لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ
31 جولائی 2020 (21:03) 2020-07-31

ابھی بلاول بھٹو زرداری لاہور آئے ہوئے تھے۔ان کے والد نے ان کے لیے لاہور میں بھی ایک محل نما گھر ’’ بلاول ہاوس ‘‘ کا بندوبست کیا ہوا ہے۔بلاول نے یہاں یعنی لاہور میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔مولانا نے اُن کی ملاقات میاں شہباز شریف سے طے کرائی۔ دوسرے دن وہ اپنے ساتھیوں سمیت میاں شہباز شریف کی رہائش واقع ماڈل ٹاون لاہور پہنچے۔ ان دونوں ملاقاتوں کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ کیسے عمران خان سے جان چھڑائی جائے۔ عمران خان سے جان چھڑانے کے بظاہر انہیں دو طریقے نظر آتے ہیں۔ اولاً مائنس ون (Minus one ) ۔یعنی ایوان کے اندر سے ہی تبدیلی لائی جائے اور عمران خان کو چلتا کرکے کسی اور کو وزیراعظم بنوا دیا جائے چاہے وہ تحریک انصاف میں سے ہی کوئی ہو۔دوسرا آپشن یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف عوام کے سمندر کے ساتھ چڑھائی کردی جائے اور حکومت اور پارلیمنٹ کو چلتا کر دیا جائے تاکہ نئے انتخابات کا انعقاد ہو سکے۔نئے انتخابات والا آپشن تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کوئی اتنا دلربااور خوش آئیند آپشن نہیں ہے سوائے مولانا فضل الڑحمان کی پارٹی کے۔ موصوف ساری زندگی عوامی نمائندگی اور حکومتی عہدوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ پاکستان میں حکومتی عہدوں سے اگر کوئی شخص ایک دفعہ لطف اندوز ہو جائے تو سمجھئے اُ سے ہیروئن سے بھی بڑے نشہ کی لت لگ چکی ہے۔آپ ذرا غور کریں موجودہ دور میں تقریباً تمام سیاسی جماعتیں کچھ نہ کچھ اپنا حصہ لیے بیٹھی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے۔مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے اور اپوزیشن لیڈر کے عہدوں پر براجمان ہے۔ او ر ادھر مولانا فضل الرحمان ہیں جن کے پاس چئیرمین کشمیر کمیٹی جیسے اہم عہدے رہے لیکن اب کسی اسمبلی میں داخل ہی نہیں ہو سکتے چاہے وہ صوبائی ہو یا قومی ۔اُن کی کیفیت ماہی بے آب جیسی ہے۔ اس کیفیت کا اندازہ صرف وہی شخص لگا سکتا ہے جو اس سے گزر رہا ہوتا ہے یا گزر چکا ہوتا ہے ۔سارے پاکستان کو معلوم ہے کہ مولانا صاحب کس شدت سے چاہتے ہیں کہ ملک میں تمام اسمبلیوں کی بساط لپیٹ دی جائے ، نئے انتخابات کا انعقاد ہو تاکہ انہیں ایک اور موقع ملے اور وہ عوام کے ووٹوں کے سمندر میں تیرتے ہوئے کسی نہ کسی اسمبلی میں پہنچ جائیں۔ وہ اس ملک کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے الیکشن میں اپنی

