چیئرمین سینٹ :نمبرز گیم میں سب کچھ سامنے آگیا
31 جولائی 2019 (23:22) 2019-07-31

اسلام آباد :حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک سال بعد پہلا میدان سجنے کو تیار جب چیئرمین سینٹ کیلئے حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے کھلاڑیوں کو میدان میں اتاریں گے ۔

حزب اختلاف کی جانب سے چیئرمین سینٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا چکی ہے ،ایوان بالا میں کل خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ ہو گی ،جس میں نمبر گیم پر بڑا تگڑا مقابلہ نظر آئے گا ۔

سینٹ کے اس بڑے محاذ پر حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اپنی اپنی عددی اکثریت کا دعویٰ کر رہی ہیں ۔اپوزیشن کے نامز د امیدوار نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ان کے پاس 65نمبروں کیساتھ عددی اکثریت ہے ،جبکہ شبلی فراز نے پر اعتماد انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آخری لمحے تک لڑیں گے ۔

اس وقت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر ملک سے باہر ہیں جس کے بعد اپوزیشن کو توقع ہے کہ ن لیگ کے 64 ارکان چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے،دوسری جانب حکومتی بینچز پر 36 سینیٹرز موجود ہیں جن میں سے پاکستان تحریک انصاف کے 14، سینیٹر صادق سنجرانی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے 8، سابقہ فاٹا کے 7، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 5، مسلم لیگ فنکشنل اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کا ایک ایک سینیٹر ہے۔

چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کیلئے 53لوگوں کے ووٹوں کی ضرورت ہو گی،اگر دیکھا جائے تو اپوزیشن کے پاس واضح اکثریت موجود ہے ،لیکن کل کس کا ضمیر کس کا ساتھ دیگا یہ تو کل کی ووٹنگ کے بعد ہی نظر آئے گا ۔


ای پیپر