گمشدہ میراث
31 جولائی 2019 2019-07-31

کسی قول کو بغیر تحقیق کے نقل کرنا ہمارے ہاں اتنا عام ہو چکا ہے کہ کوئی شخص یہ زحمت ہی گوارا نہیں کرتا کہ اس قول کا حوالہ دیکھ لے ، اس کی سند تلاش کرے۔ محاورہ تھا‘ کاتا اور لے اُڑی ، یہاں یہ حال ہے کہ اڑتی اڑتی سنی‘اور لے کر چل دیے۔ اگر کوئی شخص کسی قول کا حوالہ طلب کرے تو لوگ اسے اپنی اہانت سمجھ لیتے ہیں۔ حدیث ِ مبارکہ میں ہے کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دے۔ سوشل میڈیا نے تحقیق کو تشکیک بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس میڈیا نے ہر شخص کو ادیب بنا دیا ہے،یہاں ہر دوسرا شخص محقق ہے اور ہر تیسرا بزعم خویش دانشور۔ پھر یوٹیوب نے اور بھی سہولت پیدا کر دی ہے، یہاں لکھنے کا جھنجھٹ بھی نہیں رہا۔ بس گھر کا سٹوڈیو ہے، بند کمرے میں کیمرے کے سامنے جو چاہے بولو، جس شعبۂ علم کی چاہے تضحیک کرو، جس کی چاہے پگڑی اچھالو، جتنا متنازعہ بیان ہوگا‘ کلک اور لائیک کی شکل میں اتنی ہی آمدن بڑھے گی۔ سوشل میڈیا ایک عجب سبزی منڈی ہے، یہاں شام سے پہلے مرجھا جانے والی ترکاری ملتی ہے، پھل اور سدا بہار پھول نہیں۔ کاغذ کا لمس اور کتاب کی بُوباس سے انسان مانوس نہیں رہا۔ انسان کاغذ سے رشتہ توڑ کر ہواؤں اور لہروں کی دوش پر چل پڑا ہے… یہاں بھی دوش اُس کی ہوا کا ہے۔

’’حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے‘‘ اس قول کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ حدیث ہے ،اور یہ حدیث بااعتبارِ متن مرفوع ہے اور بااعتبارِ راوی ضعیف۔’’مرفوع‘‘ اور ’’ضعیف‘‘ یہ دونوں اصطلاحات علم الحدیث کے اصول اور قوانین سے متعلق ہیں۔ علم الحدیث ایک ایسا خوبصورت نظام ہے کہ اس کی گہرائیوں میں اتریں تو انسانی عقل اش اش کر اٹھتی ہے۔ آج سے گیارہ سو برس قبل محققین نے اس علم کی بنیاد رکھی، انہوں نے انتہائی عرق ریزی سے احادیث کی درجہ بندی کیلئے ایک نظام ترتیب دیا، جو باقاعدہ علم کی ایک شاخ discipline کی شکل میں ایک سائینسی حیثیت اختیار کر چکا ہے، بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اب اسے ایک اصولِ تحقیق کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے۔ حدیث کا انکار کرنے کیلئے بہت ساغرور دَرکار ہوتا ہے۔ اپنے موجود علم اور عقل پر بہت زیادہ زعم حدیث کے انکار کا سبب ہوتا ہے۔ دراصل انسان الہامی کلام کی ذہنی تشریح چاہتا ہے…اور اپنی مرضی کی تشریح چاہتا ہے، لیکن اس کے راستے میں واحد رکاوٹ علم الحدیث ہے۔ اس لیے راہِ تسلیم سے فرار کا آسان طریقہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک گھڑا گھڑایا کلیشے دہرا دے ’’ او جی! تین سو سال بعد مرتب کی گئی روایات کی کیا سند ہو سکتی ہے‘‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بیان اَز خود انتہائی غلط ہے کہ احادیث کی تدوین تین سو سال کے بعد شروع ہوئی، تاریخی حقایق یہ ہیں کہ حضورِ اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ میں احادیث مرتب ہونا شروع ہو چکی تھیں، "صحیفہ ہمام ابن منبہ" دَورِ نبویؐ میں مرتب ہو چکا تھا۔ امام مالکؐ جو تابعی ہیں، انہوں نے مدینہ منورہ میں احادیث بیان اور محفوظ کرنا شروع کر دی تھیں‘ جس کا ثبوت ان کی مرتب کردہ احادیث کی کتاب "موطا امام مالک" ہے۔ تین سو برس بعد تو کچھ صالحینِِ اُمت نے دیکھا کہ مفاد پرست لوگ اپنے پاس سے احادیث گھڑ رہے ہیں اور بہت سی موضوع احادیث ( یہاں موضوع بھی علم الحدیث کی ایک اصطلاح ہے، جس کے معنی ہیں گھڑی ہوئی حدیث ) عوام الناس میں عام ہوتی جا رہی ہیں ‘ اس صورتحال کا سد باب کرنے کیلئے انہوں نے اْمت پر یہ احسان کیا کہ ایک نظام کی صورت میں ایک انتہائی حساس قسم کا فلٹر مہیا کر دیا، جس کی مدد سے درست اور غلط روایات کی تفریق ہو سکے، اور درست روایات کی سند کی پھر مزید درجہ بندی کی جا سکے۔ ذرا تصور کیجیے‘ اگر اْس دور میں یہ کام نہ ہوتا تو آج کے دَور میں درست اور غلط روایات میں تمیز کرنا کس قدر مشکل ہو جاتا۔ زیرِ نظر حدیث کے ضعیف ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے ایک راوی کی یادداشت قدرے کمزور تھی، اس کے علاوہ تمام تر راوی درجۂ استناد میں کامل تھے۔ اہلِ محبت کہتے ہیں کہ ضعیف سے ضعیف حدیث بھی مومن کے ایمان کو قوی کردیتی ہے۔

