نماز کے عظیم اجتماعات سے ہمکنار کیا جاسکے۔

سلام ہو ہمارے علماء اور دانشوروں، معروف قیادت پر، جوحکمت ودانائی اور فراخ دلی سے مالامال تھے۔ جنہوںنے آیا صوفیا کو یوں بیان کیا: ’ہماری روحانیت کا مقام اور ہمارے گھر کے ماتھے کا جھومر!، وہ جنہوںنے دل ودماغ کو صبر اور امید سے بھر دیا۔ یہ کہہ کر کہ: ’آیا صوفیا ضرور کھولی جائے گی۔ نوجوانو! انتظار کرو۔ انتظار کرو۔ ابھی کچھ اور بارانِ رحمت برس لینے دو۔ ہر بارش کے بعد ایک سیل رحمت امڈا کرتا ہے۔ میں اس سے بڑھ کر اور کیا چاہ سکتا ہوں کہ میں اس کے بہاؤ کا ایک تنکہ ہوں۔ آیا صوفیا کھولی جائے گی۔ اللہ ان سب پر اپنی رحمت فرمائے۔ (آمین)

اے ایمان والو! آیا صوفیا جس کی عمر 15 صدیوں سے زیادہ ہے۔ انسانیت کی تاریخ کی قیمتی ترین عبادت گاہوں، مراکز علم وحکمت میں سے ایک ہے۔ یہ صدیوں پرانا مقامِ عبادت، اللہ رب العالمین کے حضور عبودیت اور اطاعت کا عظیم اظہاریہ ہے۔

سلطان محمد فاتح نے عبادت کا یہ غیرمعمولی مقام، اپنی آنکھوں کا تارہ، اہل ایمان کی سپردگی میں دیا اور اسے وقف کیا۔ اس شرط پر کہ یہ تاقیامت مسجد ہی رہے گی۔ وقف کی جائیداد ہمارے عقیدے کے مطابق ناقابل تنسیخ حرمت کی حامل ہوتی ہے۔ جو اسے بدنیتی سے چھوتا ہے اسے گویا بھسم کردیتی ہے۔ وقف کا عہدنامہ مقدس اور اٹل ہے اور جو کوئی اس میں خلل انداز ہو وہ ملعون ہوگا۔ چنانچہ اس دن سے آج تک آیا صوفیا مقام تقدس رہا ہے، نہ صرف ہمارے ملک، بلکہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی۔

آیا صوفیا وہ مقام ہے جس سے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے لیے اسلام کی لامنتہا رحمت کا اعلان جاری ہوا ہے۔ آیا صوفیا میں فتح کے بعد جن لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی، وہ متفکر، اپنے مقدر کے منتظر تھے کہ ان سے نجانے کیا برتاؤ ہوگا؟ ان سے محمد فاتح نے کہا تھا: اس لمحے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی اور آزادی کے بارے میں خوفزدہ مت ہونا۔ کسی کی جائیداد نہ لوٹی جائے گی۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ کسی کو اس کے مذہب کی بنا پر سزا نہ دی جائے گی۔ اور پھر اسی پر عمل ہوا۔ (ہمارے فاتحین کی اسی کریم النفسی نے اشاعت اسلام کی۔ تقابل ہو امریکی برطانوی تاریخ کی چیرہ دستی، ظلم وجبر کی داستانوں کے سیاہ ابواب سے۔’میں سانس نہیں لے سکتا‘ تحریک کے پس منظر میں۔مترجمہ) اسی لیے آیا صوفیا علامت ہے عقیدے کے احترام اور بقائے باہمی کے اخلاقی ضابطے کی۔

عزیز مسلمانو! آیا صوفیا میں عبادت کی بحالی، اس کی طویل تاریخی حیثیت سے وفا کا تقاضا ہے۔ یہ ایک مقام مقدسہ کا اپنے اصل مقصد پر لوٹانا تھا، جو پانچ صدیاں اہل ایمان کا مرکز ومحور رہا ۔ آیا صوفیا کو عبادت کے لیے کھول دینا گواہی ہے، اس امر کی کہ اسلامی تہذیب عروج پذیر رہتی ہے۔ اسلامی تہذیب جس کی بنیاد توحید ہے۔ جس کی تعمیر کی اٹھان علم پر اور ربط باہم نیکی اور خیر پر ہے۔

آیا صوفیا کی بحالی، زندگی کی امید ہے۔ مظلوم مسلمانوں اور غمناک مساجد کے لیے، جس میں سرفہرست مسجد اقصیٰ ہے۔ آیا صوفیا کی عبادت کے لیے بحالی ہماری عالی نسب قوم کے عزم کا اظہار ہے، جس کے نزدیک ایمان اور ملک وملت کی محبت سرفہرست ہے۔ جو اپنے اسلاف کے ورثے کی روحانی قوت کے ذریعے ایک مضبوط مستقبل کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔

عزیز اہل ایمان! ہماری مساجد، ہماری تہذیب میں موجود اتحاد، دوستی، بھائی چارہ، ایمان اور طمانیت کا ذریعہ ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ مساجد بنانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کے بارے میں فرماتا ہے: اللہ کی مسجدوں کے آبادکار (مجاور وخادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخر کو مانیں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیںگے۔ (التوبۃ:18)

