بلیو اکا نو می اور ز مینی حقا ئق
31 جولائی 2020 (12:06) 2020-07-31

مو ضو ع کے اعتبا ر سے آ ج کے کا لم پہ با ت کر نے سے پہلے یہ سمجھنا ضر روی ہے کہ بلیو اکا نو می سے کیا مرا د ہے۔ تو صا حبو معا شیا ت کی وہ شا خ جس کا تعلق سمند ری ذ رائع سے ہو ، بلیو اکا نو می کہلا تی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے 2020ء کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر بندرگاہ سے جڑے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنائی جائے۔ اپنی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ مستقبل میں ترقی اور خوش حالی کی ضامن ہوگی۔بے شک وز یرِ اعظم کی نیت پہ شک کر نا ایک انتہا ئی نا منا سب با ت ہو گی۔ تا ہم ہم ان زمینی حقائق سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ تاحال موجودہ حکومت ایک واضح سمت کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے۔ قوم ایک اقتصادی سونامی کا انتظار کرتی رہی مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر تاحال نہیں ہوسکا۔ دوسری طرف کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ہماری ملکی معیشت پر جو منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ان کے تناظر میں رواں سال کو بلیو اکانومی ایئر قرار دینا اور مثبت نتائج حاصل کرنے کی بات کرنا بعید از قیاس ہے۔ بلاشبہ گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبے گیم چینجر ضرور ہیں لیکن یہ سب کچھ دشمن کو ایک آنکھ نہیں بھارہا ہے، اسی لیے وہ ہمارے خلاف سازشوں کے جال بن چکا ہے۔ ہم اگر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بات کریں تو کسے اس حقیقت سے انکار ہے کہ اس فرد نے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے انتہائی مذموم کام سرانجام دیئے ہیں۔ وہ بھارتی دہشت گرد ہے۔ کلبھوشن یادیو کو سزا کے خلاف اپیل کا حق دینے سے متعلق آرڈیننس کے اجرا پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور واک آئوٹ کیا۔ بلاول بھٹو نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے دہشت گردوں کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ جو پائلٹ پاکستان پر حملہ کرنے آیا اسے چائے پلائی اور چھوڑ دیا، تازہ ترین این آر او کلبھوشن کو دیا گیا۔ سینیٹ میں معاملہ اٹھا تو راتوں رات آرڈیننس جاری کردیا۔ جبکہ دوسری جانب حکومتی بنچوں سے بھی اپوزیشن جماعتوں پر شدید الزامات عائد کیے گئے۔ تنقید کا سلسلہ جاری رہا، کوئی سٹریٹی جیکل بات نہیں ہوئی۔ ایک شور برپا کیا گیا۔ اختلاف رائے کو دانش مند حضرات زندگی کا حسن قرار دیتے ہیں لیکن قومی سیاست میں کچھ ایسا چلن چلا ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ یہ ساری صورتحال افسوسناک ہے ، کیونکہ کلبھوشن یادیو نے مملکت خداداد پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ وہ ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے لیکن ہمارا قومی موقف اور بیانیہ تضاد کا شکار ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ اس طرح دنیا بھر میں کیا پیغام جائے گا۔ ہماری تمام سیاسی جماعتوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے کلبھوشن یادیو کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل اور بیانیہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ز مینی حقا ئق ہی کے ز مر ے میں یہ بیا ن کر نا بھی

