میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
31 جولائی 2020 (12:05) 2020-07-31

اِمسال عیدالضحیٰ مختلف انداز سے منائی جائے گی۔ کیوں کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کورونا نے زندگی کا زاویہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ اب اس بات پر گردان کرنے کی کیاضرورت ہے۔ ہاں،چند لوگوں کو ایک دکھ کھائے جا رہا ہے، کہ وزیرِ اعظم صاحب نے کثیر چھٹیوں کا اعلان کیوں نہ کیا۔ اس مرتبہ صرف تین چھٹیاں عنایت فرمائی گئی ہیں۔اور یہ رنج ہر اُس شخص کو قلبی رنجیدہ ہونے پر مجبور کر رہا ہے، جس نے بے شمار تعطیلات کے خواب دل میں سجائے تھے اور یہ بھی تدبیر بنا رکھی تھی کہ چھٹیوں کے بعد آنے والے کاروباری ایام میں بھی مزید چھٹیوں کی کامیاب کوشش کروں گا۔

اگر غور کیا جائے تو ان حالات میں فائدہ مند صرف سرکاری ملازمین ہی رہے ہیں۔ تنخواہیں بر وقت، اوقات ِ کار میں کمی سمیت دیگر سہولیات سے مستفید مذکورہ ملازمین ہی ہوئے ۔ نجی اداروں میں نوکری بچانا سب سے پیچیدہ آرٹ ہے۔ حالات نے اس طرح سے کروٹ بدلی ہے اور ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے ہم اتنے قابل نہیں تھے کہ اپنا نظام فوری احتیاطی زاویوں کے مطابق ڈھال لیں۔ رہی بات عوام الناس کی تو اب متعدد تحاریر میں ڈنڈے کے پیر جیسے محاورے استعمال ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

ابتدائی سطور میں جیسا کہ ہم بات تعطیلات کی کر رہے تھے۔ تو اس حوالے سے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے وزیرِ اعظم صاحب سے چھٹیوں میں توسیع کی اپیل کر دی ہے۔ ان کا موقف ایک لحاظ سے بجا ہے۔ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ

عید کے تیسرے روز قربانی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ ان کو اس عید پر مشکلات درپیش ہوں گی۔ اس لئے تیسرے رو زکی چھٹی ضروری ہے۔ اپیل پر غور کریں تو قابل ِ قبول ہے۔ لیکن عوامی عادات و خصائل پر توجہ دیں تو خاکسار کو قطعی یہ تحریر کرنے میں قباحت محسوس نہ ہوگی کہ ہم کاہلی و سستی کے پیکر، ہڈ حرامی کی اعلی مثال اور اجتماعی و معاشرتی فرائض سے آنکھ مچولی کھیلنے میں اعلیٰ و ارفع ہیں۔ مفتی منیب الرحمن نے مذہبی پیرائے میں اس اپیل کو بہتر سمجھا ہے۔ تا کہ عوام کے لئے عید ِ ایثار کے اصل فرض کی ادائیگی میں کوئی خلل نہ آئے۔ مگر مفتی صاحب شاید عوامی رویہ بھول گئے ہیں۔ ہم نے تو کورونائی ایام میں بھی ہر طرح کی سستی برتی ہے۔ اور وہ فرائص جن کی ادائیگی مشکل حالات میں بھی ممکن ہے، ان سے بھی آنکھ اوجھل کی ہے۔تو پھر ہم یہ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ عید کی چھٹیوں میں توسیع پر ہم کوئی اچھا عمل کر لیں گے؟

ایک اور خبر عید کے حوالے سے دلچسپ معلوم ہوئی۔ یہ خبر پُرکشش دیس دبئی سے موصول ہوئی۔ وہاں پر کورونا وائرس سے بچائو کے لئے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ایک عمدہ قانون بھی لاگو کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی شخص اگر دعوت کا انعقاد کرے گا ، اسے دس ہزار درہم جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور جو دعوت میں شرکت کرے گا اسے پانچ ہزاردرہم جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔اس خبر کو پڑھتے ہی ایک تدبیر ذہن میں آئی۔ جیسا کہ ہماری پیاری، راج دُلاری حکومت نے سوائے سانس لینے کے ہر شے پر ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ تو عید پر بار بی کیو یا دعوتیں منعقد کرنے والوں پر بھی جرمانہ عائد کر کے قومی خزانے کو بسیار خوری کروائی جا سکتی ہے۔بس اس جرمانے کا پیمانہ نہ رکھا جائے۔ کیوں کہ عید پر دعوتوں کی روایت امرا بھی اپناتے ہیں اور غربا بھی۔تو امیر گھرانوں کو زیادہ جرمانہ کیا جائے اور غریبوں کو کچھ رعایت تو ملنی چاہئیے۔

خیر یہ باتیں ازراہِ تفنن تحریر کی ہیں۔ یہ باتیں تو قارئین کا دل بہلانے کے لئے کی ہیں۔ اب تو باتیں ہی بچتی ہیں دل کی تسکین کو۔ویسے عید پر دل کی تسکین اختیار سے زائد خوراک کے تناول فرمانے سے ہوتی ہے۔ عیدِایثار پر جانوروں کی قربانی تو دیتے ہیں، لیکن خوراک میں کمی کی قربانی ہم نہیں دیتے۔ کاش !اس معاملے پر بھی حکومت نوٹس لے۔ وزیر ِ اعظم صاحب بسیار خوری کی روک تھام پر اپنا معاون ِ خصوصی منتخب کریں ۔ اور پھر اس حوالے سے دوہری توند والے اشخاص کو خوراک پر مبنی اثاثے ڈکلئیر کرنے کو کہا جائے۔جس کے پیٹ میں کیڑے ہوں، ظاہری طور پر دُبلا محسوس ہوتا ہو۔ اس سے استعفی لے لیا جائے۔ (یہ وقت بھی آ جانا ہے)۔

کورونا وائرس نے طرز ِ زندگی کو مکمل تبدیل کر دیا ہے۔لیکن ہم ابھی تک اپنی عادات تبدیل نہ کر سکے۔عید پر دعوتوں کے انعقاد کو ہمیشہ معمول کی سرگرمی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اس بار یہ سرگرمی بہتر ثابت نہ ہوگی۔اگر اس بار ہم دعوتوں کو منسوخ کر دیں ،اس کے طریقہ ِ کارمیں تبدیلی لے آئیں، یا ہم کثیر تعداد میں افراد کو دعوت دینے کی بجائے مختصر کٹھ منعقد کریں تو یہ عمل ہماری زندگی کو آسان بنا سکتا ہے۔ رہی بات بڑی عید پر ہونے والی بسیار خوری کی تو ڈاکٹرز بارہا یہ فرما چکے ہیں کہ زیادہ کھانا صحت کے لئے نقصان دہ ہے ،لیکن ہم اس فرمان پر حبیب جالب مرحوم کی نظم دستور کا شعر داغ دیتے ہیں، اس دستور کو صبح ِ بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ اس معاملے میں ہم سب کے دل نرم ہو جائیں۔ آمین۔


ای پیپر