پا کستانی و فد کا دورہ امریکہ۔۔۔کیا مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے ؟
31 جولائی 2019 (00:44) 2019-07-31

امتیاز کاظم

وزیراعظم کا دورہ ,پاک امریکہ تعلقات میں گرمجوشی کی نئی لہر

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کا بیانہ افغان امن عمل اور مسئلہ کشمیر کے حل میں کتنا معاون ثابت ہو سکے گا؟

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ہمیشہ ہی سے ڈرامائی موڑ آتے رہے ہیں۔ لیاقت علی خان کے بطور وزیراعظم پاکستان دورہ امریکہ سے لے کر عمران خان کے حالیہ دورے تک ، ہر دور میںسردمہری اور گرمجوشی کا ملا جلا ماحول ملتا ہے۔ پاکستانی وفد کے حالیہ دورہ امریکہ میں جو باتیں اہمیت کی حامل رہیں ان میں، ایران امریکہ کشیدگی، خطے میں امن، مسئلہ کشمیر ، افغانستان، دوطرفہ تعلقات اورباہمی تجارت وغیرہ شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کی جسے جہاں بہت زیادہ سراہا گیا وہیں بھارتی میڈیا میں اس پر خوب شور بھی مچا۔ اس حوالے سے بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا اور ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم عمران خان کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاکہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اُٹھائی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی کشمیر پر ثالثی سے متعلق مجھ سے بات کر چکے ہیں، مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں۔ ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا کہ افغان مسئلہ ایک ہفتے میں حل کر سکتا ہوں مگر اس کے لیے ایک کروڑ افراد مارنا پڑیں گے، میں ایسا نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کبھی جھوٹ نہیں بولتا، وہ افغانستان میں ہماری بہت مدد کر رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کی امداد تب بند ہوئی جب عمران خان وزیر اعظم نہیں تھے، اب عمران خان اقتدار میں ہیں اور انتہائی مقبول وزیر اعظم ہیں، اب پاکستان کی امداد بحال ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں 10 سے 12 گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

عمران خان نے ”فوکس نیوز“ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نہیں چاہتا۔اس کشیدگی سے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خطے کا امن اور معیشت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں، ایک ارب سے زائد آبادی والا یہ خطہ جنگوں سے پہلے ہی متاثر ہے۔

عمران خان کے دورہ پر گرمجوشی سے اس دور کی یاد تازہ ہوگئی جب امریکی صدرہیری ٹرومین نے پاکستانی وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان ریاست لوزیانا کے ہوائی ڈے پر وفد کا خود استقبال کیا، اور انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ نیویارک لایا گیا۔ سرکاری پریڈ سے سلامی ہوئی اور دوطرفہ تعلقات کی بنیاد برابری اور باعزت طریقے پر رکھی گئی۔ اس وقت چونکہ پاکستان روس کو چھوڑ کر امریکہ سے تعلقات کی بنیاد رکھ رہا تھا تو امریکہ خود کو مشرق میں موجود محسوس کر رہا تھا اور آنے والے وقت نے ان محسوسات کو عمل کی زبان بخشی۔ اب امریکہ مشرق میں ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی باس بن بیٹھا ہے۔ اس وقت امریکہ کے مفادات تھے، پھر وقت آیا جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ نے مارشل لاکو خوب چھوٹ دی جس میں ایٹمی پروگرام بھی چلتا رہا۔ روسی انخلاءکے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت نہ رہی تو جیسے ہی پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو سزا کے طور پر اُس وقت کی حکومت سے اقتدار چھین لیا گیا۔

اب امریکہ کو پھر پاکستان کی ضرورت ہے کیونکہ طالبان سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو رہے اور امریکہ ہر صورت امریکہ سے نکلنا چاہتا ہے، شاید یہ امریکی اسٹیبلشمنٹ اور جرنیلوں کی خواہش نہ ہو لیکن ٹرمپ آنے والے الیکشن کو دیکھ رہا ہے کہ جب وہ عوام کے پاس دوبارہ ووٹ کے لیے جائے تو اس کے پاس الیکشن سٹنٹ ہو کہ اُس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور امریکہ کو 18سال لاحاصل جنگ سے باعزت نکال لیا۔ جنگ کا آغاز کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن جنگ بندی ایک مشکل ترین امر ہے اور امریکہ نے جنگ کا آغاز کرتے ہوئے افغانیوں کی تاریخ سے سبق حاصل نہ کیا۔ برطانیہ جب خود کو ”گریٹ برٹن“ کہتا تھا، افغانستان پر حملہ کیا،1841ءمیں صوبہ پروان (موجودہ چاریکار) میں حملہ آور برطانوی فوج کو افغانیوں نے کچھ اس طرح شکست دی کہ صرف دو افراد ایک انگریز ڈاکٹر اور ایک ہندوستانی پنڈت رام لال کشمیری جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔اب پھر امریکہ کو طالبان کو قابو کرنے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔ امریکہ اپنی فطرت سے مجبور ہے۔ یہ ہر ملک اور ہر حکومت بلکہ ہر بندے کو ٹشوپیپر کی طرح استعمال کرتا ہے اور پھینک دیتا ہے بلکہ بھول ہی جاتا ہے کہ ”کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو“۔