ضرو ری ہے کہ چار روز پہلے خیبرپختونخواہ کے علاقے پارا چنار میں دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں خاتون اور بچے سمیت سترہ افراد زخمی ہوگئے۔ طوری بازار میں دھماکے کے نتیجے میں اطراف میں موجود املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ بتایاگیا ہے کہ آئی ای ڈی کے ذریعے دھماکہ کیا گیا جسے سبزی کی ریڑھی میں نصب کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ درحقیقت دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات باعث تشویش ہیں۔ دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ البتہ ز مینی حقا ئق ہی کے ز مر ے میں یہ تاثر امید افزا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلائو میں واضح کمی آرہی ہے۔ مگر دوسری جانب ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق کراچی میں عیدالاضحی 2 خطرناک وائرس کے سائے میں منائی جائے گی۔ ان میں کووڈ 19 اور کانگو وائرس شامل ہیں۔ کووڈ 19 فروری سے جبکہ کانگو وائرس گزشتہ بیس برس سے پاکستان میں ہر سال مسلسل رپورٹ ہورہا ہے، کانگو وائرس صرف عیدالاضحی کے موقع پر سامنے آتا ہے۔ عید کے موقع پر ملک بھر میں جانوروں کی بڑے پیمانے پر انسان کے جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس مرض میں تیز بخار، پلیٹ لیٹس کی شدید کمی ہوجاتی ہے۔ کانگو وائرس جنگلی اور پالتو جانوروں پر پلنے والے چیچڑ (ٹک) کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہاں پر اس بات کو دہرانا ضروری ہے کہ کورونا وائرس کا تدارک صرف احتیاط سے ممکن ہے۔ سماجی سطح پر پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آرہا ہے کہ باپ بیٹے سے، ماںبیٹی سے، بہن بھائی سے نہیں مل پارہے ہیں، ایک عجیب سے فضا پیدا ہوگئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس بولنے اور سانس لینے سے بھی پھیلتا ہے۔ اس صورتحال میں ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ احتیاط سے خود کو اور اپنے پیاروں کو بھی محفوظ رکھے۔ دوسری جانب کانگو وائرس کی ابھی تک ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے، اس لیے احتیاط ہی اس کا واحد علاج ہے۔ ہمیں عید قربان کے موقعے پر قطعاً احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، اسی میں ہماری بھلائی اور حفاظت کا راز پوشیدہ ہے۔ حکومت چاہے لاکھ تسلی دے لیکن تاحال بحیثیت قوم خطرے میں ہیں۔ کورونا وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ یہاں پر ایک اہم بات دہرانا ضروری ہے کہ اس وبا کے حوالے سے بھی ہماری سیاسی جماعتیں ایک مشترکہ موقف اور لائحہ عمل پر متفق نہیں ہوسکیں۔ مکالمہ مسائل کے حل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت مکالمے کی اہمیت و افادیت کو نظرانداز کرکے الزامات کی سیاست میں مشغول ہے اس سے بڑا المیہ کیاہوسکتا ہے۔ ارباب اختیار کو کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی میں بھی بڑے بریک تھرو کی ضرورت ہے۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ کورونا کی وبا نے دنیا بھر کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ز مینی حقا ئق کے حوا لے سے آ ج کے کا لم کا آ خری حصہ یہ کہ وزیراعظم عمران خان نے شعبہ تعمیرات کو فعال کرنے کے لیے مزید مراعات دینے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے شعبہ تعمیرات سے وابستہ افراط میں ایک امید کی کرن پید اہوئی ہے۔ اس صنعت کے ساتھ کم و بیش مزید پچاس صنعتیں جڑی ہیں جن کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں گے۔ اسی تناظر میں ان کی زیرصدارت نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی برائے ہائوسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا اجلاس ہوا، جس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت جلد از جلد مکمل کی جائے تاکہ اتھارٹی اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کرسکے۔ بینکوں کی جانب سے مارگیج کی سہولت کو فروغ دینے کے حوالے سے وزیراعظم نے وزارتِ خزانہ اور سٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ حکومت کی جانب سے بینکوں کو سبسڈی فراہم کرنے کے عمل کو آسان ترین بنایا جائے۔ یہاںپر میں پھر ز مینی حقا ئق کی با ت کر وں کہ اس سے قبل بھی وزیراعظم پاکستان بچائو سرٹیفکیٹس، ایمنسٹی اسکیم، غیر ملکی تارکین وطن سے فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم لائے، ایف بی آر کے چار چیئرمین تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ سب مہمات ناکامی سے دوچار ہوچکی ہیں۔ کوئی بھی ٹھوس پالیسی ایسی تاحال وجود میں نہیں آسکی ہے جو ملکی معیشت کو سہارا دے سکے۔ یہ سوچنا حکومت کا کام ہے کہ آخر اس کی پالیسیوں میں کیا خامیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے وہ اقتصادی اور معاشی بحران سے ملک کو نکال نہیں پارہی ہے۔


ای پیپر