چلی ہے رسم کے کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
31 جولائی 2019 2019-07-31

آزادی اظہار ائے یا آزادی صحافت پر پابندی کوئی نئی بات نہیں ۔بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان سے لے کر آج تک جس نے بھی حق اور سچ کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی جابر حاکم وقت نے اسے دبانے کی کوشش کی ۔انقلابی شاعرفیض احمد فیض بھی جبر کے خلاف نعرہ حق بلند کرتے ہوئے ہی دنیا فانی سے رخصت ہوئے تھے ۔حالات بدل گئے ، وقت بدل گیا طرز حکمرانی بھی بدل چکا مگر اختلاف رائے کے خلاف عدم برداشت کا عنصر اب بھی باقی ہے ۔ عالمی تنظیم ’’ فریڈم ہاؤس ‘‘ کی جانب سے دنیا کے 199 ممالک پر مشتمل سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں آزادی صحافت گزشتہ 12برس کی نچلی ترین سطح پرپہنچ چکی ہے ۔آزادی اظہار رائے کے راستے میں حائل رکاوٹیں اپنی جگہ مگر ناکردہ گناہ کی سزا دیناکسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ دور جہالت کے بدترین جابر حکمران کا طرز عمل ہے ۔گزشتہ دورمیں پاکستانیوں اور کشمیریوں کے حقوق کے کئے آواز بلند کرنے کی پاداش میںنیو نیوز کو بند کرنا اور اب موجوہ حکومت کی جانب سے وجہ بتائے بغیر نئی بات اخبار کے اشتہارات چوتھی بار بند کرنا آمرانہ ادوار کی یاد تازہ کرنے کے مترادف ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میںتو کشمیرکی بات کرنا جرم تھا لیکن موجود حکومت نہ تو نوٹس دینا گوارا کرتی ہے اور نہ وجہ بتانا۔ نئی بات کے اشتہارات بند کرنے کی جہاں صحافتی برادری نے مذمت کی ہے وہاں ہی طلبہ ، ڈاکٹرز ، وکلاء ، تاجر رہنماؤں سمیت سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی اظہار یکجہتی کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا گیا ہے ۔سرکاری اشتہارات حکومت کی مرضی سے تقسیم کرنا ایسا ہی ہے جسیے عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی مرضی کے حلقے میں لگا دینا۔وزیر اعظم عمران خان جو ہمیشہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی قدر کرنے کا سبق پڑھاتے آئے ہیں ان کی ناک کے نیچے اخبارات کو سرکاری اشتہارات کی مشروط تقسیم افسوسناک ہے ۔موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ اشتہارات صرف ان اخبارات کو ملنے چاہیں جو حکومت کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں ،تنقید بلکل نہ کریں ، سب اچھا کی رپورٹ دیں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو کوئی جگہ نہ دیں۔حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کے صحافت کا مقصد ہی تنقید اور حکمرانوں کو صیح راہ دکھانا ہے اگر سب آپ کے پبلک ریلشنز آفیسر بن گئے تو پھر صیح اور غلط میں پہچان کرانے والا کوئی نہیں ہو گا۔نئی بات اخبار نے میدان صحافت میں قدم رکھا تو پوری قوم نے دیکھا کہ ایک ایسا اخبا ر آیا ہے جو تعلیم کی خبریںبھی دے رہا ہے اورمحکموں کی کرپشن کو بھی بے نقاب کر رہاہے ہے ۔ یہ وہ واحد اخبار ہے جہاں کسی صحافی ، کالم نگاریا لکھاری کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اخبار کی پالیسی کیاہے؟