قومی احتساب بیورو اور امریکی گوانتا ناموبے
31 جولائی 2020 (21:03) 2020-07-31

پاکستا ن میں ہر دور میں اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے سیاسی اور فوجی حکومتوں نے احتساب کے نام پر ذاتی حساب برابر کئے ہیں سیاستدانوں کی خرابی یہ ہے کہ جب یہ خوداقتدار میں ہوتے ہیں تو وہی ریاستی ہتھکنڈے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور جب وہی انتقامی کارروائی اقتدار سے محرومی کے بعد ان کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو شور مچاتے ہیں پھر جب خود اقتدار میں آتے ہیں تو ماضی بھول جاتے ہیں یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

حالیہ حکومت کے عہدنارسامیں جتنی تنقید نیب پر ہوئی ہے اس نے سارے پرانے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ حکومت کا ایک وزیر جس کا انصاف یا قانون سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے وہ بیان دے دیتا ہے کہ اب فلاں بندے کی باری ہے اور چند دن بعد مذکورہ سیاستدان سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے تو اس سے سارا معاملہ مشکوک ہو جا ہے یہاں تووزیراعظم جیسے معتبر ترین شحض کی طرف سے مخالفین کی گرفتاریوں کی پیشگی اطلاعات جاری کی گئیں اور پھر وہ سچ ثابت ہوئیں۔ بھر کہتے ہیں نیب ایک آزاد خود مختارادارہ ہے۔

نیب کا قیام بڑا دلچسپ ہے یہ1999میں معرض وجود میںآیا جب جنرل پرویز مشرف نے سیاستدانوں کی کر پشن کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ نیب بنانے کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ جنرل مشرف کے دست راست جنرل امجد حسین کو جاتا ہے جو بہت اچھی شہرت کے حامل جرنیل تھے وہ نیب کے پہلے چیئرمین تھے اپنے قیام کے 2سال بعد جب انہوں نے دیکھا کہ نیب کو جنرل مشرف اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور گھر چلے گئے ۔

آپ جانتے ہیں کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان میں سب بڑاجرم قتل ہے جس کی سزا موت ہے۔قتل کے ملزم کو گرفتا ر کیا جاتا ہے تو اس کے جسمانی ریمانڈ کیلئے پولیس کو عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے سیشن جج زیادہ سے زیادہ 14روزہ ریمانڈ کی منظوری دینے کا اختیار رکھتا ہے مزید ریمانڈ کی صورت میں تفتیشی کو دوبارہ سیشن جج کے پاس ریمانڈ میں توسیع کیلئے نہ صرف حاضر ہونا پڑتا

ہے بلکہ تو سیع کی ٹھوس وجوہات بتانا پڑتی ہیںاگر جج تفتیشی افسر کے بیان سے مطمئن ہو تو مزید ریمانڈ دیا جاتا ہے۔یہ سارا procedureانصاف کے بنیادی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وضع کیا گیا ہے مگر اس کے برعکس یہ کیسا صحیفہ آسمانی ہے کہ بد عنوانی کے بلاثبوت الزام پر قومی عدالتی نظام کو مکمل بائی پاس کرتے ہوئے بدعنوانی کے ملزم کو 90دن حراست میں رکھنے کا اختیار رکھے ہوئے ہے گویا کہ بد عنوانی کو قتل سے بڑا جرم سمجھا جاتا ہے۔

