مطالعے اور کتابوں کی دُنیا…!
31 جولائی 2020 (21:02) 2020-07-31

یہ اتفاق کی بات ہے کہ ابھی دو ہفتے بعد جب 14اگست کو ہم اپنا 73واں یومِ آزادی منانے والے ہیں، میری نظر سے دو ایسے مضامین گزرے ہیں جن میں تحریکِ پاکستان ، قراردادِ پاکستان ، قراردادِ دہلی اور قیام ِ پاکستان سمیت پاکستان کی تاریخ کے ابتدائی ایک آدھ عشرے کے بارے میں بڑی قیمتی اور قابلِ ذکر معلومات شامل ہیں۔ موقر جریدے ماہنامہ "اُردو ڈائجسٹ" لاہور کے ایک پُرانے شمارے )دسمبر 2000ء میں چھپنے والے مشرقی پاکستان نمبر ) کی ورق گردانی کر رہا تھا تو اس میں چار پانچ عشرے قبل کے نامور صحافی محمد بدر منیر جو طویل عرصے تک لاہور سے نکلنے والے اُس دور کے معروف اُردو اخبار روزنامہ "امروز" کے نمائندہ خصوصی کے طور پر ڈھاکہ میں مقیم رہے کے تحریر کردہ دو مضامین پڑھنے کو ملے۔ یہ مضامین تحریک ِ آزادی اور تحریک پاکستان کے دو نامور بنگالی مشاہیر شیرِ بنگال مولوی ابو القاسم فضل الحق اور حسین شہید سہروردی کے بارے میں ہیں۔ یہ مضامین پہلے بھی شاید میں نے پڑھے ہوں لیکن ان کے مندرجات اور متن میرے ذہن کے نہاں خانے میں پوری طرح موجود نہیں تھے۔

ابو القاسم مولوی فضل الحق جو شیرِ بنگال کے لقب سے پہچانے جاتے ہیں، وہ شخصیت ہیں جنہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ منٹو پارک لاہور میں مشہورِ عالم قراردادِ لاہور جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا پیش کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد مولوی فضل الحق پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن، مشرقی پاکستان کے وزیرِ اعلیٰ و گورنر اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ اور وزیرِ تعلیم رہے۔ حسین شہید سہُروردی بھی تحریک پاکستان کے نامور راہنما تھے۔ بنگال مسلم لیگ کے سیکرٹری کی حیثیت سے مسلم لیگ کی تنظیم نو کے سلسلہ میں دن رات کام کیا۔ اُن کی کوششوں اور ان کی زیرِ سرکردگی چلائی گئی بھرپور انتخابی مہم کے نتیجے میں 1945-46ء کے عام انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو بنگال میں زبردست کامیابی ملی اور وہ دستور ساز اسمبلی کی کل 6 کی 6 مسلم نشستوں اور صوبائی اسمبلی کی کل 119نشستوں میں سے 112 پر کامیاب رہی۔ حسین شہید سہروردی متحدہ بنگال کے وزیرِ اعظم بنے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد 50کی دہائی کے برسوں میں پاکستان کے وزیرِ قانون اور بعد میں وزیرِ اعظم بھی رہے۔

1956ء کے دستور کی تیاری اور منظوری میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ حسین شہید سُہروردی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے 1945-46ء کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے دستور ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے کنوینشن منعقدہ دہلی میں قراردادِ لاہور (قراردادِ پاکستان) میں انتہائی اہم ترمیم منظور کروائی جس کی رو سے کہا گیا کہ مسلمانانِ ہند برصغیر کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دو آزاد مملکتوں کی بجائے ایک ہی مملکت (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حسین شہید سُہروردی مرحوم کے بارے میں اور بھی کئی اہم باتوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے لیکن واپس محمد بدر منیر کے لکھے ہوئے مضامین کی طرف آتے ہیں۔

یہ دونوں مضامین (مولوی ابو القاسم فضل الحق اور حُسین شہید سُہروردی) پاکستان کی تاریخ کی ابتدائی برسوں (1947تا1960ء) کے حوالے سے بہت اہم اور قابلِ قدر معلومات سمیٹے ہوئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی کچھ دن بعد جب 14اگست کو ہم اپنا 73واں یومِ آزادی منانے والے ہیں ، یہ معلومات جو زیادہ تر تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان کے ابتدائی برسوں کے بارے میں ہیں قارئین تک ضرور پہنچنی چاہئے۔

