’’وسیم اکرم‘‘ کا ایک اور نو بال
31 جولائی 2019 2019-07-31

جمہوری نظام میں بہتر طرز حکمرانی یا گڈ گورننس پر زیادہ زور اس لیے دیا جاتا ہے کہ یہ معاشرتی طور پر بہتر معیار زندگی کی ضمانت ہوتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی اور اجتماعی پرفارمنس بہتر ہوتی ہے اور معاشرہ ترقی کرتا ہے ۔ کیونکہ میرٹ پر یقین رکھنے والے معاشرے میں کوئی فرد یا ادارہ دوسرے کے کام میں دخل اندازی نہیں کرتا جب ہم گڈ گورننس کی بات کرتے ہیں تو اس میں اہل سیاست یا اہل حکومت سے زیادہ بھاری ذمہ داری بیورو کریسی پر عائد ہوتی ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے مارچ 1948 ء میں چٹا گانگ اور اپریل 1948 ء میں پشاور میں اپنے تاریخی خطاب میں جو کہ سرکاری افسروں کے لیے تھا اس میں بیورو کریسی کو کہا کہ اصل گورنمنٹ آپ ہیں سیاستدان اور سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر آپ کے فرائض مستقل ہیں یہی وہ خطبات ہیں جس میںا نہیں خبر دار کیا گیا کہ اگر سیاستدان آپ کو کوئی ماورائے قانون حکم دیں تو اس کو ماننے سے انکار کر دیں خواہ آپ کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ مگر افسوس کے ہماری بیورو کریسی نے قائد اعظم کو وفات کے بعد سیاستدانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے جہاں سے ریاستی بد عنوانی کی ابتداء ہوئی ۔

گزشتہ دنوں دو واقعات ایسے ہوئے ہیں جس سے ہماری بیورو کریسی کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پہلا واقعہ اسلام آباد میں عرفان صدیقی کی ماورائے قانون گرفتاری اور پھر چُھٹی کے دن عدالت لگا کر ان کی رہائی کے احکامات جاری کرنا ہے یہ واقعہ چونکہ وفاقی دار الحکومت میں پیش آیا اور اس کا شکار ہونے والے عرفان صدیقی سابق حکومت میں وزیر اعظم کے خصوصی مشیر تھے جن کا درجہ وزیر کے برابر ہوتا ہے لہٰذا یہ جنگل کی آگ بن گیا اور حکومت کو اپنے Blunder کا احساس ہوا عرفان صدیقی رہا ہو چکے ہیں مگر حکومت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے اور حکومتی وزراء اور بالا نشیں ہر کوئی شرمندہ ہے۔

اس سلسلے کا دوسرا واقعہ جنوبی پنجاب کے دور دراز رورل ہیلتھ سنٹر شیر شاہ ضلع ملتان کا ہے جہاں تعینات سینیئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد اقبال اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان اختر کو غیر قانونی طور پر اس لیے ٹرانسفر کر دیا گیا کہ انہوں نے حکمران جماعت کے ایم پی اے حلقہ 212 سلیم اختر لابر کو پروٹوکول دینے اور ان کی سفارش پر خلاف ضابطہ میڈیکولیگل سر ٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات میں جانے سے پہلے یہ

عرض کرنا مناسب ہے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور وہ اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں جنوبی پنجاب کے ہر شخص کی جیب میں وزیر اعلیٰ صاحب کا موبائل فون نمبر ہے اور سنا ہے کہ وہ اور کسی کا فون اٹینڈ کریں نہ کریں جنوبی پنجاب والوں کی بات ضرور سنتے ہیں مگر افسوس ہے کہ ان کی ناک کے نیچے گورننس اور سیاسی مداخلت کا اتنا بڑا واقعہ ہو گیا مگر انہیں کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ اس کیس کی تفصیلات بڑی حوصلہ شکن ہیں یہ محض simple transfer کا کیس نہیں ہے۔ یہ گورننس کے لیے رونگٹے کھڑے کر دینے والا کیس ہے جسے موجودہ حکومت کے طرزِ حکمرانی کے ضمن میں ایک مثال قرار دیا جا سکتا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ قومی میڈیا میں اس واقعہ کو ابھی تک کیوں Blackout کیا گیا ہے۔

مذکورہ واقعہ کے بعد ایم پی اے سلیم اختر لابر نے ڈپٹی کمشنر ملتان پر سیاسی پریشر ڈالا کہ ان کی حکم عدولی کرنے والے ڈاکٹروں کو شیر شاہ سے اسپتال بدر کیا جائے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال ایک ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل پروفیشنل ہیں جن کے خلاف کبھی کوئی شکایت نہیں آئی اور وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ملتان کی فرض شناسی اور تیز رفتاری کا یہ عالم ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ مذکورہ ڈاکٹروں کے خلاف کوئی انکوائری کرتے انہوں ن ٹرانسفر کے احکامات جاری کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی تاکہ ان کی اپنی نوکری محفوظ رہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر ملتان سیکرٹیریٹ کے احکامات کی رو سے ٹرانسفر آرڈر جاری کرنے کے مجاز ہی نہیں ہیں۔ قواعد کی رو سے ٹرانسفر کے احکام سیکرٹری کے دفتر سے جاری ہونا لازم ہے۔ اکائونٹ آفس نے یہ حکم ماننے سے معذوری ظاہر کر دی جبکہ مذکورہ ڈاکٹرز کو Under influence استعمال کر کے چارج لے لیا گیا۔