افغانستان میں بھی 80ءکی دہائی کے گلدبین حکمت یار اس کی اس روش کی مثال ہے۔ ویسے تو امریکہ نے اپنے تعلقات عبدالرشید دوستم، ملاعمر، ملااختر منصور سے بھی بنا کر رکھنے کی کوشش کی لیکن حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم (افغانستان) گلبدین حکمت یار سے تو بہت ہی عمدہ تعلقات رہے۔ 80ءکی دہائی میں امریکہ نے گلبدین کو ”آزادی کا ہیرو“ اور ”فریڈم فائٹر“ جیسے خطابات سے نوازا اور پھر 1992ءتا 1996ءمیں افغانستان کو خانہ جنگی میں کابل میں ہزاروں افراد کو قتل کرنے کے الزام میں اسی گلبدین کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ اب جبکہ افغانستان میں انتخابات سر پر کھڑے ہیں تو امریکہ اور طالبان کی طرف سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آرہی۔ 1978ءسے پہلے تقریباً دو صدیوں تک یہاں پشتونوں پر پختونوں کے دُرانی قبائل کسی نہ کسی صورت حکومت سے وابستہ رہے۔ افغانستان میں اب بھی چالیس فیصد سے زائد پشتون یہ چاہیں گے کہ حکومت اُن کے پاس ہی رہے۔ اشرف غنی پشتون پس منظر نہیں رکھتے۔ 2014ءکے انتخابات میں اشرف غنی، عبدالرشید دوستم کی حمایت کے بغیر انتخابات نہیں جیت سکتے تھے لہٰذا دوستم غنی اتحاد سے غنی انتخابات جیت گئے اور دوستم کو نائب صدر بھی مقرر کر دیا لیکن بعد میں گلبدین حکمت یار سے ہاتھ ملا لیا۔ افغانستان میں دوسری اکثریت تاجکوں کی ہے جو کہ 30 فیصد سے زائد ہیں اور 2014ءکے انتخابات میں اشرف غنی 30 فیصد تاجکوں کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ تاجک اب عبداللہ عبداللہ دھڑے میں شامل ہیں جبکہ افغانستان میں 15فیصد ہزارہ بھی ہیں، ایسے میں سوال اُٹھتا ہے کہ پھر طالبان کو کس کھاتے میں گنا جائے۔ طالبان اب ہونے والے افغان انتخابات میں کس پوزیشن پر ہوں گے۔ فروری 18ءمیں اشرف غنی نے طالبان کو (یقینا امریکہ کے کہنے پر) پیشکش کی تھی کہ ”اگر طالبان ہندوکش کی اس ریاست کے 2004ءمیں منظور ہونے والے آئین کو تسلیم کر لیں اور فائر بندی کر دیں تو ان کے ساتھ نہ صرف بات چیت ہو سکتی ہے بلکہ ایسی مکالمت کی تکمیل پر تحریک طالبان کو باقاعدہ ایک سیاسی جماعت بھی تسلیم کر لیا جائے گا“ جبکہ افغانستان کے 407 اضلاع میں سے زیادہ تر پر طالبان ریٹرن کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ یہ بات امریکہ بھی جانتا ہے کہ صرف کابل پر حکومت سے پورے افغانستان پر حکومت نہیں کی جا سکتی اور اشرف غنی کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب پروفیسر عبدالرسول سیاف اور بُرہان الدین ربانی جیسے لیڈر نہیں رہے اور نہ ہی امریکہ اب ایرک پرنس والی ”بلیک واٹر“ کو استعمال کر سکے گا۔ اشرف غنی خود دیکھیں کہ ملک کے 34 صوبوں میں سے کتنے اُن کے کنٹرول میں ہیں۔ افغانوں اور طالبان کا پہلا مطالبہ ہی یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکل جائے اور امریکہ اس انخلاءکے لیے کوئی بھی واضح پالیسی بیان یا تاریخ دینے سے مکمل گریزاں ہے۔