؎گاہے گاہے بازخواں ایں قصہ پارینہ را۔ مطالعے اور کتابوں کی دُنیا کے حوالے سے کالموں کے سلسلے کے آئندہ کالموں میں انشاء اللہ انہیں معلومات اور ان مشاہیر کے تذکرے کو موضوع بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں حسین شہید سُہروردی مرحوم کی مسلم لیگ کے منتخب نمائندوں کے آل انڈیا کنوینشن منعقدہ دہلی میں قراردادِ لاہور میں ترمیم کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد کے اقتباسات سے آغاز کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ اس لیے ضروری ہے کہ ان سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ برصغیر جنوبی ایشیا ء کے مسلمانوں کے اپنے لیے الگ مملکت کے قیام کے مطالبے کی بنیادصریحاً اور صریحاً ایسی مملکت کا قیام تھا جہاں دینِ اسلام کے لابدی اور سنہری اُصولوں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں آئین و قانون کا نفاذ ہی نہ ہو بلکہ مملکت کے امور بھی اس کے مطابق چلائے جائیں۔ یہ جو بعض حلقوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ "نظریہ پاکستان" کی اصطلاح بعد کی گھڑی ہوئی ہے اور تحریک پاکستان کے دوران اس کا کبھی بھی ذکر نہیں ہوا۔ حسین شہید سُہروردی کی قراردادِ دہلی پر کی جانے والی تقریر سے اس کی بھی نفی ہوتی ہے۔ اس طویل تعارفی تمہید جو ضروری تھی کے بعد قراردادِ لاہورمیں ترمیم کے لیے کی جانے والی حسین شہید سہروردی کی تقریر )ترمیم(کے اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں لیکن پہلے مسلم لیگ کے آل انڈیا کنوینشن کے بارے میں مسلمانانِ ہند کے جوش و جذبے کا مختصر حوالہ دیتے ہیں۔

۴۵۔۴۶ء کے عام انتخابات میں فقید المثال کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام ارکان کو دہلی میں طلب کر لیا گیا۔ اس کنونشن کو تاریخی بنانے کے لیے کلکتہ سے ایک اسپیشل ٹرین دہلی روانہ ہوئی جسے ـ"پاکستان میل" کا نام دیا گیا جس کے انجن پر مسلم لیگ کا پرچم لہرارہا تھا اور اس میں بنگال سے منتخب تمام ارکان اسمبلی سوار تھے۔ یہ ٹرین کلکتہ اور دہلی کے درمیان ہر بڑے اسٹیشن پر رکتی رہی اور مسلمانوں نے اس کا "زندہ باد" کے نعروں سے استقبال کیا۔ قرارداد لاہور سے قرارداد دہلی ۱۹۴۶ء تک کا سفر ایک لازوال سفر تھا جس میں ہر قدم پر اس قوم کو فتح حاصل ہوئی تھی اور اس تاریخ ساز سفر نے برصغیر کے طول و عرض میں آباد مسلمانوں کو لسانی، معاشرتی، ثقافتی اختلافات کے باوجود ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا تھا۔ کنونشن کا ما حاصل وہ قرارداد تھی جسے "قرارداد دہلی" کا نام دیا گیا۔ اس میں پاکستان کا لفظ پہلی بار شامل کیا گیا۔ قائداعظم کی اجازت سے بنگال اسمبلی میں مسلم لیگ پارلیمنٹری پارٹی کے رہنما اور متحدہ بنگال کے وزیرِ اعظم حسین شہید سروردی نے قرارداد پیش کی۔ جس میں کہا گیا کہ ـ

"ہر گاہ اس وسیع برصغیر میں دس کروڑ مسلمانان ہند ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جو ان کے ہر شعبہ ء زندگی (سیاسی، معاشرتی، تعلیمی، ثقافتی و اقتصادی) پر محیط ہے اور جو محض روحانی نظریات اور عبادات و رسوم تک محدودنہیں ہے اور جو ہندو فلسفہ سے بالکل مختلف اور ممتاز و نمایاں ہے۔ ہندو دھرم اور فلسفے نے ہزاروں برس سے ذات پات کے نظام کو برقرار رکھا ہے، جس کے نتیجے میں چھ کروڑ انسانوں کو ذلیل اور حقیر قرار دے کر اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ جس نے انسانوں کے درمیان غیر فطری دیواریں قائم کر دی ہیں۔ جس نے اس ملک کے باشندوں کی بہت بڑی تعداد پر اقتصادی اور معاشرتی بے انصافیاں مسلط کر رکھی ہیں۔ جس سے مسلمانوں کے علاوہ ، عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کو یہ خدشہ ہو گیا ہے کہ کہیں انھیں بھی معاشی اور معاشرتی طور پر ایسی ہی غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور نہ کر دیا جائے جس سے انہیں کبھی بھی نجات نہ مل سکے"۔ (جاری ہے)


ای پیپر