ہمارے ہاں ایک عجب رواج نے جنم لے لیا ہے، کسی شعبۂ علم کی سدھ بدھ حاصل کیے بغیر اْس پر سیر حاصل تبصرہ کرنا ہم اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ اسکول اور کالج کے زمانے میں مجھے اپنے نانا عبد الواحد نادرالقلم کی آرٹ گیلری واقع ہال روڈ میں بیٹھنے کا موقع ملتا تھا، وہاں آرٹ اور اد ب کے حوالے سے نادر شخصیات تشریف لاتیں اور علمی و ادبی گفتگو کا دَور چلتا۔ ایک مرتبہ ایک ریٹائرڈ بیورکریٹ وہاں تشریف لائے، وہ تجریدی آرٹ پر دھواں دھار تبصرہ کر رہے تھے، جس کا لب لباب یہ تھا کہ یہ کوئی آرٹ وارٹ نہیں ہے ، بس آرٹ کے نام پر ایک ڈھکوسلہ ہے۔ میرے ایک انکل (والد کے چچا زاد اور ماموں کے تایا زاد) ‘خالد آکاشؔ مرحوم پاس ہی بیٹھے چپ چاپ اپنی پینٹنگ مکمل کر رہے تھے، خالد آکاشؔ آرٹ کا ساغر صدیقی تھا … خود کو برباد اور آرٹ کو آباد کرنے والا ایک یگانہ روزگار آرٹسٹ… جب سب لوگ اس موضوع پر تبصرہ کر چکے، اور شعلۂ بیان مقرر نے داد کا خراج وصول کر لیا، تو خالد آکاشؔ نے سر اٹھایا اور ساغرؔ کی طرح دراز اور گھنی زلفوں کو اپنے ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے بولا‘ میاں صاحب! آپ نے تجریدی آرٹ پر کون سی کتاب پڑھی ہوئی ہے؟ اِتنا سننا تھا کہ اْن صاحب کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ یہ سوال کرنے کے بعد آکاشؔ اپنے کینوس کے آسمان پر پھر سے محوِ پروازہو گیا۔ اس ایک سوال میں معترض کے تمام لایعنی اعتراضات کا مکمل جواب موجود تھا۔ اسی طرح ‘ ایک مرتبہ شوبز سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک دوست ایک تقریب میں شرکت کیلئے ہم سفر ہوئے تو راستے میں کہنے لگے ‘ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ حدیث کی کتاب کیلئے ہم ’’صحیح‘‘ کا لفظ کیوں استعمال کرتے ہیں، کیا بھلا کوئی ایسی حدیث کی کتاب بھی ہوتی ہے‘ جو صحیح نہ ہو۔ دوستوں نے انہیں بہتیرا سمجھانے کی کوشش کی‘ کہ یہ ’’صحیح‘‘ اردو زبان والا لفظ صحیح نہیں ‘ جس کا الٹ غلط ہوتا ہے بلکہ یہ علم الحدیث کی ایک اصطلاح term ہے ‘ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اِس حدیث کے تمام راوی درجۂ اِستناد میں کمال پر ہیں، لیکن جناب ‘ ایں خیال است و محال است و جنوں!! وہ بھری محفل میں اپنا ’’علمی‘‘ نکتہ بیان کر گئے… عوام کو گمراہ ، اور خواص کو ناراض کر گئے!!