امریکہ افغان مسئلہ پر پاکستان سے مدد اس لئے چاہتا ہے کیونکہ اسے اس بات کا احسا س ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر یہ مسئلہ پُرامن طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں ستمبر میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ دوحہ میں 70 رُکنی افغان زعماءکے وفود شرکت کر چکے ہیں جن میں امریکہ کی طرف سے زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کی طرف سے مرکزی مذاکرات کار عباس ستانکزئی نے بھی شرکت کی۔ انتخابات میں ایک ڈیڑھ ماہ باقی ہے جبکہ مذاکرات کا اُونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا، اسی لیے پاکستان کو مدد کے لیے بلایا گیا لیکن کچھ تاریخی حقائق بھی ہیں کہ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور اس پارٹی کے تعلقات ہمیشہ فوجی حکمرانوں سے بہت اچھے رہے ہیں۔ ایوب خان کا مارشل لاءلانے سے لے کر یحییٰ خان تک اور ضیاءسے لے کر مشرف تک یہی امریکی پارٹی سرگرم رہی۔ اب بھی وفد کے ہمراہ اعلیٰ فوجی قیادت شامل حال تھی۔ اس ملاقات سے امریکہ دُنیا کو چین، روس اتحاد اور اس کے پاکستان پر اثرات کو بھی کم کر کے بتانا چاہتا ہے کہ چین بے شک پاکستان کا دوست۔ سی پیک کا خالق اور پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دے رہا ہے لیکن امریکہ کی مدد کے بغیر پاکستان میں دال گلتی نظر نہیں آرہی لہٰذا ٹرمپ اپنی فطرت کے برعکس تھوڑا بیک فٹ پر جا کر پاکستان سے تعاون کرنے پر تیار ہوئے تاکہ وہ بدلے میں افغانستان میں اپنے مطلب کے نتائج حاصل کر سکیں۔

دوسری طرف افغانوں کا مزاج بھی کچھ عجیب سا ہے کہ وہ کسی غیرکی حاکمیت قبول نہیں کرتے اور آپس میں بھی کھچے کھچے سے رہتے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں کے وار لارڈز کو اپنا اَن داتا سمجھتے ہیں وقتاً فوقتاً جنگجو فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تختہ اُلٹتے رہتے ہیں۔ موجودہ جنگجو یا نہ لہر بھی سردار داﺅد سے چلتی ہے جو غیرملکی دورے پر گئے تو اُس کا تختہ اُلٹ کر ظاہرشاہ نے قبضہ کر لیا اور اب طالبان ظاہر شاہ بن رہے ہیں جبکہ امریکہ نے اپنے مخالف ملاعمر اور اس کے جانشینوں کو مروا دیا۔ ادھر مولاناسمیع الحق بھی گئے، اب شاید امریکی جمہوریت اپنا رنگ لائے۔

جہاں تک پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات کا تعلق ہے ان میں بہتری اسی وقت آ سکتی ہے جب امریکہ ہمیں اپنی نظر سے دیکھے بھارت یا افغانستان کی نظر سے نہیں۔ گزشتہ سات دہائیوں سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہت اتار چڑھاﺅ آتے رہے۔ یہ امریکہ تھا جس نے جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرائی اور یہ پاکستان تھا جس نے سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں چین سے امریکہ کے تعلقات استوار کرائے لیکن افغانستان میں روس کو شکست دینے کے بعد امریکہ نے پاکستان سے منہ موڑ لیا۔ آج وہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے اور یہ حقیقت تسلیم کرنے کے باوجود کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بیش بہا قربانیاں دے کر جنگ جیتی، امریکہ انسداد دہشت گردی میں نئی دہلی اور کابل کے ایما پر پاکستان کو تنقید کا ہدف بناتا رہتا ہے، اسے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلانے کیلئے اپنی قرارداد کا بھی پاس نہیں۔ امریکہ کو سلامتی کونسل کی قرارداد کا محرک ہونے کے ناتے بھارت پر دباﺅ ڈال کر اس قرارداد پر عمل درآمد کرانا چاہئے۔ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن امید تو بہتری کی ہی ہے۔


ای پیپر