شکست کے فوراً بعدکہا تھا کہ وہ 2018 کے الیکشن کو بالکل نہیں مانتے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو انہوں نے الیکشن کے نتائج آنے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بلائی تھی اور سب جماعتوں سے کہا تھا کہ وہ اسمبلیوں میں نہ جائیں اور حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کریں، لیکن کسی پارٹی نے اُ ن کا ساتھ نہ دیا۔وہ واحد لیڈر ہیں جو ببانگ دہل کہتے ہیں کہ وہ اور ان کی پارٹی 2018 کے الیکشن کو نہیں مانتے کیونکہ اس میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بنیادی طور پر ایک سادہ لوح انسان ہیں۔ ان کے ایک پرانے دوست سید پرویز قندھاری میرے ساتھ ایک ضلع میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رہے ہیں وہ ان کی سادہ لوحی اور خلوص کے کئی واقعات سنایا کرتے تھے۔ آپ نے خود ملاحظہ کیا ہوگا کہ ابھی ماضی قریب میں اپوزیشن جماعتوں نے ان کے ساتھ کیا کیا جب وہ اپنے پورے لائو لشکر کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے کئی دنوںتک سخت سردی میں اسلام آباد میں پڑائو رکھا لیکن کسی سیاسی جماعت نے ان کا ساتھ نہ دیا جس وجہ سے وہ انتہائی بد دل ہوئے، اور سخت مایوسی میں انھیں واپس جانا پڑا۔ انھوں نے حال ہی میں اس دکھ کا اظہار میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری دونوں سے کیا۔سچ پوچھیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں جماعتوں کا مطمع نظر صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی طریقہ سے ان کی جانیں کرپشن کیسز سے چھوٹ جائیں۔ آپ نے ابھی ملاحظہ کیا ہوگا کہ چند دن پہلے جب موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے سلسلے میں قانون سازی کے لیے اپو زیشن سے رابطہ کیا تو اپوزیشن نے اس قانون سازی کے ساتھ نیب قوانین میں ترامیم کو منسلک کر دیا اور نیب کے سلسلے میں ایسی ترامیم کا مسودہ دے دیا کہ اگر انہیں پارلیمنٹ منظور کر لے تو نیب ہی بے سود ہو جاتی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں نہیں چاہتیں کہ موجودہ نظام لپیٹ دیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کیوں چاہے گا کہ اُن کی دہائیوں سے قائم صوبہ سندھ کی حکومت جاتی رہے جبکہ ابھی پورے تین سال پڑے ہیں۔انہیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ اب نئے الیکشن ان کے لیے اتنے آسان نہیں ہونگے۔ بلاول بھٹو زرداری جو آج کل مختلف پریس کانفرنسز کرکے اور چیخ و پکار کرکے اپنے ایک فعال سیاستدا ن ہونے کی تصویر پیش کر رہے ہیں وہ صرف ایک لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہے ۔وہ کونسا ایک سیاسی ورکر کے طور پر مختلف ادوار میں سیاسی جد و جہد اور مختلف بحرانوں سے گزر کر سیاسی لیڈر بنے ہیں۔ یہ بات پورے پاکستان پر روز روشن کی طرح واضح کہ وہ ایک وصیت کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں۔اُن کے والد چونکہ بہت تجربہ کار اور جہاندیدہ سیاستدان ہیں اس لیے انھوں نے اپنے جانشین کو سیاست کے میدان میں پریکٹس کے لیے اتارا ہو ا ہے جیسے کوئی بڑا کرکٹر اپنے جوان بیٹے کو کرکٹ کی فیلڈ میں اتارتا ہے تاکہ اسے تجربہ ہوکہ کیسے کسی لوز (loose ) بال پر چھکا مارتے ہیں اور کیسے گگلی کرائی جاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب وہ پریس کانفرنس کرتے ہیں تو ان کے خاندان کے پرانے وفادار جو بلاول کی والدہ کی پریس کانفرنسز arrange and manage کرتے تھے یعنی سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر اپنا رول ادا کر رہے ہوتے ہیں۔سچ پوچھیں جب کبھی اپنے بزرگ سیاستدانوں کو جن کی زندگیاں سیاست میں ہی گزر گئیں اپنے اس نا تجربہ کار چئیرمین کے پیچھے ہاتھ باندھے ہوئے چلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اپنی قوم سے باندھی سب امیدیں دم توڑتی نظر آتی ہیں۔خیر دو دن پہلے میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات میں یہی طے پایا کہ موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنے کے معاملہ کو تمام اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے سامنے رکھا جائیگا اور جو پالیسی رہبر کمیٹی مرتب کرے گی اسے برائے منظوری اے پی سی کے سامنے رکھا جائیگا۔اے پی سی (APC ) کی منظوری کے بعد عمران خان کی حکومت کو ختم کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد شروع ہو جائیگا۔ان دونوں رہنماوں کی اس سلسلے میں سنجیدگی کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ وہیں یعنی ملاقات کے اختتام پر صحافیوں کے سامنے اس انقلاب کو برپا کرنے کی ذمہ داری بلاول بھٹو زرداری شہباز شریف پر ڈال رہے تھے اور شہباز شریف کہہ رہے تھے کہ یہ بوجھ بلاول بھٹو زرداری کے جوان کندھوں پر ڈالیں گے۔نہیں معلوم یہ اپوزیشن لیڈران عمران خان کی حکومت کو گرا سکتے ہیں کہ نہیں لیکن روف کلاسرا کی ایک بات قرین قیاس لگتی ہے کہ اپنی حکومت کو گرانے کے لیے خود عمران خان اور ان کی ٹیم ہی کافی ہے ۔لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کی ٹیم اور عمران خود نہایت ہی نالائق اور نا اہل لوگ ہیں ۔ یہ بات کافی حد تک صحیح بھی لگتی ہے لیکن مجھے تو اس ملک کی اپوزیشن بھی خاصی نالائق اور نا اہل لگتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ اس ملک کے سیاستدان صرف حکومت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیںاور اقربا پروری و لوٹ کھسوٹ ان کا خاصا ہے۔عمران خان کی حکومت اگر اپنی مدت پوری کیے بغیر چلی جاتی ہے تو اس میں عوام کو کوئی نقصان نہیں ہے کیونکہ ان کی حکومت کے دوران لوگ پریشان حال ہیں۔ سچ پوچھیں میں تو چاہتا ہوں کہ اس ملک میں حکومتی دورانیہ ہی صرف دو سال ہونا چاہیے۔


ای پیپر