مترادفات کا بے جا استعمال معانی کے ابلاغ میںاشکال پید ا کر دیتا ہے۔ جب ہم درست ترجمہ کرنے میں غلطی کر جاتے ہیں ‘ تو معانی کے گوہر تک نہیں پہنچ پاتے۔ ہم نے یہاں حکمت کا مطلب محض دانائی کی بات word of wisdom سمجھ لیا ہے، حالانکہ اس کے معانی دیکھنے کیلئے ہمیں سورۃ الجمعۃ کے پہلی اور دوسری آیت سے استفادہ کرنا چاہیے۔ حدیث کا مفہوم قرآن میں ،اور قرآن کے معانی حدیث کی روشنی میں تلاش کرنے چاہیئں۔سورۃ الجمعۃ کی پہلی دو آیات کی روشنی میں مذکورہ بالاحدیث ِ پاک کا مفہوم متعین ہو جاتا ہے۔از روئے قرآن ‘ آیات (نشانیوں) کی تلاوت، کتاب (الکتاب) کا علم، تزکیۂ نفس اور حکمت … یہ چار امور مقاصد ِ بعثت ِ رسول کریمؐ ہیں۔ حکمت کی تعلیم کارِ رسالتؐ میں سے ہے، اور اس کے ساتھ تزکیہ لازم ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک غیر مزکی شخص حامل ِ حکمت نہیں ہو سکتا۔ وہ ذی عقل ہو سکتا ہے، دانا ہو سکتا، حقائق کا نکتہ دان ہو سکتا ہے…لیکن وہ عارف نہیں ہو سکتا۔ عارف اسے کہتے ہیں جو معرفت ِ نورِ محمدیؐ سے متصف ہو۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر صداقت حقیقت ہوتی ہے لیکن لازم نہیں کہ ہر حقیقت صداقت بھی ہو۔ جس طرح یہ درست ہے کہ ہر عارف عالم بھی ہوتا ہے ، لیکن ضروری نہیں کہ ہر عالم عارف بھی ہو۔ ہر ولی عارف بھی ہوتا ہے ، لیکن لازم نہیں کہ ہر عارف ولی بھی ہو۔ ولایت کا تعلق صرف تعلیم و تعلم سے نہیں بلکہ تکوینی انتظام و انصرام سے بھی ہے۔ ہر حکیم دانا بھی ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دانا حکیم (حاملِ حکمت ) بھی ہو گا۔ حکمت کیلئے رسالتؐ سے تعلق اور تمسک ضروری ہے۔ دانائی حقائق کی آگہی ہے، اور حقائق اپنے اندر inert یا سیکولر ہوتے ہیں۔دراصل دانائی کا قول اپنی اصل میں ایک حقیقت ہوتا ہے… اِسے صداقت کے میزان پر تولنا اَبھی باقی ہوتا ہے… صداقت کا تعلق ایک صادق ذات سے ہے…اور اْس ذات پر ایمان اور ایقان سے ہے۔ مومن کیلئے لازم ہے کہ وہ تلاش کرے کہ اس کی نظروں سے گمشدہ حقیقت صداقت کے کس پہلو سے برآمد ہوئی ہے، اور وہ اسے آخرکیونکہ فراموش کیے بیٹھا ہے۔ اس حدیث کا سبق یہی ہے کہ قولِِ حکمت کو واپس منبع حکمت کی طرف سمیٹ لو۔ بکھری ہوئی کرنوں کو لیکر سورج کی طرف رجوع کرو۔ ایسا نہیں کہ فری لانس صحافی کی طرح ‘ طرح طرح کے پھولوں سے رس چوسنے والے بھنورے بن جاؤ۔ مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے جو بحکمِ وحی الٰہی رنگ رنگ کے پھولوں کا رس لے کر واپس چھتے کی طرف لوٹتی ہے تاکہ شہد بنائے جو شفاء للناس ہے… ظاہری اور باطنی شفا کا باعث ہے…اور قالب اور قلب کے جملہ عوارض کیلئے شفائے کلی ہے۔

مرشدی حضرت واصف علی کا واصفؒ کا قول ہے کہ اس شخص کے علم کی تعریف نہ کرو ‘ جس کی عاقبت تم اپنے لییے پسند نہیں کرتے۔ ایک اور جگہ آپؒ لکھتے ہیں کہ علم ایک اندازِ نظر ہے، اندا ز بدل جائے تو نظارہ بدل جاتا ہے۔ یعنی علم ایک نقطہ نگاہ ہے۔ یہاں سے یہ نکتہ کھلا کہ کسی شخص کے علم سے اتفاق کرنے سے دراصل ہم اس کے زاویۂ نگاہ سے اتفاق کررہے ہوتے ہیں… اگر وہ شخص صداقت کے پلیٹ فارم پر نہیں کھڑا ‘یعنی صداقت اس کا موضوع ہی نہیں… تو ایسے میں اس کا ایک آدھ قول جو اپنے اندر کچھ دانائی لیے ہوئے ہے ‘ ہماری خرد کو چکا چوند کر سکتا ہے، اور ہم غیر محسوس طریقے سے اْس کے زاویۂ نگاہ سے متفق ہوتے ہوئے ‘ اْس کی متابعت میں راہِ حق سے دْور نکل سکتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ ہر دانائی کے قول کا صداقت سے ربط تلاش کیا جائے …اور خود سے سوال کیا جائے کہ یہ حقیقت جو دراصل میراث ِ صداقت تھی، آخر وارثین ِ صداقت سے کیونکر فراموش ہوئی۔ اقبالؒ صاحبِ حال نے اسی صورتِ حال کی بابت کہا تھا

مگر وہ علم کے موتی ‘ کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں اْن کو یورپ میں تو دِل ہوتا ہے سیپارہہ


ای پیپر