کرپشن : کس دور میں زیادہ تھی کس میں کم ہوئی
31 جولائی 2019 2019-07-31

پاکستان میں سیاستدانوں کی کرپشن کا غلغلہ بلکہ صحیح طرح الفاظ میں شوروہنگامہ اس حد تک بپا ہے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی… سابقہ سیاسی حکمرانوں کا یہ کہہ کر رگڑا لگایا جاتا ہے ملک کا خزانہ لوٹ کر کھا گئے… منی لانڈرنگ کے ذریعے سب کچھ ملک سے باہر لے گئے… وہاں جائیدادیں بنائیں… قوم کا پیسہ چوری کیا… حکومت میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ ناجائز طریقوں سے جتنی دولت سمیٹی جا سکے اسے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک لے جائیں تاکہ وہاںیہ اور ان کی نسلیں پرتعیش زندگی گزار سکیں… اسی الزام کی پاداش میں پچھلے بیس پچیس سالوں کے دوران بار بار سول حکومتیں برطرف کی گئیں… وسط مدتی انتخابات کرائے گئے… مرضی کی حکومت آ گئی تو ٹھیک ورنہ نئی حکومت کے خلاف بھی پرانا راگ الاپنا شروع کر دیا گیا۔ اسی دوران میں مارشل لائی حکومتوں نے قوم کا خون نچوڑ کر رکھ دیا… اس کی حاکمیت اعلیٰ زخموں سے چور چور ہو کر رہ گئی… قوم کی اقتصادی حالت آج یہ ہے کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئی ہے لیکن اصل حقائق ، اعدادوشمار اور ملکی تاریخ تینوں کو سامنے رکھ کر معروضی نقطہ نظر سے جانچا اور پرکھا جائے تو اس نتیجے پر پہنچنا چنداں مشکل نہیں ہو گا کہ کرپشن کے سانپ کو حقیقی معنوں میں کون دودھ پلاتا رہا اور کس کس حکومت نے اس روگ کو بتدریج ختم کرنے کی کوشش کی… لیکن مقصود چونکہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس سرزمین پاک پر آئینی اور جمہوری حکومتوں کے قدم مضبوط ہونے پائیں اور منتخب سیاستدانوں کو اگر وہ تابع فرمان بننے سے انکار کر دیں کرپشن کے الزامات کی پاداش میں حکومت چھین لینے کے ساتھ خوار کر کے رکھ دیا جائے مگر فی الواقع کرپشن کس دور میں زیادہ ہوئی اور کس کے عہد میں رفتہ رفتہ کمی آتی گئی اس کا حقیقی جائزہ لینے کی پاکستان میں کسی کو ہمت نہیں ہوتی کیونکہ ہماری عظیم مملکت کے خداوندان کے عتاب کو مول لینا آسان کام نہیں لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی شہرت یافتہ اور ساکھ کے مالک ادارے نے اس ضمن میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے اس کی خبر ملاحظہ کریں جسے معروف رپورٹر انصار عباسی نے اپنے اخبار میں شائع کیا ہے… ان کے مطابق

’’جرمنی میں قائم بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی گزشتہ 19? برسوں کی سالانہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کرپشن عروج پر تھی لیکن ماضی کی حکومتوں کی کرپشن پر حکومت کی تحقیقات میں فوجی آمر کی حکمرانی کا دور شامل نہیں اور اس میں صرف پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے گزشتہ 10 سال شامل ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ہر سال کرپشن کی حد اور اس سے جڑے اعداد و شمار جاری کرتی ہے، اس میں دنیا بھر کے ملکوں میں جاری کرپشن کے اعداد و شمار اور تقابل دکھایا جاتا ہے اور فہرست مرتب کی جاتی ہے۔ اسی تنظیم کی رپورٹ میں مشرف دور کو پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی حکومتوں سے زیادہ کرپٹ دکھایا گیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) کی فہرست میں بتایا گیا تھا کہ 2018ء کا سال پاکستان میں کم کرپشن کا سال تھا۔ یہ نون لیگ کی حکومت، نگران حکومت اور حکومت کا سال تھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2013ء سے 2018ء تک کرپشن میں کمی کے حوالے سے پاکستان کا اسکور بہتر ہوتا گیا اور ہر سال پہلے کے مقابلے میں بہترین سال ثابت ہوا۔ تاہم، 2018ء میں پاکستان کا بہتر سے بہترین اسکور 100 میں سے 33 نمبر تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اب بھی کرپشن زیادہ تھی اور اسے اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی سی پی آئی کا 1996ء سے جائزہ لیا جائے، جب بینظیر بھٹو کا دور ِ حکومت تھا، تو یہ وہ وقت تھا جب ٹرانسپیرنسی نے پہلی مرتبہ اپنی بین الاقوامی رپورٹ میں پاکستان کا جائزہ لیا تھا اور اس میں 1996ء کے پاکستان کو کرپشن کے معاملے میں بدترین ملک قرار دیا گیا تھا اور اس کا اسکور 100 میں سے صرف 10 (1/10) تھا۔ اس کے بعد پاکستان کا دوسرا کم ترین اسکور یعنی 21 (2.1/10) 2004ء اور 2005ء میں ریکارڈ کیا گیا اور یہ پرویز مشرف ملک کے حکمران تھے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کو عموماً پاکستان کی تاریخ میں سب سے کرپٹ حکومت کہا جاتا تھا لیکن ٹرانسپیرنسی کی سالانہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں یہ اسکور 100 میں سے 24 (2.4/10) تھا جبکہ پرویز مشرف دور میں یہ اس سے بھی بدترین یعنی 21 تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیپلز پارٹی دور کا 3 پوائنٹس کا یہ فرق اسے پرویز مشرف دور کے مقابلے میں بہتر بناتا ہے۔ گزشتہ 23 سال کا سالانہ اسکور دیکھیں تو اعداد و شمار کچھ یوں ہوں گے: 1996ء میں 10، 1997ء میں 25، 1998ء میں 27، 1999ء میں 22، (2000ء کی رپورٹ نہیں)، 2001ء میں 23، 2002ء میں 26، 2003ء میں 25، 2004ء میں 21، 2005ء میں 21، 2006ء میں 22، 2007ء میں 24، 2008ء میں 25، 2009ء میں 24، 2010ء میں 23، 2011ء میں 25، 2012ء میں 27، 2013ء میں 28، 2014ء میں 29، 2015ء میں 30، 2016ء میں 32، 2017ء میں 32 اور 2018ء میں 33 اسکور، (تمام اسکورز 100 میں سے حاصل کردہ نمبرز ہیں)۔ موجودہ حکومت نے اعلیٰ اختیارات کا حامل ایک کمیشن تشکیل دیا ہے جس کی قیادت حسین اصغر کر رہے ہیں۔ اس کمیشن کا کام گزشتہ 10 سال کے دوران بڑھتے قرضوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ کمیشن میں 12 ارکان شامل ہیں جن میں قومی احتساب بیورو، آئی ایس آئی، ایف آئی اے، انٹیلی جنس بیورو، ملٹری انٹیلی جنس، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عہدیدار شامل ہیں۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی حکومت ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرے گی جو گزشتہ 10 سال کے دوران سابقہ حکومتوں کی سرمایہ کاری اور اخراجات کا فارنسک آڈٹ کریں گے۔ یہ کمیشن 2008ء سے 2018ء تک کے ترقیاتی منصوبوں، کک بیکس اور ٹھیکوں کا بھی جائزہ لے گا۔ سرکاری فنڈز کی خرد برد اور ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ پرویز مشرف دور کو بالکل نہیں چھونا‘‘۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ بیس سال کے عرصے میں ڈکٹیٹر جنرل (ر)پرویز مشرف کے آٹھ سالوں میں کرپشن کا سب سے زیادہ دور دورہ تھا… اس کے بعد پیپلز پارٹی کے 5 سالہ سویلین سالوں میں اس کا گراف 3 پوائنٹس تک نیچے آیا… اور پھر 2013ء سے 2018ء تک نوازشریف اور مسلم لیگ ن کے منتخب سالوں میں قابل ذکر حد تک کمی واقع ہوئی … یعنی اگر مشرف دور میں پاکستان کا سالانہ سکور 100 میں سے 21 نمبر تھا تو نواز عہد میں یہ بہتر ہوتے ہوتے سو میں سے 33 سکور تک جا پہنچا… اس سب کے باوجود اس حکومت کو تو رگید کر رکھ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی جا رہی… لیکن مشرف کے دور آمریت کے بارے میں کسی کو بات تو کجا اشارہ تک کرنے کی مجال نہیں… یا کسی قسم کا تحقیقاتی کمیشن اس کی مدت اقتدار کے دوران ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں بٹھانے کا والیان ریاست یا ان کے سایۂ عاطفت میں وجود میں آنے والی موجودہ حکومت نے ارادہ ظاہر کیاہے نامشرف کے کسی ساتھی کی باز پرس کی گئی ہے… نہلے پہ دہلا یہ موجودہ انتظامیہ میں پچاس فیصد وزراء اس دور آمریت کی کا بینہ میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت کو الٹا کر رکھ دینے اور اسے سزا دینے کی ایک بڑی وجہ اس کی جانب سے مشرف کے خلاف آئین پاکستان کی سنگین غداری کا مقدمہ قائم کرنا ہے… دوسرے الفاظ میں مشرف کا دور مالی کرپشن کے لحاظ سے آگے تھاہی آئینی و جمہوری حوالے سے بھی اس کی بنیاد سنگین غداری کا ارتکاب کرتے ہوئے اٹھائی گئی تھی …یوں مشرف دوہرا مجرم ہے لیکن کوئی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا… جب کرپشن کے حوالے سے اس قدر امتیازی رویہ اختیار کیا جائے گا اور اس کو محض ایک سیاسی ہتھکنڈے کے طورپر استعمال کیا جائے گا تو یہ جاننے کے لیے پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حامل ہونا ضروری نہیںکہ کرپشن ختم نہ ہو گی مگر جمہوریت کی بیخ کنی ہوتی رہے گی… کرپشن انگریز کے دور میں بھی درمیانے اور نچلے درجے کے افسروں میں پائی جاتی تھی … قائداعظمؒ نے 11 اگست والی تقریر میں اس کا بطور خاص ذکر کیا… تاہم امر واقع یہ ہے قائد کی اپنی شخصیت شفاف ترین تھی … ان کا پرلے درجے کا دشمن بھی الزام لگانا تو دور کی بات ہے اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا … اُن کے فوراً بعد بھی جن لوگوں نے پاکستان کی عنان اقتدار سنبھالی یعنی لیاقت علی خان ، خواجہ ناظم الدین ، محمد علی بوگرہ، گورنر جنرل غلام محمد، سکندر مرزا، چوہدری محمد علی، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگڑھ اور ملک فیروز خان نون ان میں سے کسی ایک کے دامن پر بھی سیاستدانوں کے اندر پائی جانے والی عمومی کمزوریوں سے قطع نظر بدعنوانی کا دھبہ نہیں تھااگرچہ نچلے درجے پر پائی جاتی تھی …فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے سبز قدموں کے ساتھ مارشل لائی ادوار کا آغاز ہوا تو بڑے بڑے سیاستدانوں کو میدان عمل سے باہر نکال پھینکے کی خاطر ان پر کرپشن کی تہمت لگا کر ایبڈو کے قانون کے تحت چھ چھ سال کے لیے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی… یوں منتخب اور سویلین افراد کو کرپشن کے جائزہ یا ناجائز الزامات کے تحت مجرم ٹھہرانے اور غیر آئینی حکمرانوں سے صرف نظر کرنے کی ریت ڈالی گئی جو آج تک پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے…انجام گلستاں کیا ہو گا …


ای پیپر