گراؤ، گھراؤ کی سیاست
31 جولائی 2020 (12:04) 2020-07-31

گزشتہ روز شہباز شریف، بلاول زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی حکومت خلاف ایجی ٹیشن کے حوالے سے لاہور میں مشاورت کی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے وطنِ عزیز کی سیاست میں اس کے مظاہرے ہم ایک عرصہ سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور شائد ہی کوئی اپوزیشن ہو جس نے حکومت کی کردار کشی کے لئے یہ حربہ استعمال نہ کیا ہو بلکہ یہ جو لوگ اب حکومت گرانے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں ماضی میں یہ بھی ایک دوسرے کی حکومت کے خلاف یہی حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ چونکہ یہ جماعتیں اب حکومت سے باہر ہیں اس لئے پرانے داؤ پیچ آزمانے پر میدان میں اتر آئیں تو اس میں حیرت اور تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب اس نوع کے طرزِ عمل سے ماضی میں کچھ نہیں مل سکا تو مستقبل میں کیا حاصل ہو گا، الٹا جمہوریت کو ہی نقصان پہنچے گا ۔ اس صورتحال میں کیا یہ زیادہ دانشمندانہ راستہ نہیں ہو گا کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے عزائم پر مشتمل اس تگ و تاز سے جان چھڑائی جائے کیونکہ جب اس شغلِ بیکار سے نفرتوں، کدورتوں اور تلخیوں میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا تو پھر ان رویوں سے چمٹے رہنے کو کسی بھی طرح کی دانشمندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خاص طور پر ان ایام میں جب پاکستان سمیت پوری دنیا کورونا وائرس سے نبرد آزما ہے، تمام ترقیاتی کام اور منصوبے معرضِ التواء میں ہیں اور زراعت، صنعت و تجارت کی دگر گونی سے لے کر عوام کے روزمرہ کے معمولات تک سب کچھ تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے۔ بے روزگاری، افراطِ زر اور مہنگائی نے بھی خوفناک صورت اختیار کر لی ہے کہ اس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے، بیرونی محاذپر وطنِ عزیز کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں کیا عوام سمیت مقتدر حلقوں کو یہ تاثر نہیں جائے گا کہ سیاست دانوں میں ابھی تک جمہوری رویے پروان نہیں چڑھے ہیں؟

سب سے بڑھ کر اس سے جمہوری ادارے کمزور ہوں گے۔جب کہ اصولی طور پرسیاست دانوں کو جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ وقت کی آواز ہے کہ اگر جمہوری اداروں کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار یہی سیاست دان ہوں گے جو اقتدار کی