یہاں ن لیگ کے دور حکومت میں پی ٹی آئی کا 126روزہ دھرنا بھی قارئین تک پہنچایا گیا اوراورنج ٹرین جیسے منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔نئی بات نے کشمیریوں کی آواز بھی بلند کی اور فلسطین کے مظالم کو بھی پاکستانیوں تک پہنچایا ۔نئی بات اخبار جو نہ کر سکا وہ یہی تھا کہ کسی کی جھوٹی تعریف نہ ہو سکی ، کسی کو بغیر تحقیق کے مجرم نہیں ٹھہرایا گیا ، کسی کو ذاتی دشمنی کا نشانہ نہیں بنایا گیا ،اور کسی ولن کو ہیرو نہیں دکھایا گیا ۔جھوٹے کو جھوٹ لکھا اور سچ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔میں بطور صحافی اپنا ذاتی تجربہ شئیر کرتی چلوں کے جب میں نے نئی بات میڈیا نیٹ ورک کے پیٹ فارم سے شعبہ تعلیم کی بیٹ میں نیوز رپورٹنگ شرو ع کی تو ایک سرکاری جامع کی بہت بڑی خبر بمعہ دستاویزات دینا چاہی۔ خبر دیکھ کر مجھے اس وقت کے بیورو چیف نے بلا کر کہا کہ میں آپ کو خبر دینے سے تو نہیں روک سکتا (جب کہ وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں تھے) مگر آپ ایک دفع یقین دہانی کر لیں کہ مکمل ثبوت موجود ہیں کیونکہ یہ بہت بڑی خبر ہے غلط ثابت ہونے پر نوٹس ہو سکتا ہے ۔ خبر نشر کرانے کے لئے مجھے صرف اتنا کہنا پڑا کہ میرے پاس تما م دستاویزات موجود ہیں آپ فکر نہ کریں ۔ایسی چھوٹی چھوٹی کئی مثالیں موجود ہیں نئی بات میڈیا نیٹ ورک کے ساتھ کام کرتے ہوئے تقریبا5سال کو عرصہ گزارنے کے بعد مجھے آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ نئی بات کی پالیسی کیا ہے ۔جب بھی یہ سوال پوچھا گیا چئیرمین نئی بات میڈیا نیٹ ورک پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمٰن کا ایک ہی جواب تھا ـ’’ہم نے یہ میڈیا ہاؤس پاکستانیوں کی آواز بلند کرنے کے لئے بنایا ہے ۔ہم نے معاشرے کے ہیروز کو سامنے لانا ہے اور ولنز کو بے نقاب کرنا ہے ۔ہم نہ جھکیں گے نہ بکیںگے صرف سچ کہتے اور لکھتے رہیں گے۔ ــ‘‘اس پالیسی کے بعد بھی اگر کسی حکومت یا گروپ کو نئی بات اخبار کی موجودگی ناگوار گزرتی ہے تو پھر ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے ۔جب کوئی اختلاف نہیں کسی خبر پر اعتراض نہیں تو محض بغض اور ذاتی عناد کی بنا پر اشتہارات کی بندش سمجھ سے بالاترہے ۔موجودہ حکومت کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے انھیں تنقید کرنے کی عادت ہے یہ خود پر تنقید برداشت نہیں کر سکتے ۔اگر یہی وطیرہ رہا تو آنے والے وقت میں صرف ایک سٹیٹ چینل کی گنجائش رہ جائے گی کیونکہ صحافتی اداروں سے جو توقعات آپ رکھتے ہیں وہ ممکن نہیں ہیں ۔ آپ تمام میڈیا ہاؤسز کو خرید ہی کیوں نہ لیں آپ کو صرف آپ کی تقریفیں کرنے والے صحافی نہیں ملیں گے ۔آپ کو تنقید بھی برداشت کرنا ہو گی اور اختلاف رائے کا احترام بھی کرنا ہو گا ورنہ آزادی صحافت پر قدغن لگانے والے آمرانہ ادوار کی فہرست میں آپکا نام بھی شامل ہو جائے گا ۔آخر پر بقول فیض احمد فیض بات بس اتنی سی ہے کہ۔۔۔

وہ بات سارے فسانے میں جسکا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے


ای پیپر