اس وقت ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی حلقوں میں سپرم کورٹ کے معزز جج صاحبان کے نیب کے بارے میں ریمارکس کی روشنی میں نیب کے اختیارات میں معقولیت کیلئے ایک مباحثہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جاری ہے بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ نیب کو برخاست کیا جانا چاہیے وہ ساتھ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ میں نہیں کہہ رہا سپریم کورٹ کہہ رہی ہے۔اس صورتحال میں حکومت اپوزیشن اور سول سروس تین سطح پر چل رہی ہیں لیکن ابھی تک اس کا نتیجہ سامنے نہیں آیا سول سروس اس میں اس لئے فریق کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بدعنوانی کا اصل سر چشمہ وہاں سے شروع ہوتا ہے اس وقت بیورو کریسی کے پاس نیب میں ترمیم کیلئے 13جبکہ اپوزیشن کے پاس 35 نکات ہیں۔جبکہ صرف یہ ہے کہ کوئی حکومت اپنے پارٹی کے لوگوں کے خلاف نیب میں مقدم چلانے کیلئے تیار نہیں ہے اگر تحریک انصاف بلا امتیاز احتساب پر عمل کرتی تو اس وقت اپوزیشن سے زیادہ حکومت کے لوگ احتساب کا سامنا کر رہے ہوتے۔

دفعہ 24کے تحت نیب کا 90دن کی حراست کا اختیار واقعی ظالمانہ قانون ہے جسے تبدیل ہونا چاہیے اس کا پس منظریہ ہے کہ اس وقت نیا نیا 9/11ہوا تھا اور سکیورٹی خدشات اور حالات کے پیش نظر 90روز کی مدت کو شامل کر دیا گیا تاکہ مخالفین کو دہشت زدہ کیا جائے اس وقت امریکہ نے چونکہ خود دہشت گردوں کو مقدمہ چلائے بغیر گوانتا ناموبے کا بدنام زمانہ ٹارچر مرکز متعارف کرایا تھا اس لئے انسانی حقوق یا دیگر ممالک نے اس پر توجہ نہیں دیا بلکہ امریکہ نے بھی اس کو دانستہ نظر انداز کیا۔ بلاشبہ نیب پاکستان کا سیاسی گوانتاناموبے ثابت ہوا ہے۔ اور وقت آ گیا ہے کہ انصاف کو نیب کے ہاتھوں سے لے کر انصاف کے عدالتی نظام کی طرف رجوع کیا جائے اور عدالتی نظام کی خرابیاں دور کی جائیں بجائے اس کے کہ ہم عدالتوں کے متوازی ایک نیا نظام چلانا جاری رکھیں یا پھر اس میں فوری طور پر ایسی ترامیم لائی جائیں جس سے یہ انصاف کے کم از کم تقاضوں پر پورا تر سکے۔ نیب کے اندھے اختیارات میں کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلی ترمیم یہ ہو کہ ملزم کو زیر حراست رکھنے کی مدت 14 دن سے زیادہ نہ ہو جو کہ قتل کے کیس میں ہوتی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ دفعہ Cr Pr 497 کے تحت ملزم کو ضمانت کا حق حاصل ہوناچاہیے۔ نیب کو کسی ایک over sight باڈی کے ماتحت ہونا چاہیے جو گرفتاری اور ریفرنس کی تیاری کی منظوری دے۔ گرفتاری کے بعد زیادہ سے زیادہ 75 دن کے اندر اندر ریفرنس کو حتمی شکل ملنی چاہیے اور ٹرائل کا آغازہونا چاہیے۔ نیب کے اندر تمام Appointments پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں۔ گرفتاری تحریری حکم پر ہونی چاہیے۔ ملزم کے منجمد کیے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت اس پر عائد کردہ ریفرنس کی مالیت سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار ٹیم کے ساتھ مجسٹریٹ موجود ہونا چاہیے۔ آخری بات یہ ہے کہ زیر حراست شخص کے لیے حراستی سیل کی حالت مناسب ہونی چاہیے۔ طویل نظر بندی اور غیر انسانی حالات میں زیر حراست رکھ کر ڈر خوف تشدد اور دھمکی سے حاصل کیا گیا اعتراف جرم سزا کے لیے ناکافی سمجھاجانا چاہیے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ چیئرمین نیب کے پاس موجود لامحدود اختیارات کم ہونے چاہیے یہ اختیارات فرد واحد کی بجائے ایک سے زیادہ اشخاص کے پاس ہوں۔ انصاف کسی کی ذاتی خواہش یا تمنا کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف کے آفاقی تقاضوں کے تحت بلا امتیاز ہونا چاہیے۔


ای پیپر