کئی کئی انگز کھیل چکے ہیں۔ ملی اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے یہ سیاست دان ایسی کوششیں کر رہے ہیں کہ ادارے کمزور ہوں جیسا کہ اپوزیشن نے نیب کے حوالے سے 35 ترامیم پیش کی ہیں جس کے بارے میں حکومت کا کہنا کہ وہ صرف اپنے آپ کو بچانے کے لئے احتساب کے عمل کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے تو ظاہر ہو رہا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں مستقبل میں بھی کرپشن کا بازار گرم رہے اور کوئی ا ن سیاست دانوں سے باز پرس نہ کر سکے اور ان کے من میں جو آئے وہ کریں۔ ماضی میں جب بھی جمہوری نظام پر شب خون مارا گیا توسیاسی اور عوامی حلقوں نے آنے والے فوجی حکمرانوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جب کہ حالات ک بند گلی تک لانے کی کچھ ذمہ داری اس وقت کے سیاست دانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ جنرل ایوب خان اور ان کے چند ساتھی اقتدار کے طالب تھے لیکن دستور ساز اسمبلی بر طرف کر کے محمد علی بوگرہ کو کابینہ میں فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان کو وزیرِ دفاع کس نے بنایا تھا اور اس وقت کے سب سے بڑے سیاست دان سید حسین شہید سہروردی اس کابینہ میں شامل تھے۔ ایوب خان نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کے پہلے چیف آرگنائزر چودھری خلیق الزماں تھے جنہوں نے 1940ء کی قرار داد کی تائید کی تھی۔ مولوی تمیز الدین، خان فضل القادر چودھری، محمد علی بوگرہ، ابو الہاشم خان جیسے تحریکِ پاکستان اور مسلم لیگ کے قائدین ایوب لیگ میں شامل تھے۔ یہ درست ہے کہ ایوب دور میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان خلیج میں اضافہ ہوا اور مشرقی پاکستان میں ایک گھناؤنی سازش کے تحت نفرتوں کو ہوا دی گئی۔ اگر چہ سقوطِ ڈھاکہ میں بیرونی طاقتوں کا بڑا ہاتھ تھا لیکن وقت کے فوجی آمر نے عوامی مینڈیٹ کو پامال کر کے ملک کے اس حصہ کو الگ کرنے کی تحریک کو تقویت دی۔ حتیٰ کہ سیاست دانوں نے مغربی پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف ایوب خان کا ساتھ دیا۔ ملک کو 1973ء کا متفقہ آئین دینے والے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو حزبِ اختلاف سے تعاون و مفاہمت کے حوالے سے بیانات دیتے رہتے تھے لیکن ان کے بہت سے غیر سیاسی معاملات کی وجہ سے ان کی مخالفت میں اضافہ ہوتا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان قومی اتحاد کی تحریک فوجی جرنیلوں کی وجہ سے ابھر کر آئی ؟اور عوام نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ اگر پلٹ کر دیکھا جائے تو جب نواب زادہ نصراللہ خان نے ذوالفقار علی بھٹو سے کہا تھا کہ معاہدے پر دستخط کر دیں تو اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے تھی۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے نے شب خون مارا تھا، وہ پی این اے اور حکومت کو بٹھا کر معاہدے پر دستخط کروا سکتے تھے لیکن اقتدار تو پھر اقتدار ہے باپ بیٹے کو بھی مدِ مقابل کر دیتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے سامنے تو پی این اے تھی اور اس کے عہدیدار شیروانیاں پہن کر مارشل لاء کی حکومت میں وزراء کے عہدوں پر فائز ہو گئے۔ اس دور میں پیر صاحب پگارہ سمیت جماعتِ اسلامی جنرل ضیاء کے ساتھ رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف تک ہر چھوٹا بڑا سیاسی لیڈر جونیجو لیگ میں تھا یہ سرکاری مسلم لیگ بنائی گئی تھی۔ ضیاء الحق کے طویل دور سے بھی سیاست دانوں نے کوئی عبرت حاصل نہیں کی اور دو دو بار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ برسرِ اقتدار رہیں لیکن ان کے درمیان جمہوری مفاہمت نہیں ہو سکی۔ آپس کی بیاناتی جنگ جاری رہی اور جنرل مشرف کو آگے آنے کا راستہ فراہم کیا گیا۔ اس وقت مبارکباد دینے والوں کی قطار میں چند بڑے سیاست دان بھی شامل تھے۔ اگر اسمبلیوں کے منتخب ارکان ہی سیاہ پٹیاں باندھ کر پارلیمنٹ کے باہر کھڑے ہو جاتے تو دنیا تک پیغام جاتا کہ پاکستان میں جمہوریت اب بھی زندہ ہے۔ لیکن احتجاج کے بجائے ہم خیال ابھر کر سامنے آ گئے۔

اب جب کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ایک ایک باری پوری کر چکی ہیں تو ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان پر لگنے والے الزامات کا عدالتوں میں خندہ پیشانی سے سامنا کریں کہ ایسا طرزِ عمل اختیار نہ کریں جس سے جمہوریت ڈریل ہو۔ اب جب کہ جمہوریت کو قائم ہوئے تقریباً 12سال ہو گئے ہیں اور پاکستان میں تقریباً جمہوری عمل کا یہ لگاتار کافی طویل عرصہ ہے۔ اس میں سب سے اہم یہ ہے کہ حکومت کو گرانے کی کوششوں کو ترک کر کے سب کو جمہوری رویہ اپنانا چاہئے۔ یہ کشمکش دیر تک جاری رہی تو اس کا جو نتیجہ نکلے گا کوئی بھی اس سے بے بہرہ نہیں ہے کیونکہ ہم ماضی میں ایسی صورتحال کا نتیجہ کئی بار دیکھ اور بھگت چکے ہیں۔ لیکن شائد اسی کا نام سیاست ہے جب مخالف پارٹی کمزور نظر آئے تو اس پر وار کر دیا جائے، اس میں چاہے بہت کچھ یا سب کچھ تباہ ہو جائے۔


ای پیپر