یہ ریاست کی ناکامی ہے
31 جولائی 2020 2020-07-31

خاتم النبیین، محبوب رب اللعالمین،سرکار مدینہ، سرور قلب و سینہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی جائے اور وہ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں قابل برداشت ہو، یہ بات سوچی بھی نہیں جا سکتی، یہ بات سمجھی بھی نہیں جا سکتی، اس پر عمل کرنا تو بہت دور کی بات ، ایسا سوچنے اور سمجھنے والا بھی جہنمی ہے، عمل کرنے والا مردود۔ یہ بھی طے علمائے کرام اور مفتیان عظام کی طرف سے طے شدہ ہے کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے۔ یہ دلیل کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی عورت کو نہ صر ف معاف کر دیا بلکہ بیمار ہونے پر اس کے گھر جا کے اس کی عیادت کی تو یہ حق صرف اخلاق کی تکیمل کرنے والی دنیا کی اعلیٰ ترین شخصیت کا تھا کہ وہ جسے چاہے معاف کر دیں۔ قانون کا ایک عام سا طالب علم بھی یہ سمجھتا ہے کہ معافی کا حق ذاتی ہوتا ہے یعنی میں دوسروں سے کی گئی زیادتی پرمیں معاف نہیں کر سکتا اور نہ ہی دوسرے میرے ساتھ کی گئی زیادتی پر معاف کر سکتے ہیں اور یہ معاملہ تو دنیا کی سب سے مقدس، سب سے محترم اور سب سے مقدس ہستی کا ہے، اس میں ہم تم کون ہیں؟

بعض لوگ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی اظہار رائے کے طور پر لیتے ہیں اور اس پر مغرب کی مثالیں پیش کرتے ہیں مگر کیا مغرب میں بھی بہت سارے معاملات ایسے نہیں جہاں رائے کے اظہار پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور یوں بھی میں ہر معاملے میں مغرب کو فالو کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ ہمارا اپنا ملک ہے، ہمارے اپنے معاملات ہیں اور جس طرح مغرب والوں کو اپنے معاملات اپنے فہم اور فراست سے چلانے کا حق ہے اسی طرح ہمیں بھی ہے۔ مغرب کو فالو کرنے والوں سے انہی کے طے کردہ اصولوں پر پوچھ لیتے ہیں کہ ہمارا رب اورہمارا نبی ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، ہمارے لہو میں دوڑتے ہیں، ہم اچھے مسلمان ہوں یا نہ ہوں مگر اپنے مشاہیر اور شعائر کی توہین ہمارے لئے قابل برداشت نہیں ہے اور یہ مغرب کا ہی اصول ہے کہ آپ کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔ جب آپ میری ناک پر اپنی انگلی نہیں لگا سکتے تو آپ میرے دل پر حملہ کیسے کر سکتے ہیں، میرے مذہبی جذبات کیسے مجروع کر سکتے ہیں؟

یہ اصول طے ہو گیا کہ توہین رسالت کسی طور پر قابل قبول نہیں اور یہ بھی ختم نبوت بھی طے شدہ معاملہ ہے۔ اب کسی کو اللہ رب العزت کا نبی ہونے کا دعویٰ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جو یہ کہتا ہے وہ کاذب ہے اور جو یہ کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ سزا کون دے گا اور یہ سوال پہلے سوال سے بالکل مختلف ہے۔پاکستان میں عشروں سے یہ سوال دین سے محبت کرنے والے اور دین سے دشمنی رکھنے والوں کے درمیان اہم رہا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ کوئی بھی اسے برداشت نہ کرے اور جو دیکھے وہ فوری سزا دے اور دوسری رائے یہ ہے کہ کوئی بھی سزا نہ دے ۔اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں نے اس پرقانون سازی کروا لی ہے مگر دوسری طرف وہ ہیں جو اس قانون کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتاہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہو اور کوئی بدبخت جھوٹے الزامات لگا کر اپنے مخالفین کو پھنساتا ہو مگر کیا یہ ہمارے ہاں چوری، ڈاکے اور قتل کے قوانین کا غلط استعمال نہیں ہوتا اور کیا یہ عدالتوں کی ذمے دار ی نہیں کہ وہ سچ تک پہنچیں۔ عدالتوں میں جج صاحبان کی تربیت اور بنیادی ذمے داری یہی ہے۔

یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ہر مقدمے میں بالعموم اور توہین مذہب کے مقدمات میں بالخصوص الزام کے ثابت ہونے سے سزا دینے تک کے میکانزم کو موثر بنائے۔ ہمارے ہاں یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ ایسے مقدمات برس ہا برس چلتے ہیں مگر ان کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ توہین رسالت کے نوے فیصد سے بھی زائد مقدمات میں مخصوص مفادات اور مشکوک روابط کے حامل لوگ ملزم کے حق میں سرگرم ہوجاتے ہیں۔ کیایہ امر عجیب نہیں ہے کہ ہر ملزم کو معصوم اور بے گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسے دوسرے ممالک کی پناہیں اور شہریتیں عطا ہوتی ہیں ۔ حال ہی میں آسیہ ملعونہ کے مقدمے میں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کے حوالے سے جو شکوک و شبہات ظاہر کئے گئے وہ اس معاملے میں اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تما م ملزم ہی بے گناہ ہیں تو سوشل میڈیا پر ایسے پیجز کون چلا رہا ہے۔ توہین مذہب تو ایک بڑی شے ہے جب ایک شخص کسی قتل کے مقدمے میں برس ہا برس سے فیصلہ نہ ہونے پر قانون ہاتھ میں لیتا ہے، تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت کچہری میں ہی پیشی پر آئے ہوئے ملزمان پر فائر کھول دیتا ہے اور لاشوں کے ڈھیر لگا دیتا ہے تو یہ بھی سسٹم پر ہی عدم اعتماد ہوتا ہے، اس کی ہی ناکامی ہوتی ہے۔

میرا افسوس کے ساتھ تجزیہ ہے کہ شائد ہماری پارلیمنٹ اب ان اہم ترین اور حساس ترین معاملات پر بحث اور فیصلوں کے قابل ہی نہیں رہی۔ یہ ناکامی مقننہ کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور عدلیہ کی بھی ہے اور اس میں چوتھے فریق کے طور پر علمائے کرام بھی آتے ہیں۔ کیا ہمارے علمائے کرام اس امر کی حمایت کرسکتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اپنے مخالف نظرئیے اور عقیدے کے حامل کومحض معاملات پر اپنی بصیرت اور اپنی تشریح پر خود ہی سزا دے دے۔ میں نے بطور صحافی یہ معاملات نوے کی دہائی میں دیکھے ہیں جب سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور پھراس کے جواب میں ملی یکجہتی کونسل بنی تھی جس میں تمام مکاتب فکر کے سیاسی وزن رکھنے والے رہنمائے کرام شامل ہوئے تھے، ہماری اجتماعی فکر اور دانش نے انگڑائی لی تھی۔ ملی یکجہتی کونسل نے خطے میں امریکی حملے کے بعد دفاع افغانستان کونسل کی شکل اختیار کر لی تھی اور اس کے بعد متحدہ مجلس عمل کی۔ متحدہ مجلس عمل پر جب ملی اور دینی معاملات کی بجائے سیاسی مفادات حاوی ہوئے تو یہ مجلس نہ یہ متحد رہ سکی اور نہ عمل میں۔

ہمارے ہاں اس بحث کے تین چہرے ہیں، ایک چہرہ وہے جو توہین کو حق قرار دیتا ہے اور ہر توہین کرنے والے کے لئے سرگرم ہوجاتا ہے اور یہ انتہا پسندی کی بری ور مضر شکل ہے اور اسی کا متضاد چہرہ یہ ہے کہ وہ ہر الزام پر بغیر تحقیق نہ صرف سزا کا فتوی دیتے ہیں بلکہ ہر فرد کو سزا دینے کا اختیار عطا کر دیتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کا تیسرا معتدل اور ذمے دار چہرہ وہ ہے جو توہین کو بدترین گناہ اور شدید ترین جرم قرار دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں اس جرم کی تحقیق اور جرم ثابت ہونے پر سزا کانظام وضع ہو۔ جب وہ اس نظام کو عدم موجود پاتے ہیں تو ایسے معاشرے میں اس کے خوفناک نتائج سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں جہاں کفر کے فتوے عام ہیں اور کافر کافر کے باقاعدہ نعرے لگتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس قتل کی باقاعدہ خواب میں بشارت دی گئی تھی مگر یہ بشارت وزیراعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف ، متعلقہ جج یا وکیلوں کو بھی مل سکتی تھی جنہیں اللہ رب العزت نے اقتدار اور ذمے داریاں دے رکھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی مقدمے میں مخالف کا مار دیا جانا اس امر کی دلیل ہے کہ وہاں قانون اور عدالت سمیت پورا نظام ہار گیا ہے، اپنا اعتماد کھوبیٹھا ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والا شخص اگر فاتر العقل بھی تھا تب بھی عدالت سے سزا کا حقدار تھا۔ کمرہ عدالت میں جج کے سامنے ایک فرد کا دوسرے فرد کے ہاتھوں مارا جانا پوری ریاست کی ناکامی ہے جس میں عدلیہ کے ساتھ ساتھ ہمارے علمائے کرام بھی سٹیک ہولڈرز ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدھی راہ پر رکھیں۔ آمین


ای پیپر