عزیز بھائیو اور بہنو! اس سے زیادہ افسردگی کا عالم کیا اور کہاں ہوگا کہ ایک مسجد ہو، جس کے منارے خاموش، منبر و محراب ویران، بے آواز اور باغ اجڑا ہوا ہو۔ اسلام کے خلاف بڑھتی ہوئی مخاصمت اور دشمنی کی بنا پر آئے دن دنیا کے مختلف حصوں میں مساجد پر حملے ہوتے ہیں، جبراً ان کی بندش کردی جاتی ہے اور بمباریوں تک سے تباہ کردی جاتی ہیں۔ کروڑوں مسلمان ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں۔ میں دنیا کو محمد فاتح کا پانچ صدی پہلے کا، آیا صوفیا کے متعلق یہ عظیم مثالی رویہ دکھانا چاہوںگا، تاکہ پوری انسانیت کو پکار کر کہہ سکوں: بس کر دو بس! اسلام دشمن اظہاریے، کارروائیاں اور ہمہ نوع ظلم اب بند کردو۔

عزیز بھائیو اور بہنو! ہم بحیثیت اہل ایمان جن کے نزدیک آیاصوفیا کا معنی عظیم مقصد اور مقدس امانت ہے، ہمیں یہ یقینی بنانے کے لیے کام کرنا ہے کہ رحم دلی، برداشت، امن، سکون،خیرخواہی، لطف ومہربانی پوری دنیا کا احاطہ کرلے۔ اسی کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء بھیجے گئے۔ امن، نجات اور سلامتی کی خاطر! سو آج ہمیں یہی کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم دن رات ایک کردیں، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ رافت ومہربانی، کشادہ ظرفی، راستبازی اور انصاف دنیا پر حکمران ہو۔ ہمیں انسانیت کی نجات کے لیے امید بننا ہے جو اس وقت گمبھیر مسائل کے بھنور میں پھنسی ہے۔ ہمیں ظلم وجبر، بے انصافیوں، آنسوؤں آہوں اور مایوسی میں گھرے خطوں میں انصاف لانا ہے۔ ہمیں اس پکار پر متوجہ ہونا ہے: اے مسلمانو! اسلام کو سمجھو، اسلام کے مطابق جیئو اور اتنے درست اور بھلے طریقے سے اسلام پھیلاؤ کہ جو کوئی تمہیں مارنے کو آئے، وہ تم سے نئی زندگی پاجائے!

ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام لوگ یا ایک دین کی بنا پر بہن بھائی ہیں یا مخلوق ہونے کے اعتبار سے برابر ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق: ہم اس دنیا کو مشترک گھر سمجھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس گھر کے سبھی افراد بلالحاظ مذہب، نسل، رنگ وملک یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ تحفظ اور انسانیت کے ساتھ، آزادانہ رہ سکیں، عالمی (بھلی) اقدار اور اخلاقی اصولوں کے دائرے میں۔آیاصوفیا کے گنبد تلے ہم پوری انسانیت کو پکارتے ہیں کہ وہ امن وانصاف، رحم اور راستی برقرار رکھے، اسے سربلند کرے۔ ہم عالمی اقدار اور اخلاقی اصول وضوابط کے تحفظ ودفاع کی پکار بلند کرتے ہیں جو انسانی عزت ووقار کی حفاظت کرتے ہوئے ہمیں اعلیٰ اشرف مخلوق بنا سکے۔

آخری اور برحق دین کے متبع کی حیثیت سے، جو علانیہ یہ کہتا ہے کہ ہر انسانی جان، جنس اور عمر سے قطع نظر قابل احترام ہے، جس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی، ہم انسانیت کو پکارتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں تعاون وشراکت کاری کرے، سبھی انسانی نسلوں کی زندگی، مذہب اور اموال واسباب جائیداد کا تحفظ یقینی ہو۔ یہ اس لیے کہ آج ہمیں ہمیشہ سے بڑھ کر اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے دل ہمارے میلانات سے، ہماری عقل ہمارے ضمیر سے، انسان، انسانوں سے اور انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہوجائیں۔ آج یہ تاریخی خطبہ ختم کرتے ہوئے میں پوری دنیا کو اس عزت مآب جگہ سے ایک پکار دینا چاہوںگا۔

اے لوگو! آیا صوفیا مسجد کے دروازے اللہ کے تمام بندوں کے لیے بلاتفریق اسی طرح کھلے رہیںگے جیسے مسجد سلیمانیہ، سلیمی مسجد، سلطان احمد مسجد اور ہماری دیگر مساجد ہیں۔ ایمان، عقیدے، عبادت، تاریخ، غور وفکر اور تدبر کا سفر آیاصوفیا کی روحانی فضا میں بلاتعطل جاری رہے گا ان شاء اللہ!

اللہ تعالیٰ ہمیں آیاصوفیا کی کماحقہ خدمت کی توفیق عطاء فرمائے۔ وہ مسجد جو ہماری زریں تاریخ میں خصوصی مقام رکھتی ہے اور ہمارے دلوں میں جس کی غیرمعمولی قدردانی ہے۔ اللہ ہمیں آیاصوفیا جیسی مسجد کا بخوبی احترام کرنے کا اذن عطا فرمائے جو سر تا پا عظیم الشان ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزت مآب (صدر اردوان) تمام حکام جنہوںنے ہماری شناخت اور تہذیب کے تحفظ کے لیے کاوشیں کیں، وہ سب لوگ جو آج کے دن کے لیے دعائیں کرتے ہماری خوشی میں شریک رہے، اللہ ان لوگوں میں شامل فرما لے جن سے اللہ محبت رکھتا ہے اور جن سے اللہ راضی ہوتا ہے، آمین۔

٭٭٭٭٭٭

وہ سحر جس سے لررتا ہے شبستانِ وجود

ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

آیا صوفیا کی بحالی سے مغرب دہل گیا ہے۔ تلوار بردار خطیب دیکھ کر خلافت کا خوف انہیں لرزا گیا ہے۔ ہم مندر بحال/ تعمیر کرنے کو بے قرار ہیں! فاعتبروا یا اولی الابصار!(مترجمہ )

٭٭٭٭٭٭


ای پیپر