ڈاکٹر سلیمان اختر کو جہاں بھیجا گیا وہاں میڈیکل آفیسر کی کوئی سیٹ ہی خالی نہیں ہے۔ اس ساری انتظامی پیچیدگیوں کا حل یہ نکالا گیا کہ ایم پی اے سلیم اختر لابر نے لاہور آ کر سیکرٹری ہیلتھ سے ملاقات کی اور ذرائع کے مطابق ملاقات سے پہلے وہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملے اور سیکرٹری صاحب کو بزدار صاحب سے فون کروایا کہ ان کی بات مانی جائے۔ ڈپٹی کمشنر کے غیر قانونی حکم کو Cover کرنے کے لیے سیکرٹری نے فوری طور پر ڈپٹی کمشنر کے احکامات روکنے اور ٹرانسفر منسوخ کرنے کا حکم صادر فرمایا اور پھر اگلے ہی روز اپنی طرف سے ٹرانسفر کا نیا حکم جاری کر دیا ۔ مقصد یہ تھا کہ کسی طرح سے ایم پی اے صاحب کی مجروح اناء کی تسکین کا اہتمام کیا جائے۔ ایم پی اے کو مشورہ دیا گیا کہ مذکورہ ڈاکٹروں کے خلاف کوئی انکوائری لانچ کروا دی جائے تاکہ اقدامات کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ جس ملک کا وزیر اعظم امریکہ میں جلسہ میں ایک قیدی کے کمرے کا اے سی اور ٹی وی واپس لینے کا زبانی حکم جاری کر سکتا ہے وہاں ایک ڈاکٹر کے خلاف ذاتی نا پسندیدگی کی بناء پر Arbitrary ٹرانسفر اگر وزیر اعلیٰ کے حکم سے ہو جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔

بالآخر سیکرٹری نے ایم پی اے کے نافرمانی اور بغاوت کرنے والے ڈاکٹروں کو لاہور طلبی کا پروانہ جاری کیا اور انہیں بتایا گیا ہے کہ آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے مگر ہم سیاسی قیادت کا حکم ماننے پر مجبور ہیں۔ باغی ڈاکٹروں کو یہ سہولت پیش کی گئی کہ وہ رورل ہیلتھ سنتر شیر شاہ کے علاوہ جہاں چاہیں وہاں اپنی مرضی کی تعیناتی کروالیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکام بالا سیاسی دبائو کے آگے ڈھیر ہو چکے ہیں۔

اس ساری کہانی کے پیچھے ایک اور کہانی بھی ہے ایم پی اے سلیم لابر کا ایک بھائی ڈاکٹر فہیم لابر کارڈ یالوجی اسپتال ملتان میں AMS تھا جسے موجودہ حکومت کے دور میں رولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سفارشی بناید پر ایم ایس لگایا گیا ہے اور وہ ایم پی اے کا بھائی ہونے کی وجہ سے ملتان کے تمام اسپتالوں اور ڈاکٹروں پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ ایک موقع پر مذکورہ ڈاکٹروں کو ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف سے یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ ایم پی اے کے ڈیرے پر چلے جائیں اور وہاں سے معذرت کر لیں تو پھر وہ شیر شاہ اسپتال میں رہ سکتے ہیں مگر ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ ہم نے ایسا کیا غلط کیا ہے۔ ان کے اس انکار کو بغاوت سمجھ لیا گیا۔

جب جمہوریت کے حسن کے نام پر ریاستی انتظامی ڈھانچے کی شکست و ریخت (Degeneration ) اس درجہ پر پہنچ جائے تو کوئی بھی انداز لگا سکتا ہے کہ بطور قوم یا بطور ریاست ہم کہاں جا رہے ہیں۔ بات وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی کہ اگر سرکاری افسران سیاستدانوں کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیں تو قیامت نہیں آ جائے گی۔ اگر ڈپٹی کمشنر اور سیکرٹری ڈاکٹر اقبال اور ڈاکٹر سلیمان کی طرح اصولوں پر قائم رہنے کی روش اپنا لیں تو بیورو کریسی سے کرپشن اور نا اہلی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

کیا ہمارے وزیر اعظم عمران خان اپنے چہیتے وزیر اعلیٰ پنجاب جنہیں وہ پیار سے وسیم اکرم کہتے ہیں وہ وسیم اکرم کے اس نوبال پر ان سے باز پرس کریں گے؟ ہمیں جواب کا انتظار ہے۔


ای پیپر