کیا رافیل ، جے ایف تھنڈر کا مقابلہ کر سکتا ہے
31 جولائی 2020 (12:05) 2020-07-31

گزشتہ برس بھارتی وزیر اعظم نے اپنے دو مگ پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہ کروا کر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست نے بھارت کا بہت نقصان کیا۔ آج رافیل طیارے ہوتے تو نتیجہ مختلف ہوتا۔یوں اپنی ناکامی کا ملبہ رافیل طیارے نہ ہونے پر ڈال کر ایک طرف تو اپنی فضائیہ کی نا اہلی چھپانے کی کوشش کی تو دوسری طرف بھارت عوام اور اپوزیشن کو رافیل طیاروں کی اہمیت بتائی۔ مودی کا یہ کہنا کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں نتیجہ مختلف ہوتا، صرف طفل تسلی ہے۔ کیونکہ رافیل کی بجائے کوئی سے بھی طیارے ہوتے تو نتیجہ یہی ہونا تھا جو ہوا ہے۔ کیونکہ پاک فوج کے ہتھیار وں سے زیادہ جذبے لڑتے ہیں۔

مودی کا کہنا تھا کہ ہمیں فضائی حملے میں شکست اس لئے ہوئی کہ ہمارے پاس رافیل نہ تھے۔ آج سارا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ رافیل بہت ضروری ہیں۔ رافیل پر پہلے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔تو مودی صاحب !جہاںتک رافیل طیاروں کا تعلق ہے تو اس کے بھارتی فضائیہ میں شامل نہ ہونے کی وجہ بھی تو آپ ہی ہیں ۔ بھارت نے فرانس سے 35 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ یہ معاہدہ 7 اعشاریہ 8 ارب یورو میں طے پایا مگر اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے رافیل ڈیل میں کمیشن کھایا ہے۔ اس ضمن میں ثبوت کے طورپر فرانس کے سابق صدر کا بیان کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ فرانس کے سابق صدر فرانسوآ اولاند نے انکشاف کیا کہ بھارت نے 11 کھرب روپے مالیت کے 36 رافیل لڑاکا طیارے کی خریداری کیلئے مودی سرکار نے کمیشن طلب کیا تھا۔بھارتی حکومت پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے صرف 36 طیاروں کا سودا کیا ہے وہ بھی تین گنا زیادہ قیمت پر۔ حالانکہ ضرورت تو 126 طیاروں کی تھی۔ اگر36 طیاروں کی خریداری پر کمیشن کا یہ حال ہے تو 126 طیاروں کی خریداری پر کیا ہوگا۔

آخر کار گزشتہ روز 5 رافیل طیارے بھارتی سرزمین پر پہنچ ہی گئے۔بھارتی ریاست ہریانہ کی امبالا ایئر بیس پر پہنچنے والے جنگی طیاروں کو واٹر کینن گارڈ آف آنر دیا گیا۔ بھارتی سرکار پر ان پانچ طیاروں کا خمار اتنا چڑھا کہ ان کے وزیر دفاع نے بڑھکیں مارنا شروع کر دیں۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ رافیل جنگی طیاروں کی آمد سے ہماری عسکری تاریخ میں نیا دور شروع ہو گیا۔ نئے جنگی طیاروں سے بھارتی فضائیہ مزید مضبوط ہوگی اور ملک کے خلاف کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرسکے گی۔ جو بھارتی فضائیہ میں رافیل طیاروں کی شمولیت سے پریشان ہیں یا تنقید کرتے ہیں تو یہ وہ ہیں جو ہماری سرحدی سالمیت کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔

رافیل حاصل کر کے بھارتی فضائیہ کو علاقہ میں کوئی برتری حاصل نہیں ہوئی بلکہ یہ اس کی ضرورت تھی کہ جدید طیارے خریدے جائیں۔ کیونکہ موجودہ کوئی بھی بھارتی طیارہ پاک فضائیہ کے مقابلے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا جس کا ثبوت 27 فروری کو لڑائی میں زمیں بوس ہونے والے دو طیاروں کے علاوہ فنی خرابی

کے باعث گرنے والے اس ایک سال کے اندر اندر ہی بھارت کے تقریباً 15 طیارے بھی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا یہ بیان کہ جتنے پرانے طیارے ہم اڑا رہے اتنی پرانی کار بھی کوئی نہیں چلاتا۔

کیا رافیل بھارتی امیدوں پر پورا اتر سکتا ہے۔ کیا یہ پاکستان کے فضائی دفاع کو خطرے سے دوچار کر سکتا۔ کیا بھارت کا مقصد پورا ہو رہا ہے۔مستقل قریب میں پاکستان کے فضائی دفاع کے جو ممکنہ اہداف ہیں،ان کے مقابلے میں رافیل کہیں نظر بھی نہیں آتا۔بھارت کو رافیل 2022 میں ملیں گے۔ یہ معاہدہ کر کے بھارت نے پاکستان کو موقع دے دیا ہے کہ بھارت کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر سکے۔پاکستان جے ایف تھنڈرخود بنا رہا ہے۔ بلاک تھری جو کہ اگلے سال ہمارے پاس ہوگا۔بلاک تھری رافیل کی ٹکر کے لیے ہی بنایا جا رہا ہے۔

رافیل میں میزائل سسٹم بی وی آر(MBDA) استعمال ہوا ہے جس کی رینج 150 کلومیٹر تک ہے جبکہ تھنڈر بلاک تھری میزائل ٹیکنالوجی PL-15 استعمال ہو رہی ہے جس کی رینج 300 کلومیٹر تک اور یہ میک 4 سے 6 تک کا وار ہیڈ لے جا سکتا لہذا جے ایف 17 تھنڈر کی صورت میں بھارت ایک بڑے سرپرائز سے دوچار ہونے والا ہے۔

چائنہ دنیا میں تیسرا ملک ہے جس کے پاس ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ موجود ہے جو پاکستان خرید سکتا ہے یہ سٹیلتھ (ریڈار پر نظر نہ آنے والا) ٹیکنالوجی کا حامل جیٹ ہے۔ اگر پاکستان رافیل کے مقابلے میں چین سے جے 20 خرید لے تو کہاں گیا بھارتی فضائی دفاع۔ یہاں پر مودی کے گھٹنوں میں موجود عقل مزید واضح ہو جاتی ہے کہ جب پاکستان خود سے ففتھ جنریشن فائٹر پر کام کر رہا ااس وقت بھی یہ فورتھ جنریشن طیارے کا معاہدہ کر رہے وہ بھی تین سال بعد کا۔

بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے کی کھیپ کا پہلا طیارہ حاصل ہونے کے بعد بھارتی فضائیہ کو پڑوسی ملک پر سبقت حاصل ہو جائے گی جب کہ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کو ایف 16 طیاروں اور جے ایف 17 تھنڈر جیسے فورتھ جنریشن جہازوں کی وجہ سے اب بھی سبقت حاصل ہے۔ریٹائرڈ ایئر مارشل شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ بھارت کو پاکستان پر عددی برتری حاصل ہے۔ لیکن، معیار کے لحاظ سے پاکستان بہتر ہے۔ پاکستان میں پائلٹس اور دیگر افراد کو جب تربیت دی جاتی ہے تو اْسی وقت بتا دیا جاتا ہے کہ انہیں خود سے بڑی تعداد کے حامل دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘ بھارت کے جہاز کافی پْرانے ہیں۔ ان میں سے کئی کو حادثات کا شکار ہونے کی وجہ سے اڑنے والے تابوت کہا جاتا ہے۔


ای پیپر